وزیراعظم کا دفتر

وزیراعظم کے 29 جنوری 2023 کو ’من کی بات‘ کی 97ویں قسط کے خطاب کا متن

Posted On: 29 JAN 2023 11:43AM by PIB Delhi

نئی دلی،29 جنوری، 2023 /

میرے پیارے ہم وطنو، نمسکار!

یہ 2023 کی پہلی 'من کی بات' ہے اور اس کے ساتھ یہ پروگرام کی 97ویں کڑی بھی ہے۔ آپ سب کے ساتھ ایک بار پھر بات چیت کرتے ہوئے مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ ہر سال جنوری کے مہینے میں کافی واقعات پیش آتے ہیں۔  اس مہینے، 14 جنوری کے آس پاس، شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک پورے ملک میں تہواروں کی رونق چھائی رہی ۔  ملک نے اپنا یوم جمہوریہ بھی مناتا ہے۔ اس بار بھی یوم جمہوریہ کی تقریبات کے کئی پہلوؤں کی خوب تعریف کی جا رہی ہے۔ جیسلمیر سے پلکت نے مجھے لکھا ہے کہ 26 جنوری کی پریڈ میں کرتویہ پتھ بنانے والے مزدوروں کو دیکھ کر بہت اچھا لگا۔  کانپور سے جیا لکھتی ہیں کہ انہیں پریڈ میں شامل جھانکیوں میں بھارتی ثقافت کے مختلف پہلوؤں کو دیکھ کر بہت لطف آیا۔  خواتین اونٹ سواروں اور سی آر پی ایف کے خواتین دستے کی، جس نے پہلی بار اس پریڈ میں حصہ لیا، کا بھی ستائش کی جا رہی ہے۔

دوستو، دہرادون سے وتسل جی نے مجھے لکھا ہے کہ میں ہمیشہ 25 جنوری کا انتظار کرتا ہوں کیونکہ اس دن پدم ایوارڈز کا اعلان ہوتا ہے اور ایک طرح سے، 25 کی شام 26 جنوری کے لیے میرے جوش و خروش کو بڑھاتی ہے۔  بہت سے لوگوں کو دیئے جانے والے پدم ایوارڈ کے بارے میں اپنے خیالات کو بھی شیئر کیا ہے جنہوں نے بنیادی سطح پر اپنی لگن اور خدمات کے ذریعے یہ ایوارڈ حاصل کیا۔ اس بار پدم ایوارڈ پانے والوں میں قبائلی برادری اور قبائلی زندگی سے وابستہ لوگوں کو اچھی نمائندگی ملی ہے۔ قبائلی زندگی شہروں کی ہلچل سے بہت مختلف ہوتی ہے۔ اس کے چیلنجز بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود قبائلی معاشرے اپنی روایات کو برقرار رکھنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔  قبائلی برادریوں سے متعلق پہلوؤں کے تحفظ اور تحقیق کے لیے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح ٹوٹو، ہو، کوی، کوی اور منڈا جیسی قبائلی زبانوں پر کام کرنے والی بہت سی عظیم شخصیات کو پدم ایوارڈ سے نوازا گیا ہے ۔ یہ ہم سب کے لیے فخر کی بات ہے۔ دھنی رام ٹوٹو، جنم سنگھ سویا اور بی رام کرشن ریڈی جی… اب پورا ملک انہیں جان چکا ہے۔ سدھی، جاراوا اور اونگے جیسے قبائلیوں کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کو بھی اس بار اعزاز سے نوازا گیا ہے۔  جیسے… ہیرا بائی لوبی، رتن چندر کار اور ایشور چندر ورما جی۔ قبائلی برادریاں ہماری سرزمین، ہمارے ورثے کا اٹوٹ حصہ رہی ہیں۔ ملک اور معاشرے کی ترقی میں ان کا کردار بہت اہم ہے۔ ان کے لیے کام کرنے والی شخصیات کو عزت افزائی  سے نئی نسل کو بھی حوصلہ ملے گا۔ اس سال پدم ایوارڈز کی بازگشت ان علاقوں میں بھی سنائی دے رہی ہے جو پہلے نکسلیوں متاثر ہوا کرتے تھے۔  ان کی کوششوں کی وجہ سے نکسلیوں سے متاثرہ علاقوں میں گمراہ نوجوانوں کو صحیح راستہ دکھانے والوں کو پدم ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ اس کے لیے کانکیر میں لکڑی کی نقاشی کرنے والے اجے کمار منڈاوی اور گڈچرولی کی مشہور جھاڑی پٹی رنگ بھومی سے وابستہ پرشورام کوماجی کھنے کو بھی یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔  اسی طرح، رامکویوانگبے نیومے، بکرم بہادر جماعتیہ اور کرما وانگچو کو، جو شمال مشرق میں اپنی ثقافت کے تحفظ میں مصروف ہیں، بھی اعزاز سے نوازا گیا ہے۔

