ایٹمی توانائی کا محکمہ

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت صاف توانائی کی منتقلی کے اپنے وعدے کو پورا کرنے کے لیے 300 میگاواٹ تک کی صلاحیت کے ساتھ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (ایس ایم آر) بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے


وزیر موصوف نے نجی شعبے اور اسٹارٹ اپس پر زور دیا کہ وہ بھارت کے اندر اس اہم ٹکنالوجی کو تیار کرنے کی جستجو کریں

ایس ایم آر سے لاگت اور تعمیراتی وقت میں نمایاں بچت ہوتی ہے اور یہ حرکت پذیر اور چست ہونے کے علاوہ صنعتی ڈی کاربونائزیشن میں ایک امید افزا ٹکنالوجی ہے:  ڈاکٹر جتیندر سنگھ

Posted On: 27 NOV 2022 1:46PM by PIB Delhi

 سائنس اور ٹکنالوجی کے مرکزی کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)؛ ارتھ سائنسز کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)؛ پی ایم او، پرسنل، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ بھارت صاف توانائی کی منتقلی کے اپنے وعدے کو پورا کرنے کے لیے 300 میگاواٹ تک کی صلاحیت کے ساتھ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (ایس ایم آر) تیار کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

نیتی آیوگ اور محکمہ ایٹمی توانائی کے زیر انعقاد چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (ایس ایم آر) پر منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کے اندر اس اہم ٹکنالوجی کی ترقی میں نجی شعبے اور اسٹارٹ اپس کی شرکت کی جستجو کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایس ایم آر ٹیکنالوجی کی تجارتی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا اشتراک اور فنڈز کی دستیابی دو اہم کڑیاں ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/SMR1YRWQ.jpg

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ صاف توانائی کے نئے متبادلات کی تلاش وزیر اعظم مودی کے جرات مندانہ آب و ہوا کے وعدوں کے ذریعے صاف توانائی کی منتقلی کے روڈ میپ سے ہم آہنگ ہے جس کی عکاسی ہماری تازہ ترین نیشنلی ڈٹرمنڈ کنٹری بیوشنز (این ڈی سی) سے ہوتی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نشاندہی کی کہ جیسا کہ ہم نے پہلے ہی غیر فوسل مبنی توانائی کے وسائل کی رسائی اور 2070 تک خالص صفر حاصل کرنے کے ساتھ صاف توانائی کی منتقلی کے لیے اقدامات کیے ہیں، بیس لوڈ پاور کے لحاظ سے جوہری ڈی کاربونائزیشن کی حکمت عملی میں ایک بڑا کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس تناظر میں نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا کے لیے صاف توانائی کی منتقلی کے لیے جوہری توانائی کا کردار اہم ہوگا۔

چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (ایس ایم آر)، اپنی نوعیت میں 300 میگاواٹ کی صلاحیت کے ساتھ ڈیزائن میں لچکدار ہوتے ہیں اور کم کاربن اخراج کا باعث بنتے ہیں۔ حرکت پذیر اور چست ٹکنالوجی ہونے کی وجہ سے ایس ایم آر کو روایتی جوہری ری ایکٹرز کے برعکس فیکٹری سے تعمیر کیا جاسکتا ہے جو سائٹ پر بنائے جاتے ہیں۔ اس طرح ایس ایم آر لاگت اور تعمیراتی وقت میں نمایاں بچت ہوتی ہے۔ ایس ایم آر صنعتی ڈی کاربونائزیشن میں ایک امید افزا ٹیکنالوجی ہے خاص طور پر جہاں بجلی کی قابل اعتماد اور مسلسل فراہمی کی ضرورت ہو۔ بتایا گیا ہے کہ ایس ایم آر بڑے جوہری پلانٹس کے مقابلے میں آسان اور محفوظ ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ملک میں قابل تجدید توانائی کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں اور چین، یورپ اور امریکہ کے بعد بھارت آج دنیا بھر میں قابل تجدید توانائی کی نصب شدہ صلاحیت میں چوتھے نمبر پر ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ اقدامات وزیر اعظم کے آتم نربھر بھارت کے ہدف سے ہم آہنگ بھی ہیں، جہاں بھارت عالمی ویلیو چین میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔

واضح رہے کہ دنیا کی 17 فیصد آبادی پر مشتمل بھارت نے گذشتہ ایک دہائی کے دوران اپنی بنیادی توانائی میں 4 فیصد کی شرح سے اضافہ دیکھا ہے جو عالمی شرح نمو 1.3 فیصد سے تقریباً دوگنی ہے۔ تاہم، تاریخی معیار کے مطابق، عالمی اخراج میں ہمارا حصہ 5 فیصد سے بھی کم ہے۔

***

(ش ح – ع ا – ع ر)

U. No. 13022



(Release ID: 1879314) Visitor Counter : 184