ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کابینہ نے آب وہوا کی تبدیلی سے متعلق، اقوام متحدہ فریم ورک کنونشن کے لیے ، ہندوستان کی قومی سطح پر تازہ ترین طے شدہ شراکت کو منظوری دی

اس منظوری سی او پی 26 میں اعلان کردہ وزیر اعظم کے ’پنچ امرت‘ کو بہتر آب وہوا کے اہداف میں تبدیل کردیا

سن 2070 تک نیٹ- صفر تک  پہنچنے کے ہندوستان کے طویل مدتی ہدف کو حاصل کرنے کی جانب ایک قدم

ہندوستان اب 2030 تک اپنی جی ڈی پی کے اخراج کی شدت کو 45 فیصد کم کرنے کے تئیں عہد بند ہے

وزیر اعظم کا’’آب وہوا کی تبدیلی سے نمٹنے کی کلید کے طور پر’لائف‘، کے لیے عوامی تحریک کا تصور- ’ماحول کے لیے طرز زندگی‘ ‘‘

Posted On: 03 AUG 2022 2:34PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی زیر قیادت مرکزی کابینہ نے، آب وہوا کی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن (یو این ایف سی سی سی) سے رابطہ کرنے کے لیے،ہندستان کی قومی ثقافت تازہ ترین طے شدہ شراکت (این ڈی سی) کو منظوری دے دی ہے۔

اَپ ڈیٹ شدہ این ڈی سی آب وہوا کی تبدیلی کے خطرے کے خلاف، رد عمل کو مضبوط بنانے کے حصول کے تئیں  ہندوستان کے تعاون کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے، جیسا کہ پیرس معاہدے کے تحت اتفاق کیا گیا ہے۔ اس طرح کی کارروائی سے ہندوستان کو کم اخراج کے فروغ کی راہوں میں بھی مدد حاصل ہوگی۔ یہ ملک کے مفادات کا تحفظ کرے گا اور یو این ایف سی سی سی کے اصول اور دفعات پر مبنی اس کے مستقبل کی ترقی کی ضروریات کا تحفظ بھی کرے گا۔

برطانیہ کے گلاسکو میں منعقدہ، آب وہوا کی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن (یو این ایف سی سی سی) کے فریقین کی کانفرنس(سی او پی 26) کے 26ویں اجلاس میں، ہندوستان نے پانچ امرت عناصر (پنچ امرت) پیش کرتے ہوئے آب وہوا کی اپنی کارروائیوں کو تیز کرنے کا اظہار کیا تھا۔ ہندوستان کے موجودہ این ڈی سی کی یہ تازہ کاری سی او پی 26 میں اعلان کردہ ’پنچ امرت‘ کو بہتر آب وہوا کے اہداف کی ترجمانی کرتی ہے۔ یہ اپ ڈیٹ 2070 تک ہندوستان کے خالص-صفر تک پہنچنے کے طویل مدتی ہدف کو بھی حاصل کرنے کی جانب ایک پیشرفت ہے۔

اس سے قبل، ہندوستان نے 2 اکتوبر 2015 کو یو این ایف سی سی سی کو اپنی مطلوبہ  قومی تعین شدہ شراکت (این ڈی سی) جمع کرایا تھا۔ این ڈی سی 2015 میں آٹھ اہداف شامل تھے، ان میں سے تین،2030 تک کے  مقداری اہداف ہیں، یعنی غیر فوصل ذرائع سے مجموعی برقی توانائی کی تنصیب کی صلاحیت 40 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ جی ڈی پی کے اخراج کی شدت کو 2005 کی سطح کے مقابلے میں 33 سے 35 فیصد تک کم کرنا اور اضافی جنگلات اور درختوں کے احاطے کے ذریعے، 2.5 سے 3 ارب ٹن سی او 2 کے برابر اضافی کاربن  کم کرنے کی تخلیق کرنا ہے۔

اپ ڈیٹ کردہ این ڈی سی کے مطابق، ہندوستان اب 2005 کی سطح سے 2030 تک اپنی جی ڈی پی کے اخراج کی شدت کو 45 فیصد تک کم کرنے اور 2030 تک غیر فوصل ایندھن پر مبنی توانائی کے وسائل سے تقریباً 50 فیصد مجموعی الیکٹرک پاور کی تنصیب کرنے کی صلاحیت کرنے کے تئیں پرعزم ہے۔ آج کی منظوری، غریبوں اور کمزوروں کو آب وہوا کی تبدیلی کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے، پائیدار طرز زندگی اور موسمیاتی انصاف کے وزیر اعظم کے وژن کو بھی آگے بڑھاتا ہے۔ اپ ڈیٹ کئے گئے این ڈی سی میں کہا گیا ہے کہ ’’رعایا کا تحفظ نیز اعتدال کی اقدار پر مبنی زندگی کے ایک صحتمند اور پائیدار طریقے کو آگے بڑھانے اور اس کی مزید تشہیر کرنے کے لیے،  جس میں بشمول ’ایل آئی ایف ای‘ – ’ماحولیات کے لیے طرز زندگی‘ کے لیے ایک بڑے پیمانے پر تحریک کے ذریعے ماحولیاتی مقابلہ کرنے کی کلید کے طور پر بہتر این ڈی سیز کے بارے میں فیصلہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے اقتصادی ترقی کو الگ کرنے کے لیے، اعلیٰ ترین سطح پر ہندوستان کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