دوستو، اس بار پدم ایوارڈز سے نوازے جانے والوں میں موسیقی کی دنیا میں زبردست تعاون کرنے والے کئی لوگ شامل ہیں۔  موسیقی کس کو پسند نہیں؟ موسیقی کے لیے ہر ایک کا انتخاب مختلف ہو سکتا ہے، لیکن موسیقی ہر ایک کی زندگی کا حصہ ہے۔ اس بار پدم ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں وہ لوگ شامل ہیں جو ہماری موسیقی کے روایتی آلات جیسے سنتور، بمہم، دوی تارا کی دھن میں مہارت رکھتے ہیں۔ غلام محمد زاز، ماؤ سو-پونگ، ری-سنگھبور کورکا-لانگ، مونی وینکٹپا اور منگل کانتی رائے ان چند ناموں میں شامل ہیں جن کا ہر طرف چرچا ہے۔

دوستو، بہت سے پدم ایوارڈ یافتہ ہمارے درمیان ایسے دوست ہیں، جنہوں نے ہمیشہ ملک کا سر فخر سے بلند کیا ، اور  اپنی زندگیوں کو ’’قوم پہلے‘‘ کے اصول کے لیے وقف کیا۔  وہ اپنے کام میں پوری لگن سے مصروف رہے اور اس کے بدلے کسی اجر کی امید نہ رکھی۔ جن کے لیے وہ کام کر رہے ہیں ان کے چہرے پر اطمینان ہی ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔  ایسے سرشار لوگوں کی عزت افزائی کر کے ہم وطنوں کا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔  میں یہاں تمام پدم ایوارڈ یافتہ افراد کے نام تو نہیں لے سکتا، لیکن میں آپ سے ضرور گزارش کرتا ہوں کہ ان پدم ایوارڈ یافتہ افراد کی متاثر کن زندگی کے بارے میں تفصیل سے جانیں اور دوسروں کو بھی بتائیں۔

دوستو، آج جب ہم آزادی کے امرت مہوتسو کے دوران اپنے یوم جمہوریہ پر بات کر رہے ہیں تو میں یہاں ایک دلچسپ کتاب کا بھی ذکر کروں گا۔  اس کتاب میں ایک بہت ہی دلچسپ موضوع پر بات کی گئی ہے جو مجھے چند ہفتے قبل موصول ہوئی تھی۔  اس کتاب کا نام ہے انڈیا - دی مدر آف ڈیموکریسی اور اس میں کئی بہترین مضامین ہیں۔  بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور ہم بھارتیوں کو اس بات پر بھی فخر ہے کہ ہمارا ملک جمہوریت کی ماں ہے۔  جمہوریت ہماری رگوں میں ہے، یہ ہماری ثقافت میں ہے - یہ صدیوں سے ہمارے کام کا اٹوٹ حصہ رہی ہے۔  فطرتاً ہم ایک جمہوری معاشرہ ہیں۔  ڈاکٹر امبیڈکر نے بودھ بھکشو یونین کا موازنہ بھارتی پارلیمنٹ سے کیا تھا۔ انہوں نے اسے ایک ایسا ادارہ قرار دیا جہاں تحریکوں، قراردادوں، کورم، ووٹنگ اور ووٹوں کی گنتی کے بہت سے اصول تھے۔  بابا صاحب کا خیال تھا کہ بھگوان بدھ کو اس وقت کے سیاسی نظام سے تحریک ملی ہوگی۔

