وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

بھارت-امریکہ ٹوپلس ٹو وزارتی سطح کے مذاکرات کے بعد وزیر دفاع جناب راجناتھ سنگھ کا پریس کو دیا گیا بیان

Posted On: 12 APR 2022 9:17AM by PIB Delhi

‘‘سیکرٹری بلنکن، سکریٹری آسٹن، ڈاکٹر جے شنکر، پریس کے اراکین، خواتین و حضرات،میں سیکرٹریوں، ان کے وفود اور ان کے عملے کا ، بہترین گفت و شنید اور گرمجوشانہ مہمان نوازی کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں اپنے دوطرفہ تعلقات کے تئیں ان کے پختہ عزم کا دل کی گہرائیوں سے اعتراف کرتا ہوں۔

آج ہم نے بہت بامعنی اور گہرائی سے بحث کی ہے۔ اس سے ہندوستان امریکہ تعلقات کی رفتار کو برقرار رکھنے اور ہمارے کام کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ ہماری دونوں عظیم قومیں، مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے  باہمی  مفادات اور مشترکہ  عزم  رکھتی ہیں ۔

ہم نے دوطرفہ، دفاعی اور عالمی امور پر بات چیت کی۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریتوں کے طور پر، ہمارے دونوں ہی ممالک ان میں سے اکثر کے بارے میں یکساں خیالات کے حامل ہیں۔ ہندوستان اور امریکہ دونوں ایک آزاد، کھلے، جامع اور قواعد پر مبنی ہند۔بحرالکاہل اور بحر ہند کے علاقے کے حوالے سے مشترکہ وژن رکھتے ہیں۔ ہماری شراکت داری ہند بحرالکاہل اور بحر ہند کے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

میٹنگ کے دوران، ہم نے اپنے پڑوس اور بحر ہند کے علاقے کی صورت حال کے بارے میں اپنے جائزوں کے نتائج کا  ایک دوسرے کے ساتھ  اشتراک کیا۔ دہشت گردی کو بھارت کے خلاف ریاستی سازش کے ایک آلہ کے طور پر استعمال کرنے کا معاملہ نمایاں طور پر اُبھر کر سامنے آیا۔

وسیع پیمانے پر ہمارے ان رابطوں کے اہم نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ان میں سے کچھ میں ہندوستان کے محکمہ خلائی امور اور امریکہ  کے محکمہ دفاع کے درمیان خلائی حالات سے متعلق آگاہی کے معاہدے پر دستخط کرنا، مستقبل قریب میں دفاعی علاقے اور دفاعی مصنوعی ذہانت کے حوالے سے  مذاکرات شروع کرنا؛ زیر بحث دیگر اقدامات اور معاہدوں پر اہم پیش رفت؛ اور ہماری فوجی مشقوں کے دائرہ کار اور پیچیدگی کو بڑھانے کی مشترکہ خواہش شامل ہیں۔ 

وبائی امراض سے پیدا شدہ چیلنجوں کے باوجود ہماری فوجوں کے درمیان   رابطے بلا روکاوٹ جاری ہیں۔ ہمیں اس بات کی بھی خوشی ہے کہ ہندوستان نے بحرین میں قائم کثیرالجہتی مشترکہ  سمندری افواج  (سی ایم ایف)  میں ایک ایسوسی ایٹ پارٹنر کے طور پر شمولیت اختیار کی ہے۔ اس سے مغربی بحر ہند میں علاقائی سلامتی میں تعاون کو تقویت ملے گی۔ ہم سی او ایم سی اے ایس اے  کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے، اوربی ای سی اے کو مکمل طور پر نافذ کرنے کی راہ پر مسلسل گامزن ہیں۔

ہم نے دفاعی سائبر، اسپیشل فورسز کے شعبوں میں مزید تعاون تلاش کرنے اور  ایل ای ایم او اے کے تحت اور مشترکہ مشقوں کے دوران لاجسٹک تعاون کے دائرہ کار کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

دونوں فریقوں نے دفاعی ٹیکنالوجی اور تجارتی اقدام (ڈی ٹی ٹی آئی) کو جدید اور ابھرتی ہوئی اور اہم ملٹری ٹیکنالوجیز کے مشترکہ منصوبوں کے ساتھ بحال کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے،  تاکہ  ان اقدامات پر تیز رفتاری  کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے۔

میں نے اس شراکت داری کو امریکی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ ترقی اور مشترکہ پیداوار کی سمت میں آگے  بڑھانے  کی ہندوستان کی خواہش کا اظہار کیا۔ ہم نے ‘میک ان انڈیا’ پروگرام کے تحت ہندوستان میں امریکی دفاعی کمپنیوں کی طرف سے سرمایہ کاری میں اضافے کا مطالبہ کیا۔ صنعتی تعاون میں امریکی اداروں کی شرکت اور تحقیق اور ترقی میں  ان کی شراکت داری ہندوستان کی ‘آتم نر بھر بھارت’ مہم کی کامیابی کے لیے اہم ہوگی۔

آج ہونے والی ٹو پلس ٹو میٹنگ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان  منصوبہ جاتی  دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم ہے اور ہمارے لئے  باہمی دلچسپی کے کئی شعبوں میں ساتھ کام کرنے میں مدد گار  ثابت  ہوگی۔ ہمارا بڑھتا ہوا تعاون امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے اور عالمی  برادری تک آزادانہ رسائی کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہوگا۔ میں سکریٹری آسٹن اور سکریٹری بلنکن کا ایک بار پھر ان کی مہمان نوازی اور ہندوستان۔امریکہ شراکت داری کو آگے بڑھانے میں ان کے قابل قدر تعاون کے لئے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم نے دونوں سیکرٹریوں کو اگلے ٹو پلس ٹو وزارتی اجلاس کے لیے ایک ایسے وقت میں بھارت کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے جس میں دونوں ملکوں کو باہمی طور پر آسانی رہے۔

****************

(ش ح ۔س ب ۔رض )

U NO: 4166



(Release ID: 1815898) Visitor Counter : 64