جل شکتی وزارت
’’زیر زمین پانی- غیر مرئی کو مرئی بنانا‘‘کے مرکزی خیال کے ساتھ پانی کے عالمی دن 2022 کی تقریبات
این ایم سی جی نے طلباء اور سرکردہ معلمین پر مشتمل ’’نوجوان اذہان: دریاؤں کے احیاء کا عہد‘‘ پروگرام کا انعقاد کیا
جل شکتی کے مرکزی وزیر مملکت جناب پرہلاد سنگھ پٹیل نے پانی کے تحفظ کے عہد کا اہتمام کیا اور نوجوانوں سے پانی کی کمی کے مسائل کے بارے میں سوچنے کی اپیل کی
ڈی جی، این ایم سی جی جناب جی اشوک کمار نے زیر زمین پانی کے ریچارج اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کی اہمیت پر زور دیا
سینڈ آرٹ اور نکڑ ناٹک کے ذریعے دریا کے احیاء اور پانی کے تحفظ کا پیغام
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 MAR 2022 4:51PM by PIB Delhi
نئی دہلی:22؍مارچ2022: پانی کے عالمی دن کے موقع پر گنگا کی صفائی ستھرائی کے قومی مشن (این ایم سی جی) نے نئی دہلی میں "نوجوان اذہان: دریاؤں کے احیاء کا عہد" کے عنوان سے ایک پروگرام کا انعقاد کیا جس میں مختلف اسکولوں اور کالجوں کے طلباء اور سرکردہ ماہرین تعلیم شامل تھے جس کا مقصد دریاؤں کی اہمیت، خاص طور پر اس کے احیاء اور عام طور پر پانی کے تحفظ پر زور دینا تھا۔ جل شکتی کے وزیر مملکت جناب پرہلاد سنگھ پٹیل نے اس پروگرام کی صدارت کی۔ اس موقع پر جناب جی اشوک کمار، ڈائریکٹر جنرل، این ایم سی جی اور جناب ڈی پی متھوریہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ٹیکنیکل) بھی تعلیمی اداروں کے دیگر معززین کے ساتھ موجود تھے۔ پانی کے وسائل کے پائیدار انتظام کی وکالت کرنے کے لیے ہر سال 22 مارچ کو پانی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس سال پانی کے عالمی دن کا تھیم ’’زیر زمین پانی-غیر مرئی کو مرئی بنانا‘‘ ہے۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب پرہلاد سنگھ پٹیل نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات آغاز کیا کہ اس خاص دن پر ہونے والی ہر چیز کو صرف ایک واقعہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اپنے آپ میں ایک عہد، پانی کی ایک بوند کو بھی ضائع نہ کرنے کا عہد، پانی کے تحفظ کا عہد ہر ممکن طریقے سے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ آگے آئیں اور ہمارے آبی وسائل کے تحفظ اور حفاظت میں اپنا حصہ ڈالیں۔
پانی کی دستیابی کے معاملے میں بندیل کھنڈ خطے کی مشکلات کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے حاضرین کو بتایا کہ جل جیون مشن کے تحت کی جانے والی کوششوں سے بندیل کھنڈ کے دموہ میں پینے کے پانی کی دستیابی اس سال اپریل تک صرف 17 فیصد سے بڑھ کر 65 فیصد ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جل جیون مشن کے آغاز کے بعد سے ملک میں 9.5 کروڑ سے زیادہ خاندان کو پینے کے پانی کی پائپ لائنیں فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے ان خاندانوں کی خوشی پر خوشی کا اظہار کیا جنہیں جل جیون مشن کے ذریعے پانی مل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی ثقافت میں دریاؤں کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہماری زندگی کے بے شمار پہلوؤں - مذہبی، سماجی، اقتصادی، تجارتی، زرعی، دواؤں سمیت، ہمارے دریاؤں سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانی اور دریاؤں کا احترام صدیوں سے ہندوستانی روایت اور ثقافت کا ایک اٹوٹ حصہ رہا ہے۔ موجودہ نسل کے لیے ابھرتے ہوئے پانی کے بحران سے نمٹنے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے ہمارے مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم پیٹرول اور ڈیزل کے بارے میں سوچ سکتے ہیں تو اپنے آبی وسائل کے بارے میں سوچنا بالکل ضروری ہے جو ہماری زندگی کی بنیاد ہے۔