تمل ناڈو میں ایک چھوٹا لیکن مشہور گاؤں ہے - اترمیرور۔ یہاں 1200-1100 سال پرانا ایک کتبہ ہے جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔  ایک پتھر پر لکھا یہ کتبہ ایک چھوٹے آئین کی طرح ہے۔  اس میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ گرام سبھا کا انعقاد کیسے ہونا چاہیے اور اس کے اراکین کے انتخاب کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے۔  ہمارے ملک کی تاریخ میں جمہوری اقدار کی ایک اور مثال 12ویں صدی کے بھگوان بسویشور کا انوبھو منڈپم ہے۔  یہاں آزادانہ بحث ومباحثہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔  آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ یہ میگنا کارٹا سے بھی کافی پہلے کا ہے۔  ورنگل کے کاکتیہ خاندان کے بادشاہوں کی جمہوری روایات بھی بہت مشہور تھیں۔ بھکتی تحریک نے مغربی بھارت میں جمہوریت کے کلچر کو آگے بڑھایا۔  کتاب میں سکھ پنتھ کے جمہوری جذبے پر ایک مضمون بھی شامل کیا گیا ہے جو گرو نانک دیو جی کے اتفاق رائے سے لیے گئے فیصلوں پر روشنی ڈالتا ہے۔  اس کتاب میں وسطی بھارت کے اوراون اور منڈا قبائل میں کمیونٹی پر مبنی اور اتفاق رائے سے چلنے والے فیصلہ سازی کے بارے میں بھی اچھی معلومات ہیں۔  اس کتاب کو پڑھنے کے بعد آپ کو محسوس ہوگا کہ کس طرح صدیوں سے ملک کے ہر حصے میں جمہوریت کی روح رواں ہے۔  جمہوریت کی ماں ہونے کے ناطے ہمیں اس موضوع پر مسلسل گہرائی سے سوچنا چاہیے، اس پر بحث کرنی چاہیے اور دنیا کو بھی مطلع کرنا چاہیے۔  اس سے ملک میں جمہوریت کا جذبہ مزید مضبوط ہوگا۔

میرے پیارے ہم وطنو، اگر میں آپ سے پوچھوں کہ یوگا ڈے اور ہمارے مختلف قسم کے موٹے اناج - جوار میں کیا مشترک ہے، تو آپ سوچیں گے… یہ کیا موازنہ ہے؟ اگر میں یہ کہوں کہ دونوں میں بہت کچھ مشترک ہے تو آپ حیران رہ جائیں گے۔  حقیقت، اقوام متحدہ نے بھارت کی تجویز کے بعد یوگا کے بین الاقوامی  دن اور موٹے اناج کا بین الاقوامی دن منانے کا فیصلہ کیا ہے۔  دوسری بات یہ کہ یوگا کا تعلق صحت سے بھی ہے اور جوار بھی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تیسری چیز زیادہ اہم ہے - دونوں مہمات میں عوامی شرکت کی وجہ سے انقلاب آنے والا ہے۔ جس طرح لوگوں نے بڑے پیمانے پر فعال حصہ لے کر یوگا اور فٹنس کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے۔ اسی طرح لوگ بڑے پیمانے پر جوار کو اپنا رہے ہیں۔  لوگ اب باجرے کو اپنی خوراک کا حصہ بنا رہے ہیں۔  اس تبدیلی کا بہت بڑا اثر بھی نظر آرہا ہے۔  ایک طرف، چھوٹے کسان جو روایتی طور پر باجرا پیدا کرتے تھے، بہت پرجوش ہیں۔ وہ بہت خوش ہیں کہ دنیا اب باجرے کی اہمیت کو سمجھنے لگی ہے۔  دوسری طرف، ایف پی اوز اور تاجروں نے باجرے کی مارکیٹنگ اور انہیں لوگوں تک پہنچانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔

آندھرا پردیش کے نندیال ضلع کا رہنے والا کے وی راما سبا ریڈی جی نے باجرے کی خاطر اچھی تنخواہ والی نوکری چھوڑ دی۔  اپنی والدہ کے ہاتھوں سے بنائے گئے باجرے کا ذائقہ ایسا تھا کہ انہوں نے اپنے گاؤں میں باجرا پروسیسنگ یونٹ شروع کیا۔  سبا ریڈی جی لوگوں کو باجرے کے فوائد بھی بتاتے ہیں اور اسے آسانی سے دستیاب بھی کراتے ہیں۔ مہاراشٹر کے علی باغ کے قریب کناڈ گاؤں کی رہنے والی شرمیلا اوسوال گزشتہ 20 سالوں سے باجرے کی پیداوار میں منفرد انداز میں اپنا تعاون دے  رہی ہیں۔ وہ کسانوں کو اسمارٹ زراعت کی تربیت فراہم کر رہی ہے۔  ان کی کوششوں سے نہ صرف باجرے کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے بلکہ کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اگر آپ کو چھتیس گڑھ کے رائے گڑھ جانے کا موقع ملے تو آپ کو یہاں ملٹس کیفے ضرور جانا چاہیے۔  چند ماہ قبل شروع ہونے والے اس ملیٹس کیفے میں چِلا، ڈوسا، موموز، پیزا اور منچورین جیسی اشیا بہت مقبول ہو رہی ہیں۔

