صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزارت صحت نے قومی صحتی مشن کے تحت پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو شامل کیا؛ ریاستیں ای سی آر پی۔ II، 15ویں ایف سی گرانٹس کے تحت پروجیکٹوں کی تکمیل کے عمل کو مہمیز کریں گی

پردھان منتری نیشنل ڈائیلیسز پروگرام (پی ایم۔ این ڈی پی) کے احاطے کو تمام ریاستوں میں تمام اضلاع تک توسیع  دینے پر توجہ مرکوز

ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو، پی ایم این ڈی پی کے تحت مفت ڈائیلیسز خدمات حاصل کرنے والے مستفیدین کی تفصیلات جمع کرنے کے مقصد سے تیار کیے گئے اے پی آئی پر مبنی ایک آئی ٹی پلیٹ فارم ، پی ایم این ڈی پی پورٹل کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی صلاح دی گئی

Posted On: 17 JUN 2022 3:04PM by PIB Delhi

مرکزی ہیلتھ سکریٹری، جناب راجیش بھوشن نے قومی صحتی مشن (این ایچ ایم)، ایمرجنسی کووِڈ رسپانس پیکج (ای سی آر پی)۔ II، پردھان منتری آیوشمان بھارت صحتی بنیادی ڈھانچہ مشن (پی ایم۔اے بی ایچ آئی ایم)، 15ویں مالیاتی کمیشن گرانٹس اور پردھان منتری نیشنل ڈائیلیسز پروگرام (پی ایم۔ این ڈی پی) کے تحت طبعی اور مالی  پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ، تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ آج ویڈیو کانفرنس (وی سی)کے توسط  سے منعقدہ ایک میٹنگ کی صدارت کی۔

ملک بھر میں قابل استطاعت، قابل رسائی اور مساویانہ طور پر عوامی  حفظانِ صحت خدمات  کی بہم رسانی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت ہند کے ذریعہ کی گئیں مختلف پہل قدمیوں اور اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے، ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو، تفصیلی پرزنٹیشن کے ذریعہ، پروگراموں کے نفاذ کی صورتحال اور این ایچ ایم کے تحت، ای سی آر پی۔ II پیکج کے تحت مختلف پروجیکٹوں  اور پی ایم۔ اے بی ایچ آئی ایم کے تحت سرمائے کی تقسیم کے بارے میں مطلع کیا گیا۔میٹنگ کے دوران نیشنل ڈائیلیسز پروگرام کے 100 فیصد احاطے کی توسیع  پر بھی توجہ دی گئی۔

مرکزی ہیلتھ سکریٹری نے اس امر کو اجاگر کیا کہ پروگراموں اور پہل قدمیوں کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے، قومی صحتی مشن (این ایچ ایم)کے تحت مختص کردہ سرکاری وسائل  میں تیزی لانے اور انہیں مؤثر طریقہ سے بروئے کار لانے کی ازحد ضرورت ہے۔انہوں نے ریاستوں /مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ فنڈ کے استعمال سے متعلق ضروری دستاویزات/ استعمال کی اسناد فراہم کریں اور غیر استعمال شدہ رقم کی واپسی کو یقینی بنائیں۔ ریاستوں سے ان منتقلیوں کو سرکاری مالیاتی انتظام کاری نظام (پی ایف ایم ایس) پورٹل پر دکھانے کی بھی اپیل کی۔

موجودہ اور مستقبل کے وبائی امراض/تباہکاریوں سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی غرض سے صحتی نظام تیار کرنے اور بنیادی ، ثانوی اور تیسرے درجے سمیت تمام سطح کی نگہداشت کے لیے حفظانِ صحت نظام اور اداروں میں صلاحیتیں پیدا کرنے کے لیے، پی ایم۔ابھیم کے تحت ، 2021۔22 سے 2025۔26 تک 64180 کروڑ روپئے مختص کیے گئے ہیں۔ ان فنڈس کو بروئے کار لانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے پی ایم ۔ ابھیم کے تحت مرکزی وزارت صحت کو ارسال کی جانے والی تجاویز اور مفاہمتی عرضداشتوں پر تیزی سے عمل کرنے کی اپیل کی  گئی تاکہ ریاستوں کو بروقت فنڈس جاری کرنے میں وزارت کی مدد کی جا سکے۔طبعی اور مالی پیش رفت کی منصوبہ بندی کو یقینی بنانے کے لیے، ریاستوں سے جلد از جلد طبعی سہولتوں کی شناخت کرنے اور این ایچ ایم۔ پروگریس مانٹرنگ سسٹم (پی ایم ایس) پر منصوبہ بندی کی مشق مکمل کرنے کی درخواست کی۔

