وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav g20-india-2023

نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن کاربن کے کم اخراج والی معیشت کی جانب بڑی تبدیلی کے لئے سہولت فراہم  کرائے گا ؛ہندستان نے سال 2030 تک پانچ ایم ایم ٹی کے سالانہ پروڈکشن  کاہدف مقرر کیا


توانائی کی منتقلی اور نیٹ زیرو مقاصد حاصل کرنے کے لئےترجیحاتی سرمایہ کاری کے لئے 35 ہزار کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز

ماحولیاتی اعتبا ر سے پائیدار اور جوابدہ کارروائی  کو تحریک دینے کے لئے گرین کریڈٹ پروگرام نوٹیفائی کیا جائے گا

متبادل فرٹیلائزرس کو فروغ دینے اور کیمیکل فرٹیلائزرس کے متوازن استعمال کے مقصد سے پی ایم –پرنام

گوبردھن اسکیم کے تحت ’فضلےسے دولت مندی‘ کے 500 نئے پلانٹ قائم کرنے کی تجویز ، جس کے لئے 10 ہزار کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ کاری کی جائے گی

ویٹ لینڈ ایکو سسٹم کےتحفظ میں مقامی آبادیوں کی اقدار  کو فروغ دینے  کے لئے امرت دھروہر اسکیم

Posted On: 01 FEB 2023 1:04PM by PIB Delhi

آج پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 24-2023 پیش کرتے ہوئے خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے کہا ’’ہندستان ایک سبز صنعتی اور اقتصادی دور میں داخل ہونے کے لئے 2070 تک پنچ امرت اور نیٹ زیرو کاربن اخراج کی جانب پختہ عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے‘‘۔ ماحولیاتی اعتبار سے بیدار طرز زندگی کی ایک تحریک شروع کرنے کے مقصد سے ’لائف‘یا ماحولیات کے لئے طرز زندگی کے ویژن پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ بجٹ ’گرین گروتھ‘ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تیار کیا گیا ہے جو کہ امرت کال کے دوران ہماری رہنمائی کرے گا۔

گرین ہائیڈروجن مشن

حال ہی میں اعلان شدہ نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن کا ذکر کرتے ہوئے  وزیر خزانہ نے کہا کہ  یہ مشن کم کاربن کےاخراج والی معیشت کی جانب منتقلی اور فوسل فیو ل  کی درآمدات پر انحصار کو کم کرنے کے لئے سہولت فراہم کرائے گا۔  انہوں نے کہا کہ ’’یہ ٹکنالوجی اختیار کرنے اور  اس ابھرتے ہوئے شعبے میں ملک کو بازار کی قیادت کے لئے  بھی کرے گا۔‘‘

محترمہ سیتا رمن نے اعلان کیا کہ ہندستان کا  سال 2030 تک پانچ ایم ایم ٹی کے سالانہ پروڈکشن تک پہنچنے کا ہدف ہے۔

توانائی کی منتقلی اور ذخیرہ کےپروجیکٹ

وزیر خزانہ نے پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت  کے ذریعہ توانائی کی منتقلی اور نیٹ زیرو مقاصد اور توانائی کے تحفظ کے لئے ترجیحات سرمایے کی سرمایہ کاری  کے واسطے 35 ہزار کروڑ روپےمختص کرنے کی تجویز پیش کی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ   4ہزار ایم ڈبلیو ایچ صلاحیت والے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کے واسطے قابل عمل گیپ فنڈنگ کی مدد فراہم کرائی جائے گی۔  پائیدار ترقی کے راستے پر  معیشت کو آگے بڑھانے کے لئے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا  ’’پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹوں کے لئے ایک مفصل  خاکہ بھی تیار کیا جائے گا۔‘‘

قابل تجدید توانائی کا انخلا

لداخ سے 13 جی ڈبلیو قابل تجدید توانائی  کے انخلا اور گرڈ انٹی گریشن کے لئے 20700 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سےبین ریاستی منتقی نظام کی  تجویز پیش کی گئی ہے  جس میں8300کروڑ روپےکی مرکزی امداد شامل ہے۔  