کیا میں آپ سے ایک اور بات پوچھ سکتا ہوں؟ آپ نے لفظ انٹرپرینیور تو سنا ہوگا، لیکن کیا آپ نے میلیٹ پرینیورس سنا ہے؟ ان دنوں اوڈیشہ کے میلیت پرینیور سرخیوں میں ہیں۔ قبائلی ضلع سندر گڑھ کی تقریباً 1500 خواتین کا ایک خود امدادی گروپ اوڈیشہ ملیٹس مشن سے وابستہ ہے۔ یہاں خواتین باجرے سے لے کر کوکیز، رسگلہ، گلاب جامن اور یہاں تک کہ کیک وغیرہ بھی بنا رہی ہیں۔  مارکیٹ میں ان کی بہت زیادہ مانگ کی وجہ سے خواتین کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

الند بھوتائی ملیٹس فارمرز پروڈیوسر کمپنی نے گزشتہ سال کرناٹک کے کلبرگی میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ملٹس ریسرچ کی نگرانی میں کام شروع کیا۔  لوگ یہاں کے کھاکرا، بسکٹ اور لڈو  بہت پسند کر رہے ہیں۔  کرناٹک کے بیدر ضلع میں، ہلسور ملیٹ پروڈیوسر کمپنی سے وابستہ خواتین جوار کی کاشت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا آٹا بھی تیار کر رہی ہیں۔ اس کے ذریعے ان کی آمدنی میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔  قدرتی کھیتی سے وابستہ چھتیس گڑھ کے سندیپ شرما کے ایف پی او میں 12 ریاستوں کے کسان شامل ہوئے ہیں۔  بلاس پور کا یہ ایف پی او 8 قسم کے موٹے اناجوں کا آٹا اور ان کے پکوان تیار کر رہا ہے۔

دوستو، آج بھارت کے کونے کونے میں جی -20 سربراہی اجلاس کی تقریبات جاری ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ ملک کے کونے کونے میں جہاں بھی جی -20 سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے، اس میں جوار سے تیار کردہ غذائیت سے بھرپور اور لذیذ پکوان شامل ہیں۔ باجرے کی کھچڑی، پوہا، کھیر اور روٹی کے ساتھ ساتھ راگی پر مبنی پیاسم، پوری اور ڈوسا جیسے پکوان بھی یہاں پیش کیے جاتے ہیں۔  جی 20 کے تمام مقامات پر جوار کی نمائشوں میں صحت سے متعلق مشروبات، اناج اور جوار سے بنائے گئے نوڈلز کی نمائش کی گئی۔ دنیا بھر میں بھارتی مشن بھی اپنی مقبولیت بڑھانے کے لیے بہت کوششیں کر رہے ہیں۔  آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ملک کی یہ کوشش اور دنیا میں جوار کی بڑھتی ہوئی مانگ ہمارے چھوٹے کسانوں کو تقویت دینے والی ہے۔  یہ دیکھ کر مجھے خوشی ہوتی ہے کہ آج کل موٹے اناجوں سے مختلف قسم کی نئی چیزیں بننا شروع ہو گئی ہیں جو نوجوان نسل میں یکساں طور پر پسند کی جا رہی ہیں۔  میں 'من کی بات' کے سننے والوں کو موٹے اناجوں کے بین الاقوامی دن کی اتنی شاندار آغاز اور اسے مسلسل آگے بڑھانے کے لیے بھی مبارکباد دیتا ہوں۔

میرے پیارے ہم وطنو، جب کوئی سیاحوں کے مرکز گوا کے بارے میں بات کرتا ہے تو آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے؟

