صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

ہندوستان کی جی20صدارت:صحت سے متعلق ورکنگ گروپ کی تیسری میٹنگ


ہندوستان کی ڈیجیٹل اشیاء دنیا کے لیے ہیں۔ ہندوستان کا ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ اور صلاحیتیں، عالمی اقتصادی ترقی اور انسانی ترقی کو فعال بنانے والی ہیں: ڈاکٹر وی کے پال، رکن، نیتی آیوگ

عالم جنوب کی آواز کی حثیت سے، ہندوستان، عالمی صحت کی کوریج میں مدد کرنےکے لیے، ڈیجیٹل حل اور اختراعات کو فروغ دے کر، ڈیجیٹل صحت کی تقسیم کو کم کرنے کے تئیں پرعزم ہے: ڈاکٹر وی کے پال

Posted On: 05 JUN 2023 2:44PM by PIB Delhi

’’ہندوستان کی ڈیجیٹل اشیاء دنیا بھرکے لیے ہیں۔ ہندوستان کا ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ اور صلاحیتیں، عالمی اقتصادی ترقی اور انسانی ترقی کو فعال بنانے والی ہیں‘‘۔ یہ بات نیتی آیوگ کے رکن (صحت)ڈاکٹر وی کے پال نے، جی 20 ہندوستان کی صحت سے متعلق ورکنگ گروپ کی میٹنگ کے دوسرے روز ’ڈیجیٹل صحت اختراعات اور عالمی صحت کی کوریج میں مدد کرنےکے لیے حل اور صحت دیکھ بھال کی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے‘ کے موضوع پر آج تلنگانہ کے شہر حیدرآبادمیں منعقدہ اجلاس میں کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کہی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0026NGR.png

ڈیجیٹل صحت کے میدان میں ہندوستان کی قیادت پر روشنی ڈالتے ہوئے، ڈاکٹر پال نے کہا کہ ’’بھارت عالم جنوب کی آواز کے طور پر، عالمی صحت کی کوریج میں مدد کے لیے ڈیجیٹل حل اور اختراع کو فروغ دے کر ڈیجیٹل صحت کی تقسیم کو کم کرنے کے تئیں پرعزم ہے‘‘۔ ڈیجیٹل انڈیا کے وزیر اعظم کے ایک اقتباس کو دہراتے ہوئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’میں ایک ڈیجیٹل انڈیا کا خواب دیکھتا ہوں جس میں معیاری صحت کی دیکھ بھال ای-ہیلتھ کیئر سے چلنے والے دور دراز علاقوں تک قابل رسائی ہو‘‘، ڈاکٹر پال نے مزید کہا کہ اس یقین کے لیے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیاں، صحت کی عالمی کوریج کے حصول اور صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، صحت سےمتعلق ورکنگ گروپس میں ہونے والی بات چیت نے، ہماری رہنمائی کی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003BVG8.png

ڈاکٹر پال نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ڈیجیٹل صحت، صحت کی دیکھ بھال کی خدمات تک رسائی کے ذریعے، لوگوں کو ان کے مقام اور سماجی و اقتصادی حیثیت سے قطع نظر ٹیلی میڈیسن اور موبائل ایپلیکیشن جیسے اقدامات کے ذریعے، عالمی سطح پر صحت کی کوریج کو فعال بناتا ہے۔ یہ متعدد نظاموں کے ذریعے، فراہم کنندگان، نظاموں، مریضوں، پالیسی سازوں اور اسی طرح کے شراکت داروں کےدرمیان صحت کی معلومات، بغیر کسی رکاوٹ کے تبادلے کے ذریعے، عالمی صحت کی کوریج کی سہولت فراہم کرتا ہے‘‘۔ ڈیجیٹل اقدامات کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے، ڈاکٹر پال نے آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ریاستی حکومت، مرکزی حکومت، لیبارٹریوں، بیمہ فراہم کرنے والے، ہیلتھ ٹیک کمپنیوں، ڈاکٹروں، این جی اوز کے پروگرام مینیجروں، دیگرشراکت داروں کو ایک ساتھ مقام پر یکجاکرتا ہے تاکہ شہریوں اس کوشش کےمرکزمیں رکھا جاسکے‘‘۔

ڈیجیٹل صحت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے، ڈاکٹر پال نے سب پر زور دیا کہ وہ یونیورسل ہیلتھ کوریج کے لیے ڈیجیٹل ہیلتھ میں عالمی انقلاب کا حصہ بنیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ’’آئیے ایک ایسی دنیا کا تصور کریں جہاں ڈیجیٹل ہیلتھ ٹولز اور خدمات کا ایک جامع پیکیج سب کے لیے قابل رسائی ہو، جہاں 2035 تک ڈیجیٹل صحت سب کے لیے دستیاب ہو‘‘۔

اجلاس کے دیگر اہم مقررین میں گلوبل ڈویلپمنٹ، بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کےصدر ڈاکٹر کرسٹوفر الیاس ڈیجیٹل صحت اور اختراعات کے محکمہ، ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر اور ڈاکٹر ایلین لیبریک، شامل تھے۔