جناب پٹیل نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی ایک تقریر کو یاد کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگلی عالمی جنگ پانی کے مسئلے پر ہوگی۔ وزیر موصوف نے سبھی پر زور دیا کہ وہ پانی کے تحفظ کے لیے اٹل جی کے وژن سے تحریک لیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اٹل جی کے ویژن کی بنیاد پر پانی کے شعبے میں اصلاحات شروع کرنے کا عظیم کام کیا ہے۔ جناب پٹیل نے لاپرواہی اور بیداری کی کمی کو اب مسائل کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا اور سبھی پر زور دیا کہ وہ آگے آئیں اور قیمتی زیر زمین پانی سمیت ہمارے آبی وسائل کو بچانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔
جناب جی اشوک کمار نے پانی کے عالمی دن کے موقع پر پانی کے تحفظ کا عہد لینے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج پوری دنیا پانی کی قلت کے چیلنج پر قابو پانے کے لیے اجتماعی طور پر جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے دریاؤں کے تحفظ، ترقی اور ماحولیاتی توازن کے حوالے سے ملک میں خاص طور پر نوجوانوں میں بیدار ہونے والے نئے شعور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر پانی اور دریاؤں کے تحفظ پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔
جناب کمار نے کہا کہ زندگی میں ایک چیز کی سختی سے پیروی کرنی چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے، اور وہ ہے پانی کا احترام۔ انہوں نے کہا کہ بھارت زیر زمین پانی کا استحصال کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور ہم زیر زمین آبی ذخائر سے تقریباً 250 بلین لیٹر پانی نکالتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ زیر زمین پانی ہمارے آباءواجداد کی کوششوں سے بچایا گیا تھا اور ہمیں اس تحفے کا احترام اور اس کی قدر کرنی چاہیے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اس کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 5 ٹریلین معیشت کے حصول کے لیے پانی سب سے زیادہ محدود عنصر ہے اور زمینی پانی کے ریچارج کے علاوہ کیچ دی رین: کہاں یہ گرتا ہے، جب یہ گرتا ہے مہم کے ذریعے بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔
اس پروگرام میں اسٹینفورڈ گروپ آف اسکولز، جے پوریہ انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، شوبھت یونیورسٹی، آئی ایم ایس، نوئیڈا اور شاردا یونیورسٹی کے 200 سے زائد طلباء نے شرکت کی۔
سینڈ آرٹسٹ جناب رجت کمار نے بھی سینڈ آرٹ کے ذریعے پانی کے تحفظ کے پیغام کا اظہار کیا اور آئی ایم ایس، نوئیڈا کے طلباء نے تقریب کے دوران پانی کے تحفظ کی اہمیت پر ایک نکڑ ناٹک پیش کیا۔ گنگا کویسٹ 2022، پروگرام کے دوران ایک آن لائن کوئز بھی شروع کیا گیا۔ معروف ماہر ماحولیات مائیک پانڈے کی میزبانی میں نیشنل جیوگرافک فلم - "گنگا: اے ریور فرام اسکائیز" کا پپریمیئر شو پروگرام کے دوران کیا گیا۔ اس کے علاوہ مختلف تعلیمی اداروں کے سرکردہ ماہرین تعلیم کو بھی وزیر موصوف نے مبارکباد دی۔
************
ش ح۔م ع۔ع ن
(U: 3013)
(ریلیز آئی ڈی: 1808471)
وزیٹر کاؤنٹر : 296