 قدرتی طور پر، جیسے ہی گوا کا نام لیا جاتا ہے؛ سب سے پہلے، خوبصورت ساحل، ساحل اور پسندیدہ کھانے کی اشیاء ذہن میں آتے ہیں۔ لیکن اس مہینے گوا میں کچھ ایسا ہوا، جو سرخیوں میں ہے۔ آج 'من کی بات' میں، میں یہ آپ سب کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔  یہ واقعہ گوا - پرپل فیسٹ میں پیش آیا۔  اس فیسٹیول  کا اہتمام پانا جی میں 6 سے 8 جنوری تک کیا گیا تھا۔  دیویانگوں کی فلاح و بہبود کے لیے یہ اپنے آپ میں ایک منفرد کوشش تھی۔  پرپل فیسٹیول کتنا بڑا موقع تھا، آپ سب اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس میں ہمارے 50 ہزار سے زیادہ بھائی بہنوں نے شرکت کی۔  یہاں آنے والے لوگ اس حقیقت کے بارے میں بہت پرجوش تھے کہ اب وہ 'میرامار بیچ' کا بھرپور لطف اٹھا سکتے ہیں۔  درحقیقت، 'میرامار بیچ' ہمارے دیویانگ بھائیوں اور بہنوں کے لیے گوا کے قابل رسائی ساحلوں میں سے ایک بن گیا ہے۔  یہاں کرکٹ ٹورنامنٹ، ٹیبل ٹینس ٹورنامنٹ، میراتھن مقابلے کے ساتھ ساتھ ایک بہرے اور نابینا افراد کے کنونشن کا بھی انعقاد کیا گیا۔  منفرد برڈ واچنگ پروگرام کے علاوہ یہاں ایک فلم بھی دکھائی گئی۔  اس کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے، تاکہ ہمارے تمام دیویانگ بھائی بہن اور بچے اس سے بھرپور لطف اندوز ہوسکیں۔

پرپل فیسٹیول کی ایک خاص بات اس میں ملک کے نجی شعبے کی شرکت تھی۔  ان کی جانب سے دیویانگوں دوست مصنوعات کی نمائش کی گئی۔  دیویانگوں کی فلاح و بہبود کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے اس فیسٹیول میں بہت سی کوششیں دیکھنے میں آئیں۔  پرپل فیسٹ کو کامیاب بنانے کے لیے، میں اس میں حصہ لینے والے تمام لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔  اس کے ساتھ میں ان رضاکاروں کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں، جنہوں نے اس کو منظم کرنے کے لیے دن رات کام کیا۔  مجھے پورا بھروسہ ہے کہ ایسی مہمات قابل رسائی بھارت کے ہمارے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں بہت کارآمد ثابت ہوں گی۔

میرے پیارے ہم وطنو، اب 'من کی بات' میں میں ایک ایسے موضوع پر بات کروں گا، جس میں آپ کو خوشی اور فخر محسوس ہوگا اور آپ کا دماغ کہے گا - واہ کیا بات ہے! ملک کے قدیم ترین سائنسی اداروں میں سے ایک، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، بنگلور، یعنی آئی آئی ایس سی، ایک شاندار مثال پیش کر رہا ہے۔  'من کی بات' میں، میں نے پہلے کہا تھا کہ کس طرح بھارت کی دو عظیم شخصیاتوں جمشید جی ٹاٹا اور سوامی وویکانند اس ادارے کے قیام کے پیچھے محرک رہے ہیں اور ہمارے لیے خوشی اور فخر کی بات یہ ہے کہ سال 2022 میں اس ادارے کے نام کل 145 پیٹنٹ ہو چکے ہیں۔  اس کا مطلب ہے - ہر پانچ دن میں دو پیٹنٹ۔  یہ ریکارڈ اپنے آپ میں حیرت انگیز ہے۔  میں اس کامیابی پر آئی آئی ایس سی کی ٹیم کو بھی مبارکباد دینا چاہوں گا۔  دوستو، آج بھارت کی درجہ بندی پیٹنٹ فائلنگ میں 7ویں اور ٹریڈ مارکس میں 5ویں نمبر پر ہے۔ صرف پیٹنٹ کی بات کریں تو پچھلے پانچ سالوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گلوبل انوویشن انڈیکس میں بھی بھارت کی رینکنگ میں زبردست بہتری آئی ہے اور اب وہ 40ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے، جب کہ 2015 میں بھارت گلوبل انوویشن انڈیکس میں 80ویں پوزیشن سے بھی پیچھے تھا۔  میں آپ کو ایک اور دلچسپ بات بتانا چاہتا ہوں۔  بھارت میں گزشتہ 11 سالوں میں پہلی بار گھریلو پیٹنٹ فائلنگ کی تعداد غیر ملکی فائلنگ سے زیادہ دیکھی گئی۔  یہ بھارت کی بڑھتی ہوئی سائنسی صلاحیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

