خلا ء کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav g20-india-2023

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ پچھلے 5سال کے دوران  اسرو نے اپنے تجارتی شعبوں کے ذریعہ 19 ملکو ں کے 177 بیرونی سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ کئے ہیں


ان 177 بیرونی سیٹلائٹس کی لانچنگ کے ذریعہ جنوری 2018سے نومبر 2022 تک تقریباََ  94  ملین امریکی ڈالر اور 46  ملین یورو  کا بیرونی زر مبادلہ حاصل کیا گیا

غیر سرکاری اداروں کے فروغ  اور امداد کے لئے سنگل ونڈو  ایجنسی‘ان –اسپیس ’ کی تشکیل سے  اسٹارٹ اپ برادری میں زبردست دلچسپی پیداہوئی ہے اور اب تک ‘ ان –اسپیس ’ ڈجیٹل پلیٹ فارم  پر  ایک سو گیارہ  (111)  اسپیس  اسٹارٹ اپس کا رجسٹریشن کیا جاچکا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

Posted On: 15 DEC 2022 12:46PM by PIB Delhi

سائنس  اور ٹکنالوجی ،زمینی سائنس کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج ) ، وزیر اعظم کے دفتر ،عملے ،عوامی شکایات ، پنشن ، ایٹمی توانائی اور خلاء کے وزیر مملکت  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا ہے کہ اسرو  نے پچھلے  5 برسو ں  کے دوران  اپنے  تجارتی شعبے کے ذریعہ  19  ملکوں سے تعلق رکھنے والے 177 بیرونی سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ کئے ہیں۔

راجیہ سبھا میں  ایک سوال کا تحریر ی  جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے  کہا کہ جنوری  2018 سے نومبر  2022 تک   اسرو نے آسٹریلیا ، برازیل  ،کنیڈا  ، کولمبیا ،فن لینڈ ، فرانس  ،اسرائیل ، اٹلی ، جاپان ، لتھوینیا ، لگژمبرگ ، ملیشیا ، نیدر لینڈ ،  جمہوریہ کوریا،سنگاپور ،اسپین ،سویٹزر لینڈ ، برطانیہ اور امریکہ جیسے ملکوں  سے تعلق رکھنے والے 177 بیرونی سیٹلائٹ کو  تجارتی معاہدے کے تحت  پی ایس ایل وی اور  جی ایس ایل وی – ایم کے 3کے ذریعہ  کامیابی سے لانچ کیا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ  نے بتایا کہ جنوری  2018 سے  نومبر  2022 کے دوران   ان 177 بیرونی سیٹلائٹس   کو لانچ کرکے  تقریباََ 94 ملین  امریکی ڈالر   اور 46 ملین یور و   کا زر مبادلہ حاصل کیا گیا ہے۔

خلاء سے متعلق اصلاحات کے موضوع  پر   ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس سیکٹر میں   جون  2020 میں  بڑی اصلاحات  کا اعلان کیا گیا تھا ،جس کا مقصد  اس سیکٹر میں  غیر سرکاری اداروں  کی شرکت کو بڑھانا  اور خلائی سرگرمیوں  کے لئے ایک تجارتی طریقہ کار  تیار کرنا ہے   اور یہ سارے اقدامات عالمی خَلائی معیشت میں  ملک کی حصہ داری  کو بڑھانا  ہے ۔

ان اصلاحات کا نتیجہ ایل وی ایم 3 کے ذریعہ 36 ون ویب سیٹلائٹس  کالانچ اور حال ہی میں  ایک بھارتی پرائیویٹ ادارے   میسرز  اسکائی روٹ ایرو اسپیس کے ذریعہ   ذیلی مدار   کے لئے لانچ  کی شکل میں  سامنے ا؁ٓیا ہے جو اپنی نوعیت کا پہلا لانچ تھا۔

اس کے علاوہ  شروع سے آخر تک خلائی سرگرمیوں میں غیرسرکاری اداروں   کے فروغ اور امداد کے لئے ‘ ان –اسپیس ’ نامی سنگل ونڈو ایجنسی کے قیام سے  اسٹارٹ اپ برادری میں  شاندار دلچسپی ظاہرہوئی ہے اور اب تک ‘ان-اسپیس ’ ڈجیٹل پلیٹ فارم  پر 111 اسپیس اسٹارٹ اپس  کا اندراج کیا جاچکا ہے۔

پچھلے 5 برسوں کے دوران  حکومت نے  خلائی پروگرام کو مستحکم کرنے اور اسے  نئی اونچائیوں تک  پہنچانے کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں۔ خلائی نظاموںکی تیاری اور استعمال میں  قابل قدر پیش رفت حاصل کی گئی ہے ، جو  زمینی مشاہدے ،سیٹلائٹ  مواصلات  اور خلائی سائنس   کو فائدہ  پہنچا رہے ہیں۔ اس عرصے کے دوران  آپریشنل  لانچ گاڑیوں   کی کامیاب پروازوں  ، ان کی تیاری اور استعمال  اور مستقبل کی  لانچ گاڑیوں کے لئے  اہم ٹکنالوجی  عناصر  کی جانچ  وغیرہ  کی گئی ہے۔

*************

ش ح۔وا ۔ رم

U-13849



(Release ID: 1883702) Visitor Counter : 107