ای سی آر پی۔ II کے تحت جاری کیے گئے فنڈس کو بروئے کار لانے کے عمل میں تیزی لانے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے، ریاستوں کو مطلع کیا گیا کہ ریاستوں کے لیے 100 فیصد حصص کی رقم جاری کی گئی۔ ریاستوں کو ای سی آر پی۔ II کے تحت ان کی لاگت  کی صورتحال کے بارے میں مطلع کرتے ہوئے، ان سے این ایچ ایم۔ پی ایم ایس پورٹل پر تجاویز کی نقشہ بندی مکمل کرنے اور وفتاً فوقتاً اس صورتحال کا جائزہ لینے کی ایک مرتبہ پھر اپیل کی گئی۔ اس کے علاوہ، ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ مرکزی وزارت صحت سے منظوری حاصل کرنے کے بجائے، ای سی آر پی۔ II کے تحت سرگرمیوں کی بقیہ منظوریاں دینے  کے لیے ریاستی صحتی سوسائیٹیوں (ایس ایچ ایس) کو اختیار دیا گیا ہے۔ آخر میں، ریاستوں سے درخواست کی گئی کہ ای سی آر پی۔ II اسکیم کے تحت تمام تر سرگرمیاں 31 دسمبر 2022 تک مکمل ہو جانی چاہئیں۔

ملک بھر میں پردھان منتری نیشنل ڈائیلیسز پروگرام (پی ایم این ڈی پی) کے احاطے میں اضافہ کرنے کے لیے، ریاستوں سے ہیمو ڈائیلیسز پروگرام کے ذریعہ تمام ریاستوں پر احاطہ کرنے  اور اس کے ساتھ ساتھ پیریٹونیل ڈائیلیسز پروگرام کو فروغ دینے کے لیے کہا گیا، کیونکہ یہ مریضوں پر کم پابندیاں عائد کرتا ہے اور اداروں کی جانب سے اسے کم تکنیکی مطالبات کی ضرورت ہے۔ ریاستوں کو پی ایم این ڈی پی پورٹل کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی بھی صلاح دی گئی۔ یہ پورٹل اے پی آئی پر مبنی ایک آئی ٹی پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد پی ایم این ڈی پی کے تحت مفت ڈائیلیسز خدمات حاصل کرنے والے تمام مستفیدین کے بارے میں تفصیلات جمع کرنا ہے۔ نقل سے بچنے اور شفافیت، اثر انگیزی اور باہم اثرپذیری کو یقینی بنانے کے لیے ریاستوں سے، 14 ہندسوں پر مشتمل منفرد آبھا آئی ڈی استعمال کرتے ہوئے رجسٹریش کو یقینی بنانے کے لیے بھی کہا گیا۔ اگر وہ علیحدہ پورٹلس  استعمال کر رہے ہیں تو جامع احاطہ کے لیے ، ان سے یہ درخواست بھی کی گئی ہے کہ وہ اے پی آئی شیئر کریں اور اسے پی ایم این ڈی پی پورٹل کے ساتھ مربوط کریں۔

این ایچ ایم مشن ڈائرکٹر حضرات اور ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے دیگر سینئر افسران کے ساتھ ،محترمہ رولی سنگھ، اے ایس اور ایم ڈی، جناب وشال چوہان، جوائنٹ سکریٹری، محترمہ اندرانی کوشل، اقتصادی مشیر اور مرکزی وزارت صحت کے دیگر افسران   بھی اس ورچووَل جائزہ میٹنگ کے دوران موجود تھے۔

**********

 

 

 (ش ح –ا ب ن۔ م ف)

U.No:6599



(Release ID: 1834898) Visitor Counter : 27