دوستو، ہم سب جانتے ہیں کہ 21ویں صدی کی عالمی معیشت میں علم سب سے اہم ہے۔  مجھے یقین ہے کہ بھارت کے ٹیک ایڈ کا خواب یقینی طور پر ہمارے اختراع کاروں اور ان کے پیٹنٹ کی طاقت سے پورا ہوگا۔  اس کے ساتھ  ہی ہم اپنے ملک میں تیار کردہ عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اور مصنوعات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے۔

میرے پیارے ہم وطنو، میں نے نمو ایپ پر تلنگانہ کے انجینئر وجے جی کی ایک پوسٹ دیکھی۔  اس میں وجے جی نے ای ویسٹ کے بارے میں لکھا ہے۔ وجے جی درخواست کرتے ہیں کہ میں 'من کی بات' میں اس پر تبادلہ خیال کروں۔  اس سے پہلے بھی اس پروگرام میں ہم 'ویسٹ ٹو ویلتھ' یعنی 'کچرے سے کنچن' کے بارے میں بات کر چکے ہیں، لیکن آئیے، آج اس سے متعلق ای ویسٹ پر بات کرتے ہیں۔

دوستو! آج موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ جیسے آلات ہر گھر میں عام ہو چکے ہیں۔  ان کی تعداد ملک بھر میں اربوں میں ہوگی۔ آج کے جدید ترین آلات بھی مستقبل کا ای ویسٹ ہیں۔ جب بھی کوئی نیا ڈیوائس خریدتا ہے یا کسی کی پرانی ڈیوائس کو تبدیل کرتا ہے تو یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہو جاتا ہے کہ آیا اسے صحیح طریقے سے ضائع کیا گیا ہے یا نہیں۔ اگر ای ویسٹ کو صحیح طریقے سے ٹھکانے نہ لگایا جائے تو یہ ہمارے ماحولیات کے لیے نقصادن دہ ہو سکتا ہے۔ لیکن، اگر یہ کام احتیاط سے کیا جائے، تو یہ ری سائیکل اور دوبارہ استعمال کی سرکلر معیشت کی ایک بڑی قوت بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہر سال 50 ملین ٹن ای ویسٹ پھینکا جاتا ہے۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتنا؟ اگر بنی نوع انسان کی تاریخ میں بنائے گئے تمام تجارتی طیاروں کا وزن بھی ملایا جائے تو یہ ای ویسٹ کی مقدار کے برابر نہیں ہوگا۔ یہ ایسا ہے جیسے ہر ایک سیکنڈ میں 800 لیپ ٹاپ پھینکے جا رہے ہیں۔ آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ اس ای ویسٹ سے تقریباً 17 قسم کی قیمتی دھاتیں مختلف عمل کے ذریعے نکالی جا سکتی ہیں۔  اس میں سونا، چاندی، تانبا اور نکل شامل ہیں، اس لیے ای ویسٹ کا استعمال 'کچرے کو کنچن' بنانے سے کم نہیں ہے۔ آج ایسے اسٹارٹ اپس کی کمی نہیں ہے جو اس سمت میں اختراعی کام کررہے ہیں۔  اس وقت تقریباً 500 ای ویسٹ ری سائیکلرز اس شعبے سے وابستہ ہیں اور بہت سے نئے کاروباری افراد بھی اس سے منسلک ہو رہے ہیں۔  اس شعبے نے ہزاروں لوگوں کو براہ راست روزگار بھی دیا ہے۔ بنگلورو کا ای پرسارا ایسی ہی ایک کوشش میں مصروف ہے۔ اس نے پرنٹڈ سرکٹ بورڈز سے قیمتی دھاتیں نکالنے کے لیے ایک دیسی ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔

 اسی طرح ممبئی میں کام کرنے والی ایکو ریکو نے موبائل ایپ کے ذریعے ای ویسٹ کو جمع کرنے کا ایک نظام تیار کیا ہے۔  اتراکھنڈ کے روڑکی میں اٹیرو ری سائیکلنگ نے دنیا بھر میں اس شعبے میں کئی پیٹنٹ حاصل کیے ہیں۔ اس نے اپنی ای ویسٹ ری سائیکلنگ ٹیکنالوجی تیار کرکے بہت سارے ایوارڈز بھی حاصل کیے ہیں۔ بھوپال میں ایک موبائل ایپ اور ویب سائٹ 'کباڑی والا' کے ذریعے ٹن ای ویسٹ جمع کیا جا رہا ہے۔  ایسی بہت سی مثالیں ہیں۔ یہ سب بھارت کو عالمی ری سائیکلنگ کا مرکز بنانے میں مدد کر رہے ہیں۔  لیکن، اس طرح کے اقدامات کی کامیابی کے لیے ایک لازمی شرط بھی ہے - یعنی لوگوں کو ای ویسٹ کو ٹھکانے لگانے کے محفوظ مفید طریقوں کے بارے میں آگاہ کرنا ہوگا۔  ای ویسٹ کے شعبے میں کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ فی الحال ہر سال صرف 15 سے 17 فیصد ای ویسٹ کو ہی ری سائیکل کیا جا رہا ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو، آج پوری دنیا میں موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے بارے میں بہت بات ہو رہی ہے۔  ہم اس سمت میں بھارت کی ٹھوس کوششوں کے بارے میں مسلسل بات کر رہے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر بھی بہت خوشی ہوگی کہ بھارت نے اپنی آبی زمینوں کے لیے کیا کیا ہے۔ کچھ سامعین سوچ رہے ہوں گے کہ گیلی زمینیں کیا ہیں؟ 'ویٹ لینڈ سائٹس' سے مراد وہ جگہیں ہیں جہاں دلدلی مٹی جیسی زمین پر سال بھر پانی جمع رہتا ہے۔ کچھ دنوں بعد، 2 فروری کو، یہ عالمی ویٹ لینڈ ڈے  منایا جائے گا۔ ویٹ لینڈز یا آبی ذخائر ہماری زمین کے وجود کے لیے بہت اہم ہیں، کیونکہ بہت سے پرندے اور جانور ان پر انحصار کرتے ہیں۔  حیاتیاتی تنوع کی افزودگی کے ساتھ، وہ سیلاب پر قابو پانے اور زمینی پانی کے ریچارج کو بھی یقینی بناتے ہیں۔  آپ میں سے بہت سے لوگ جانتے ہوں گے کہ رامسر سائٹس ایسی آبی ذخائر ہیں جس کی بین الاقوامی اہمیتہے۔ ویٹ لینڈز کسی بھی ملک میں ہو سکتی ہیں۔ لیکن انہیں بہت سے معیارات پورے کرنے ہوں گے۔ تب ہی انہیں رامسر سائٹس قرار دیا جاتا ہے۔ رامسر سائٹس میں 20,000 یا اس سے زیادہ آبی پرندے ہونے چاہئیں۔ مقامی مچھلیوں کی بڑی تعداد کا ہونا ضروری ہے۔ امرت مہوتسو کے دوران آزادی کے 75 سال پر، میں رامسر سائٹس سے متعلق کچھ اچھی معلومات آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ اب ہمارے ملک میں رامسر سائٹس کی کل تعداد بڑھ کر 75 ہو گئی ہے، جب کہ 2014 سے پہلے ملک میں صرف 26 رامسر سائٹس تھیں۔ اس کے لیے مقامی کمیونٹی مبارکباد کی مستحق ہے، جنہوں نے اس حیاتیاتی تنوع کو محفوظ رکھا ہے۔ یہ ہماری قدیم ثقافت اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کی روایت کو بھی خراج تحسین ہے۔  بھارت کی یہ آبی ذکائر بھی ہماری قدرتی صلاحیت کی ایک مثال ہیں۔  اڈیشہ کی چیلکا جھیل 40 سے زیادہ آبی پرندوں کی انواع کو پناہ دینے کے لیے جانی جاتی ہے۔  کائبول –لامجا، لوکتک کو دلدلی ہرن کا واحد قدرتی مسکن سمجھا جاتا ہے۔

تمل ناڈو کے ویدانتھنگل کو 2022 میں رامسر سائٹ قرار دیا گیا تھا۔ یہاں پرندوں کی آبادی کو محفوظ رکھنے کا سارا سہرا آس پاس کے کسانوں کے سر جاتا  ہے۔ کشمیر میں پنجات ناگ برادری سالانہ پھلوں کے پھلنے کے تہوار کے دوران گاؤں کے موسم بہار کی صفائی میں خاص طور پر ایک دن گزارتی ہے۔ زیادہ تر ورڈز رامسر سائٹس کا بھی ایک منفرد ثقافتی ورثہ ہے۔ منی پور کی ثقافتوں کا لوکتک اور مقدس جھیل رینوکا سے گہرا تعلق ہے۔ اسی طرح سامبھر کا تعلق شکمبھری دیوی سے بھی ہے، جو ماں درگا کے اوتار ہیں۔  بھارت میں آبی ذخائر کی توسیع رامسر سائٹس کے آس پاس رہنے والے لوگوں کی وجہ سے ممکن ہے۔  میں 'من کی بات' کے سننے والوں کی طرف سے ایسے تمام لوگوں کی بہت ستائش کرتا ہوں، اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔

میرے پیارے ہم وطنو، اس بار ہمارے ملک میں، خاص کر شمالی بھارت میں سخت سردی تھی۔ اس سردی میں لوگوں نے پہاڑوں پر برف باری کا بھی مزہ لیا۔  جموں و کشمیر سے کچھ ایسی تصویریں سامنے آئیں جنہوں نے پورے ملک کے دل موہ لیے۔  سوشل میڈیا پر دنیا بھر سے لوگ ان تصاویر کو پسند کر رہے ہیں۔ برف باری کی وجہ سے ہماری وادی کشمیر ہر سال کی طرح اس بار بھی بہت خوبصورت ہو گئی ہے۔ لوگ خاص طور پر بانہال سے بڈگام جانے والی ٹرین کی ویڈیو کو بھی پسند کر رہے ہیں۔ خوبصورت برف باری، چاروں طرف برف جیسی سفید چادر۔  لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ منظر پریوں کی کہانی لگتا ہے! بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ کسی بیرونی ملک کی نہیں، ہمارے اپنے ملک کے کشمیر کی تصویریں ہیں۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا - 'اس جنت سے زیادہ خوبصورت اور کیا ہوگا؟' یہ بالکل درست ہے- اسی لیے کشمیر کو زمین پر جنت کہا جاتا ہے۔ یہ تصاویر دیکھ کر آپ بھی کشمیر کی سیر پر جانے کا سوچ رہے ہوں گے۔  میں چاہوں گا کہ آپ خود وہاں جائیں اور اپنے دوستوں کو ساتھ لے جائیں۔ کشمیر میں برف پوش پہاڑ، قدرتی حسن کے ساتھ؛ دیکھنے اور جاننے کے لیے اور بھی بہت سی چیزیں ہیں۔ مثال کے طور پر، کشمیر کے سید آباد میں سرمائی کھیلوں کا انعقاد کیا گیا۔  ان گیمز کا تھیم تھا - اسنو کرکٹ! آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اسنو کرکٹ ایک بہت ہی دلچسپ کھیل ہو گا - اور آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔

کشمیری نوجوانوں نے برف میں کرکٹ کو مزید حیرت انگیز بنا دیا۔  اس کے ذریعے کشمیر میں نوجوان کھلاڑیوں کی بھی تلاش ہے، جو بعد میں ٹیم انڈیا کے طور پر کھیلیں گے۔  ایک طرح سے یہ کھیلو انڈیا تحریک کی توسیع بھی ہے۔ کشمیر میں نوجوانوں میں کھیلوں کے حوالے سے کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ آنے والے وقتوں میں ان میں سے بہت سے نوجوان ملک کے لیے تمغے جیتیں گے، اور ترنگا لہرائیں گے۔  میں تجویز کروں گا کہ اگلی بار جب آپ کشمیر کے دورے کا ارادہ کریں تو اس طرح کے پروگراموں کو دیکھنے کے لیے وقت نکالیں۔ یہ تجربات آپ کے سفر کو مزید یادگار بنا دیں گے۔

میرے پیارے ہم وطنو، اپنی جمہوریہ کو مضبوط بنانے کی ہماری کوششوں کو مسلسل جاری رہنا چاہیے۔ جمہوریت 'عوامی شرکت سے'، 'سب کی کوشش سے'، 'ملک کے تئیں اپنے فرائض کی انجام دہی سے' مضبوط ہوتی  ہے، اور مجھے اطمینان ہے کہ ہماری 'من کی بات' ایسے فرض شناس لوگوں کی  مضبوط آواز ہے۔ ہم اگلی بار ایسے ہی سرشار لوگوں کی دلچسپ اور متاثر کن کہانیوں کے ساتھ پھر ملیں۔

بہت بہت شکریہ!

 ................

ش ح ۔ وا ۔ اع

U – 956



(Release ID: 1894467) Visitor Counter : 256