ہندوستان کی تازہ کاری شدہ این ڈی سی ہمارے قومی حالات اور مشترکہ لیکن مختلف ذمے داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں (سی بی ڈی آر- آر سی) کے حصول پر غور کرنے کے بعد تیار کی گئی ہے۔ ہندوستان کی تازہ کاری شدہ این ڈی سی کم کاربن کے اخراج کی راستے کی سمت کام کرنے کے لیے ہمارے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کی کوششیں بھی کر رہی ہے۔

اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ آب وہوا کی تبدیلی میں طرز زندگی کا بہت بڑا کردار ہے، سی او پی 26 میں ہندوستان کے وزیر اعظم نے عالمی برادری کے سامنے ’واحد لفظی تحریک‘ کی تجویز پیش کی۔ یہ واحد  لفظ ہے’لائف‘... ایل، آئی، ایف، ای، یعنی طرز زندگی برائے ماحولیات۔ زندگی کا وزن ایک ایسا طرز زندگی گزارنا ہے جو ہماری کرہ ارض کے مطابق ہو اوراسے ضرر نہ پہنچائے۔ ہندوستان کی تازہ ترین شدہ این ڈی سی آب وہوا کی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ، اس شہری مربوط نقطہ نظر کو  بھی حاصل کرتی ہے۔

اپ ڈیٹ کردہ این ڈی سی 2030-2021 کی مدت کے لیے ، صاف ستھری توانائی میں ہندوستان کی منتقلی کے لائحہ عمل کی نمائندگی کرتا ہے۔ اپ ڈیٹ شدہ فریم ورک،  ٹیکس مراعات اور مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے اور قابل تجدید توانائی کو اپنانے کے لیے پیداوار سے منسلک مراعات کی اسکیم جیسی مراعات سمیت، ہندوستان کی مینوفیکچرنگ صلاحیت کو بڑھانے اور برآمدات میں اضافہ کا موقع فراہم کرے۔ یہ سبز ملازمتوں میں مجموعی طور پر اضافے کا باعث بنے گا جس میں قابل تجدید توانائی، صاف توانائی کی صنعتوں میں آٹوموٹو میں ، کم اخراج والی مصنوعات کی تیاری نیز الیکٹرک وہیکلز اور انتہائی موثر آلات، اور جدید ٹیکنالوجی گرین ہائیڈروجن کے شعبوں میں صلاحیتوں کو بڑھانے اور برآمدات میں اضافے کا موقع فراہم کرے گا۔ ہندوستان کا تازہ ترین این ڈی سی 2030-2021 کی مدت میں  متعلقہ وزارتوں/ محکموں کے پروگراموں اور اسکیموں کے ذریعے نیز ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے مناسب تعاون سے لاگو کیا جائے گا۔ حکومت نے موافقت اور تخفیف، دونوں پر، ہندوستان کے اقدام کو بڑھانے کے لیے بہت اسکیم اور پروگرام شروع کئے ہیں۔ ان اسکیموں اور پروگراموں کے تحت پانی، زراعت، جنگلات، توانائی اور انٹرپرائز، پائیدار نقل وحرکت اور رہائش، فضلہ کا انتظام، مرغولاتی معیشت اور وسائل کی کارکردگی وغیرہ سمیت کئی شعبوں میں مناسب اقدامات شروع کئے جارہے ہیں۔ مذکورہ بالات اقدامات کے نتیجے میں، ہندوستان نےگرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے، معاشی نمو کو بتریج کم کرنا جاری رکھا ہے۔ صرف ہندوستانی ریلوے کے ذریعے ہی ، 2030 تک خالص- صفر کا ہدف سالانہ 60 ملین ٹن اخراج میں کمی کا باعث بنے گا۔ اسی طرح، ہندوستان کی بڑے پیمانے پر ایل ای ڈی بلب کی مہم، سالانہ 40 ملین ٹن اخراج کو کم کر رہی ہے۔

ہندوستان کے آب وہواکی کے اقدامات اب تک بڑے پیمانے پر، گھریلو وسائل سے مالی اعانت فراہم کرتے رہے ہیں۔ البتہ،  نئے اور اضافی مالی وسائل کی فراہمی کے ساتھ ساتھ عالمی ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی یو این ایف سی سی سی اور پیرس معاہدے کے تحت ، ترقی یافتہ ممالک کے وعدوں اور ذمے داریوں میں شامل ہے۔ ہندوستان کو اس طرح کے بین الاقوامی مالی وسائل اور تکنیکی مدد میں سے بھی اپنا حصہ درکار ہوگا۔

ہندوستان کا این ڈی سی، اسے کسی بھی شعبے کی مخصوص تخفیف کی ذمے داری یا کارروائی کا پابند نہیں کرتا ہے۔ ہندوستان کا مقصد، اخراج کی مجموعی شدت کو کم کرنا اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنی معیشت کی توانائی کی کارکردگی کو مستحکم بنانا ہے نیز اسی کے ساتھ ساتھ معیشت کے کمزور شعبوں اور اپنے معاشرے کے طبقات کی حفاظت کرنا ہے۔

*****

U.No.8597

(ش ح - اع - ر ا)



(Release ID: 1848013) Visitor Counter : 34