گرین کریڈٹ پروگرام

وزیرخزانہ نے تجویز  پیش کی کہ کمپنیوں  افراد اور مقامی اداروں کے ذریعہ ماحولیاتی اعتبار سے پائیدار  اور جوابدہ کارروائیوں کوتحریک دیتے ہوئے رویے  میں تبدیلی کی حوصلہ افزائی کے واسطے ماحولیات کے تحفظ کے قانون کے تحت ایک گرین کریڈٹ پروگرام  نوٹیفائی کیا جائے گا۔ انہوں نےکہا ’’یہ  ایسی سرگرمیوں کے لئے اضافی وسائل حاصل کرنے میں مدد کرے گا  ۔

پی ایم –پرنام

متبادل فرٹیلائر ز کو فروغ دینے اور کیمیکل فرٹیلائزرس کے  متوازن استعمال کےلئے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کو تحریک دینے کے واسطے ’مادر ارض  کی بحالی ، بیداری ، پرورش اور اس کو بہتر بنانے کے لئے پی ایم پروگرام (پی ایم-پرنام)شروع کیا جائے گا ۔

گوبردھن اسکیم

سرکلر معیشت کو فروغ دینے کے لئے گوبردھن (گلوینائزنگ آرگینک بائیو ایگرو ریسورسیز دھن) اسکیم  کے تحت ’فضلے سے دولتمندی‘  کے 500 نئے پلانٹ  قائم کئےجانے کی تجویز ہے۔ ان میں 200 کمپریسڈ بائیو گیس (سی بی جی)پلانٹس شامل ہیں۔ جن میں سے 75 پلانٹ شہر ی علاقوں میں   اور 300 کمیونٹی یا کلسٹر پر مبنی پلانٹ ہوں گے۔جس کے لئے 10 ہزار کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

بلینڈیڈ کمپریسڈ  قدرتی گیس پر زیادہ ٹیکسوں  سے بچنے کے لئے جی ایس ٹی پیڈ سی بی جی پر ایکسائز ڈیوٹی سے  چھوٹ کی بھی تجویز ہے۔  

وزیر خزانہ نے قدرتی  اور بائیو گیس کی مارکیٹنگ کرنے والی تمام تنظیموں کے لئے صحیح وقت پر پانچ فی صد سی بی جی مینڈیٹ شروع کرنے کی ایک تجویز کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ’’بائیو ماس جمع کرنے اور بائیو مینیور کی تقسیم کے لئے مناسب مالیاتی   مدد فراہم کرائے جائے گی۔‘‘

بھارتیہ پراکرتک کھیتی بائیو-ان پٹ ریسورس سینٹرس

دس ہزار بائیو ان پٹ ریسورس سینٹر ز قائم کرنے اور اس کے ذریعہ ملکی سطح   پرتقسیم شدہ مائیکر و فرٹیلائزر اور  پیسٹی سائیڈمینوفیکچرنگ نیٹ ورک تیار کرنے کی تجویز کا اعلان کرتے ہوئے وزیر خزانہ نےکہا کہ’’آئندہ تین برسوں میں ہم  قدرتی زراعت اختیا رکرنے کے لئے ایک کروڑ کسانوں کو سہولت فراہم کرائیں گے۔ ‘‘

مشٹی

جنگلات لگانے میں ہندستان کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ ایم جی این  آر جی ایس ،کیمپا فنڈ اور دیگر وسائل کے تال میل کے ذریعہ جہاں کہیں قابل عمل ہو ساحل سمندر اور سالٹ پین لینڈز کے ساتھ ساتھ مینگروکی شجر کاری کے لئے ’مینگروانیشیٹیو فار شور لائن ہیبی ٹیٹس اینڈ ٹیجیبل انکمز ‘کو شروع کیا جائے گا۔

امرت دھروہر

ویٹ لینڈ ایکو سسٹم کے تحفظ میں مقامی آبادیوں کی اہمیت  پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر خزانہ نے امرت دھروہر اسکیم کا بھی اعلان کیا جو ان کی منفرد تحفظ کی اقدار کو فروغ دے گی۔  ویٹ لینڈز کے زیادہ سے زیادہ استعمال اور حیاتیاتی تنوع  ، کاربن اسٹاک ، ایکو ٹورازم  کےمواقع میں اضافے  اور مقامی آبادیوں کے لئے آمدنی پیدا کرنے  کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ اسکیم آئندہ تین برسوں میں نافذ کی  جائے گی۔

 

.*****

 

 ش ح۔ ا گ  ۔ ج

UNO-1072



(Release ID: 1895374) Visitor Counter : 71