ڈاکٹر کرسٹوفر الیاس نے جی 20 پریزیڈنسی میں ڈیجیٹل ہیلتھ کو ایک ترجیح کے طور پر شامل کرنے کی تعریف کی اور کہا کہ ’’شاملیت، مساوات اور قابل برداشت اس ترجیح کے کلیدی اصول ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ٹیکنالوجی، خاص طور پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، عالمی صحت کی کوریج کے تئیں پیش رفت کو تیز کرنے اور صحت کی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دنیا نے ڈیجیٹل صحت کی نمایاں رفتار اور ڈیجیٹل ہیلتھ ٹولز کی ترقی کا مشاہدہ کیا ہے جس کا کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک نے گزشتہ دہائی میں اور خاص طور پر حالیہ کوویڈ وبائی بیماری کے آغاز کی وجہ سے اسکا تجربہ کیا ہے‘‘۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر الین لیبریک نے کہا کہ ’’جب ہم ڈیجیٹل ہیلتھ کے بارے میں بات کرتے ہیں، تو ہم بنیادی صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو مضبوط بنانے، عالمی صحت کی کوریج کو بہتر بنانے، اور فیصلہ سازی اور وسائل کی تقسیم کے لیے بروقت اور متعلقہ ڈیٹا کی بات کر رہے ہیں۔ سب سے اہم، ہم مساوات کے بارے میں بات کر رہے ہیں تاکہ کوئی پیچھے نہ رہے۔ ڈیجیٹل صحت، صحت کے عالمی اہداف کو حاصل کرنے کا ایک ثابت شدہ راستہ ہے‘‘۔

ڈیجیٹل صحت کی اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ وبائی مرض نے بہت سی حکومتوں کو ڈیجیٹل تجربات سے ڈیجیٹل تبدیلی کی طرف جانے کے لیے متحرک کیا ہے۔ ڈیجیٹل صحت کی سطح پر عالمی اقدام ،سرمایہ کاری کو بہتر بنانے، تعمیراتی بلاکس تک رسائی کو جمہوری بنانے اور ملک کو درکار ردعمل کو بہتر بنانے کے لیے کھیل کا میدان بناتا ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ عالمی صحت کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن ناگزیر ہے نیز اس کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’کیا یہ اس طرح سے ہوتا ہے جو معیار، کارکردگی، مساوات اور شمولیت کو یقینی بناتا ہے، اس کا انحصار ہم پر ہو گا کہ ہم ایک گروپ کے ساتھ مل کر چلتے ہیں‘‘۔جی20صدارت کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں ایک گروپ کے طور پر حکمت عملی سے سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ یہ اب تمام رکن ممالک کے لیے دستیاب اسنادی صحت کی معلومات کے سرحد پار تبادلے کو قابل بنائے گا‘‘۔

انڈونیشیا اور برازیل کے ٹرائیکا کے اراکین نے، صحت کے عالمی محور میں ڈیجیٹل ہیلتھ کو ایک طاقتور ٹول کے طور پر سراہا اور کہا کہ ڈیجیٹل صحت جامع اور قابل رسائی صحت کی دیکھ بھال کے قابل بنانے والی تبدیلی کی پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہے۔ انہوں نے رکن ممالک اور اہم شراکت داروں کے ساتھ تعاون کی سفارش کی اور عالمی ڈیجیٹل ہیلتھ نیٹ ورک کے اصولوں کو اپنانے کے لیے ممالک کی حمایت اور رہنمائی میں، بین الاقوامی تنظیم کی شرکت پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ علاقوں میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی کو فروغ دینے، ڈیجیٹل خواندگی اور تعلیم کو فروغ دینے اور سب کے لیے ڈیجیٹل صحت کے حل تک رسائی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

مرکزی صحت سکریٹری جناب راجیش بھوشن نے جی 20 ہندوستان کی صدارت کی تین صحت کی ترجیحات پر روشنی ڈالی اور شرکت کرنے والوں کے تعاون کی ستائش کی۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ اگلی وبا ہمارے لیے عالمی معاہدہ کرنے کا انتظار نہیں کرے گی، انہوں نے کہا کہ ’’وقت کی ضرورت ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اگلی وبا ہمیں مناسب طور پر تیار دیکھے کیونکہ اربوں جانیں اور ذریعہ معاش خطرے میں پڑ جائے گا، ہم عجلت کے احساس کے ساتھ کام کرنا چاہیے‘‘۔ انہوں نے تمام شراکتداروں پر زور دیا کہ وہ ایک ساتھ آئیں اور ’ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل‘ کے لیے کام کریں، جو کہ ہندوستان جی20 صدارت کا موضوع ہے۔

صحت کی تحقیق کےمحکمہ کےسیکریٹری اور آئی سی ایم آرکےڈی جی ڈاکٹر راجیو بہل؛ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) کی سی ای او جی کملا وردھنا راؤ، وزارت خارجہ میں ایڈیشنل سکریٹری اور ہندوستان کی جی20 صدارت کے سوس شیرپاجناب ابھے ٹھاکر، صحت اور خاندانی بہبودکی وزارت میں ایڈیشنل سکریٹری جناب لاو اگروال، صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری محترمہ ہیکالی زیمومی، سرکاری افسران، جی 20 کے رکن ممالک کے نمائندے، خصوصی مدعو ممالک، بین الاقوامی تنظیمیں، فورمز اور ڈبلیو ایچ او، ورلڈ بینک، ڈبلیو ای ایف وغیرہ جیسے شراکت دار نیز مرکزی حکومت کے سینئر افسران بھی اجلاس کے لیے موجود تھے۔

*****

U.No.5835

(ش ح - اع - ر ا)   



(Release ID: 1930025) Visitor Counter : 130