کابینہ

‏ کابینہ نے اضافی اراضی مونیٹائزیشن کے لیے نیشنل لینڈ مونیٹائزیشن کارپوریشن کو خصوصی مقصد کے وسیلے  (ایس پی وی) کے طور پر قائم کرنے کی منظوری دی‏

Posted On: 09 MAR 2022 1:31PM by PIB Delhi

‏ وزیراعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے نیشنل لینڈ مونیٹائزیشن کارپوریشن (این ایل ایم سی) کو حکومت کی مکمل ملکیت والی کمپنی کے طور پر قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے جس کا ابتدائی مجاز حصص سرمایہ 5000 کروڑ روپے ہے اور اس کا ادا شدہ حصص سرمایہ 150 کروڑ روپے ہے۔ این ایل ایم سی سینٹرل پبلک سیکٹر انٹرپرائزز (سی پی ایس ایز) اور دیگر سرکاری ایجنسیوں کے اضافی اراضی اور عمارات کے اثاثوں کی مونیٹائزیشن کا کام کرے گی۔ یہ تجویز 2021-22 کے بجٹ اعلان کی پیروی میں آئی ہے۔‏

‏غیر بنیادی اثاثوں کی مونیٹائزیشن سے حکومت غیر استعمال شدہ اور کم استعمال میں آنے والے اثاثوں کو مونیٹائز کرکے خاطر خواہ آمدنی حاصل کر سکے گی۔‏

‏اس وقت سی پی ایس ایز کے پاس زمین اور عمارتوں کی نوعیت میں کافی اضافی، غیر استعمال شدہ اور زیر استعمال غیر بنیادی اثاثے موجود ہیں۔ اسٹریٹجک سرمایہ کَشی یا بندش سے گزرنے والے سی پی ایس ایز کے لیے ان اضافی اراضی اور غیر بنیادی اثاثوں کی مونیٹائزیشن ان کی قدر کو بڑھانے کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ این ایل ایم سی ان اثاثوں کی مالی معاونت کرے گی اور یہ کام انجام دے گی۔ اس سے نجی شعبے کی سرمایہ کاری، نئی معاشی سرگرمیوں، مقامی معیشت کو فروغ دینے اور معاشی اور سماجی بنیادی ڈھانچے کے لیے مالی وسائل پیدا کرنے کے لیے ان کم استعمال میں آںے والے اثاثوں کے بہتر استعمال کو بھی ممکن بنایا جا سکے گا۔‏

‏توقع کی جاتی ہے کہ این ایل ایم سی، سی پی ایس ایز کے اضافی اراضی اور عمارات کے اثاثوں کی ملکیت، پٹے، انتظام اور مونیٹائزنگ اور اسٹریٹجک سرمایہ کَشی کے تحت سرکاری ملکیت والے سی پی ایس ایز کے اضافی غیر بنیادی اراضی اثاثوں کا انتظام بھی کرے گی۔ اس سے سی پی ایس ایز کی بندش کے عمل میں تیزی آئے گی اور حکومت کی ملکیت والے سی پی ایس ایز کے اسٹریٹجک سرمایہ کَشی کے عمل کو ہم وار کیا جائے گا۔ ان اثاثوں کو رکھنے، ان کا انتظام کرنے اور ان کو مونیٹائز کرنے کے لیے این ایل ایم سی کو منتقل کیا جاسکتا ہے۔ این ایل ایم سی دیگر سرکاری اداروں (سی پی ایس ایز سمیت) کو بھی مشورہ دے گی اور ان کے اضافی غیر بنیادی اثاثوں کی شناخت اور زیادہ سے زیادہ قدر حاصل کرنے کے لیے پیشہ ورانہ اور موثر طریقے سے ان کو مونیٹائز کرنے میں مدد کرے گی۔ ان معاملات میں (مثلاً جاری سی پی ایس ایز اور اسٹریٹجک سرمایہ کشی کے تحت درج فہرست سی پی ایس ایز) این ایل ایم سی ایجنسی کے کام کے طور پر اضافی اراضی اثاثوں کی مونیٹائزیشن کرے گی۔ توقع کی جاتی ہے کہ این ایل ایم سی زمین کی مونیٹائزیشن میں بہترین طور طریقوں سے کام کرے گی، اثاثوں کی مونیٹائیزیشن پروگرام کے نفاذ میں حکومت کی مدد اور تکنیکی مشورے فراہم کرے گی۔‏

‏این ایل ایم سی کے پاس سی پی ایس ایز اور دیگر سرکاری ایجنسیوں کی اراضیات کے اثاثوں کا پیشہ ورانہ انتظام اور مونیٹائز کرنے کے لیے ضروری تکنیکی مہارت ہوگی۔ این ایل ایم سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں مرکزی حکومت کے سینئر افسران اور نامور ماہرین شامل ہوں گے تاکہ کمپنی کے پیشہ ورانہ کاموں اور انتظام کو ممکن بنایا جاسکے۔ این ایل ایم سی کے چیئرمین، غیر سرکاری ڈائریکٹرز کا تقرر میرٹ پر مبنی انتخاب کے عمل کے ذریعے کیا جائے گا۔‏

‏رئیل اسٹیٹ مارکیٹ ریسرچ، قانونی کارروائی، ویلیوئیشن، ماسٹر پلاننگ، سرمایہ کاری بینکنگ، لینڈ مینجمنٹ وغیرہ میں اثاثوں کی مونیٹائزیشن کے لیے درکار خصوصی مہارتوں اور مہارت کی وسیع رینج کو تسلیم کرتے ہوئے نیشنل انویسٹمنٹ اینڈ انفرااسٹرکچر فنڈ (این آئی آئی ایف) اور انویسٹ انڈیا جیسی دیگر خصوصی سرکاری کمپنیوں کی طرح نجی شعبے سے پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ این ایل ایم سی ہلکی پھلکی تنظیم ہوگی جس میں کم سے کم ہمہ وقتی عملہ ہوگا، جو کنٹریکٹ کی بنیاد پر براہ راست مارکیٹ سے خدمات حاصل کرے گا۔ نجی شعبے کے تجربہ کار پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کرنے، ادایگی کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے این ایل ایم سی کے بورڈ کو لچک فراہم کی جائے گی۔‏

‏آگے کی پیش رفت کے لیے وزارت خزانہ کا محکمہ پبلک انٹرپرائز کمپنی قائم کرے گا اور اس کی انتظامی وزارت کے طور پر کام کرے گا۔ ‏

***

(ش ح - ع ا- ع ر)

U. No. 2404



(Release ID: 1804359) Visitor Counter : 201