امور داخلہ کی وزارت
داخلی امور اور تعاون کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج تریپورہ کے اگرتلہ میں نارتھ ایسٹرن اسپیس ایپلیکیشن سینٹر (این ای ایس اے سی) سوسائٹی کی 12ویں میٹنگ سے خطاب کیا
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کے خلائی شعبے نے پچھلے 10 برسوں میں نئی بلندیاں حاصل کی ہیں
این ای ایس اے سی سوسائٹی کو اپنے کام کا دائرہ شمال مشرقی ریاستوں تک بڑھانا چاہیے
این ای ایس اے سی سوسائٹی آئی ایس آر او ہیڈ کوارٹر کے دورے پر شمال مشرق کی تمام ریاستوں سے سائنس کے پس منظر سے تعلق رکھنے والے 100-100 طلباء کو ٹور کرائے
این ای ایس اے سی کی مدد سے 20 نئی آبی گزرگاہیں تیار کی گئیں، انہیں مزید وسعت دینے کے لیے نئے امکانات تلاشنے چاہئیں
شمال مشرقی ریاستوں میں معدنیات، تیل اور کوئلے کے ذخائر کی جامع نقشہ سازی کی ضرورت ہے، اس سے ملنے والی رائلٹی سے شمال مشرقی ریاستوں کو فائدہ ہوگا
ہندوستان-میانمار سرحد پر لوگوں کی بستیوں کی نقشہ سازی ہونی چاہئے، خاص طور پر ناگالینڈ، میزورم اور منی پور میں، تاکہ باڑ لگانے میں مدد مل سکے
این ای ایس اے سی سوسائٹی کو خلائی سائنس کا استعمال کرتے ہوئے جنگلات کے فروغ پر زور دینا چاہیے
شمال مشرقی ریاستوں کو انجینئرنگ کالجوں میں خلائی ٹیکنالوجی سے متعلق نئے کورس شروع کرنے چاہئیں
Posted On:
21 DEC 2024 8:32PM by PIB Delhi
داخلہ اور تعاون کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج اگرتلہ، تریپورہ میں نارتھ ایسٹرن اسپیس ایپلیکیشن سینٹر (این ای ایس اے سی) سوسائٹی کی 12ویں میٹنگ کی صدارت کی۔ اس موقع پر مواصلات اور شمال مشرقی ترقی کے مرکزی وزیر جناب جیوتی رادتیہ ایم سندھیا، تریپورہ کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مانک ساہا، آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما، منی پور کے وزیر اعلیٰ جناب این بیرن سنگھ، اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب پیما کھانڈو، سکم کے وزیر اعلیٰ پریم سنگھ تمانگ، شمال مشرقی ترقی کے مرکزی وزیر مملکت جناب سوکانت مجومدار، مرکزی داخلہ سکریٹری جناب گووند موہن، خلائی محکمہ کے سکریٹری ڈاکٹر ایس سومناتھ اور انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر جناب تپن ڈیکا، مرکزی حکومت اور شمال مشرقی ریاستی حکومتوں کے سینئر افسران اور دیگر معززین موجود تھے۔

اپنے خطاب میں جناب امت شاہ نے کہا کہ ہندوستان کے خلائی شعبے نے گزشتہ 10 برسوں میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں نئی بلندیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیساک سوسائٹی کے قیام کے 25 سال بعد اب سوسائٹی کی جانب سے کئے جانے والے کام کے مثبت پہلو نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ای ایس اے سی سوسائٹی کو ان ریاستوں میں اپنے کام کا دائرہ مزید وسیع کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ریاستی حکومتوں کو بھی ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔
جناب امت شاہ نے این ای ایس اے سی سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ تمام شمال مشرقی ریاستوں سے سائنس کے پس منظر سے تعلق رکھنے والے 100 طلباء کو خلا اور اس سے متعلقہ ٹیکنالوجی میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (آئی ایس آر او) کے صدر دفتر کا ٹور کرائے۔ انہوں نے شمال مشرقی ریاستی ترقی کی وزارت سے درخواست کی کہ وہ اس پروجیکٹ کے لیے 60 فیصد شرکت کو یقینی بنائے۔ جناب شاہ نے شمال مشرق کی ریاستی حکومتوں پر بھی زور دیا کہ وہ انجینئرنگ کالجوں میں خلائی ٹیکنالوجی سے متعلق نئے کورسز شروع کریں۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ این ای ایس اے سی کی مدد سے اب تک 20 آبی گزرگاہوں کی تعمیر میں مدد ملی ہے اور سوسائٹی کو مزید آبی گزرگاہوں کی تعمیر کے امکانات تلاش کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرقی ریاستوں میں معدنیات، تیل اور کوئلے کے ذخائر کی جامع نقشہ سازی کی ضرورت ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں کو ان معدنیات پر ملنے والی رائلٹی سے معاشی فائدہ حاصل ہوگا۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ ہندوستان-میانمار سرحد پر خاص طور پر ناگالینڈ، میزورم اور منی پور میں آباد بستیوں کی نقشہ سازی ہونی چاہئے تاکہ سرحد پر باڑ لگانے اور دراندازی کے واقعات کو فوری طور پر روکنے میں مدد مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے سرحدی علاقے میں ایک جامع سروے کرنے کی ضرورت ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ این ای ایس اے سی سوسائٹی کو خلائی سائنس کا استعمال کرتے ہوئے جنگلاتی رقبے پر زور دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے قدیم نقشوں کا تازہ ترین نقشوں سے موازنہ کرکے ضروری اقدامات کئے جائیں اور جہاں امکانات ہیں وہاں ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر درخت لگانے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ اسی طرح، وزیر داخلہ نے سوسائٹی سے شمال مشرقی ریاستوں میں سیلاب والے علاقوں کی نقشہ سازی کرنے پر بھی زور دیا۔
جناب امت شاہ نے انتظامیہ میں خلائی ٹیکنالوجی کے مناسب اور مثبت استعمال کے لیے این ای ایس اے سی سوسائٹی کی تعریف کی اور شمال مشرق جیسے مشکل جغرافیائی علاقوں کی ترقی میں مستقبل میں اس کے وسیع استعمال پر زور دیا۔ جناب شاہ نے کہا کہ این ای ایس اے سی سوسائٹی کو اپنے ریونیو ماڈل کو تیار کرنے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
***
ش ح۔ ک ا۔ع ر
U.NO.4444
(Release ID: 2087162)
Visitor Counter : 40