صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر بھارتی پروین پوار نے ’ ذہنی صحت کے سلسلے میں ادارہ جاری نظریہ سے آگے بڑھنے سے متعلق قومی کانفرنس کا افتتاح کیا


اس بدنما داغ کو ختم کرنے کےلئے انتہائی اہم ہے جو کہ  ان  افراد کو مددحاصل کرنے سے روکتا ہے جنہیں اس کی  ضرورت ہے: ڈاکٹر بھارتی پروین پوار

’’مرکزی حکومت عام ذہنی عوارض کے سستے علاج کی دستیابی اور ان تک رسائی کو فروغ دے رہی ہے‘‘

ذہنی صحت سے نمٹنے کے لیے صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، عوامی پالیسی اور سماجی معاونت کے نظام پر مشتمل ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت ہے: جسٹس ارون مشرا

Posted On: 26 JUL 2023 12:12PM by PIB Delhi

صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر بھارتی پروین پوار نے آج یہاں ’ ذہنی صحت کے سلسلے میں ادارہ جاری نظریہ سے آگے بڑھنے سے متعلق قومی کانفرنس کا افتتاح کیا ۔ اس موقع پر این ایچ آر سی کے چیئرپرسن جسٹس ارون مشرا بھی موجود تھے۔  اس  کانفرنس کا مقصدذہنی حفظان صحت کے قانون 2017 کے نفاذ میں درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کرنا اور ذہنی صحت کے مسائل کے حل کے لیے آگے بڑھنے کے راستے پر غور کرنا ہے۔

ڈاکٹر پوار نے کہا کہ ’’ذہنی صحت ہماری صحت کا ایک لازمی حصہ ہے کیونکہ یہ ہماری زندگی کے تمام پہلوؤں کو متاثر کرتی ہے۔‘‘ دماغی صحت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ’’اس بدنما داغ کو دور کرنا انتہائی اہم ہے جو افراد کو اپنی ضرورت کی مدد حاصل کرنے سے روکتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کی قیادت میں دماغی صحت کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے جس کا ثبوت ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے قانون  2017 کی منظوری سے ہوتا ہے۔

دماغی صحت اور ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے قانون   2017 کے چیلنجوں سے نمٹنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے، ڈاکٹر پوار نے کہا کہ ’’مرکزی حکومت عام ذہنی امراض کے سستے علاج کی دستیابی اور رسائی کو فروغ دے رہی ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ دماغی صحت کو مرکزی حکومت کی اہم آیوشمان بھارت اسکیم میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’قومی ٹیلی-مینٹل ہیلتھ سروس کے آغاز کے بعد سے، 42 ٹیلی-مانس سیل قائم کیے گئے ہیں جو پہلے ہی 2 لاکھ سے زیادہ کالیں ریکارڈ کر چکے ہیں‘‘۔

مرکزی وزیر نے ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے ایک نئے نمونے کی ضرورت پر زور دیا جو اداروں کی حدود سے بالاتر ہو اور کمیونٹی پر مبنی تعاون پر توجہ مرکوز کرے۔ انہوں نے ہندوستان میں ذہنی صحت کے چیلنجوں کے اہم مسائل پر غور و فکرکےلئے ممتاز شخصیات سے اپیل کی اور مستقبل کے لئے کام کرنے پر زور دیا جہاں ذہنی صحت کی دیکھ بھال قابل رسائی، سستی، جامع اور ہمدرد پر مبنی ہے۔

جسٹس ارون مشرا نے کہا کہ 10 میں سے ایک شخص ایک یا مختلف قسم کے دماغی عدم توازن کا شکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ذہنی صحت سے نمٹنے کے لیے صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، عوامی پالیسی اور سماجی معاونت کے نظام کو شامل کرنے کے لیے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔‘‘

ذہنی  مریضوں کے ساتھ ہمدردی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے ذہنی صحت کے مضبوط کیس کو پیش کیا جس طرح جسمانی صحت کو اہمیت دی ۔ انہوں نے کہا  کہ’’ہمیں دماغی صحت، منشیات کے استعمال، عام طبی دیکھ بھال اور ہسپتال اور کمیونٹی کی دیکھ بھال کو مربوط کرنےکی ضرورت ہے، جو کہ ناقص طور پر مربوط ہیں۔‘‘

جسٹس مشرا نے کہا کہ ’’ذہنی صحت کے بغیر،کوئی  صحت نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے ذہنی صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی کوششوں کو بروئے کارلانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ذہنی صحت کی تعلیم کو اپنے اسکولوں، کالجوں اور کام کی جگہوں میں شامل کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا کے ساتھ صحت مند انہ حدودکا قیام بھی ضروری ہے۔

ہندوستان میں ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے چیلنجوں کو اجاگر کرتے ہوئے، جسٹس مشرا نے ذہنی صحت کی خدمات اور تحقیق کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے مزید فنڈز اور وسائل مختص کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے دماغی صحت کے اداروں میں تفریحی سہولیات جیسے مناسب انفراسٹرکچر کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔انہوں نے پیشہ ورانہ ذہنی صحت کے کورسز کے لیے تعلیمی اداروں اور نشستوں کی تعداد بڑھانے پر زور دیا۔

تقریب کے دوران معززین کی جانب سے ’’مینٹل ہیلتھ: کنسرن فار آل – ان کاسٹ آف دی مینٹل ہیلتھ کیئر ایکٹ 2017‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب اور ’’سٹیٹس آف ایمپلی منٹیشن آف دی مینٹل ہیلتھ کیئر ایکٹ 2017‘‘ پر ایک رپورٹ کا اجراء بھی کیا گیا۔

نیشنل کانفرنس میں مینٹل ہیلتھ کیئر ایکٹ 2017 کے نفاذ میں درپیش چیلنجز پر موضوعاتی اجلاس ہوں گے ،جن کے موضوعات  ذہنی صحت کے اداروں کے بنیادی ڈھانچے اور انسانی وسائل؛ ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کے حقوق، بشمول از سر نو انضمام، بحالی اور بااختیار بنانا؛ اور دماغی صحت، بین الاقوامی تناظر اور آگے بڑھنے کی اہم دیکھ بھال میں تازہ ترین رجحانات پر مشتمل ہوں گے ۔

این ایچ آر سی کے سکریٹری جنرل  اجناب بھرت لال، این ایچ آر سی کے ممبر جناب  راجیو جین، ، رکن، این ایچ آر سی ڈاکٹر ڈی ایم مولے ، سابق ممبر، این ایچ آر سی جسٹس ایم ایم کمار،   این ایچ آر سی کے جوائنٹ سکریٹری جناب ڈی کے نیم، این جی او کے نمائندے اور ایم او ایچ ایف ڈبلیو اور این ایچ آر سی کے سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔

 

*******

 

 

ش ح ۔ ح ا ۔ ف ر

U. No.7530

 



(Release ID: 1942747) Visitor Counter : 101