مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ٹیلی کمیونیکیشن کے وزیر جناب اشونی ویشنو نے ’انڈیا ٹیلی کام 2022‘ میں کہا کہ فائیو جی نیٹ ورک تیاری کے آخری مراحل میں ہے

‏ ‏‏ٹی ای پی سی کی جانب سے 8‏ ‏ سے 10 فروری تک خصوصی بین الاقوامی تجارتی نمائش ’انڈیا ٹیلی کام 2022‘ کا انعقاد کیا جارہا ہے‏

مذکورہ تقریب میں 40 سے زائد بھارتی ٹیلی کام کمپنیاں اپنی مصنوعات اور صلاحیتوں کی نمائش کر رہی ہیں

Posted On: 08 FEB 2022 2:29PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  8/فروری 2022 ۔ ‏بھارتی ٹیلی کام شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کو اہل غیر ملکی خریداروں سے ملاقات کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مواصلات، الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ریلوے کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے آج اہم شخصیات جیسے مواصلات کے وزیر مملکت جناب دیو سنگھ چوہان، ڈی سی سی کے چیئرمین جناب کے راجارمن، اور محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کے سکریٹری کی موجودگی میں ایک خصوصی بین الاقوامی تجارتی نمائش ’انڈیا ٹیلی کام 2022‘ کا افتتاح کیا۔‏

‏یہ پروگرام 8 فروری سے 10 فروری 2022 تک ٹیلی کام ایکوپمنٹ اینڈ سروسز ایکسپورٹ پروموشن کونسل (ٹی ای پی سی) کی جانب سے محکمہ تجارت، بھارت سرکار کی مارکیٹ ایکسس انیشییٹو اسکیم (ایم اے آئی) کے تحت مختلف ممالک میں واقع محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن، وزارت خارجہ، بھارتی سفارت خانوں کے تعاون سے منعقد کیا جارہا ہے۔ اس تقریب میں 45 سے زیادہ ممالک کے اہل خریدار شرکت کر رہے ہیں۔ کانفرنس کے علاوہ 40 سے زائد بھارتی ٹیلی کام کمپنیاں نمائش میں اپنی مصنوعات اور صلاحیتوں کی نمائش کر رہی ہیں۔‏

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0015UR6.jpg

‏الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ریلوے کے وزیر جناب اشونی ویشنو نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا: ’’بھارت الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ آج بھارت میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ 75 ارب امریکی ڈالر کے قریب ہے۔ یہ 20 فیصد سے زیادہ کی سی اے جی آر شرح سے بڑھ رہا ہے۔ اب ہم نے ایک بڑا سیمی کنڈکٹر پروگرام شروع کیا ہے۔ یہ ایک بہت جامع پروگرام ہے، جس میں سلیکون چپ سے لے کر کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹرز، ڈیزائن وغیرہ کے 85,000 سیمی کنڈکٹر انجینئرز کو کاروباری افراد کی ایک رینج تیار کی جائے گی۔‘‘

‏ٹیکنالوجی کی ترقی کے بارے میں جناب اشونی ویشنو نے کہا، ’’ملک نے اپنا مقامی طور پر تیار کردہ فور جی کور اور ریڈیو نیٹ ورک بھی بنایا ہے۔ فائیو جی نیٹ ورک بھی تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔ ملک آج سکس جی معیارات کی ترقی میں سکس جی سوچ کے عمل میں حصہ لے رہا ہ۔‘‘

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002FCG0.jpg

‏مواصلات کے وزیر مملکت جناب دیو سنگھ چوہان نے اپنی تقریر میں کہا: ’’مواصلات صرف ایک سہولت نہیں ہے۔ یہ ملک کے شہریوں کو معلومات، تعلیم اور سوالات پوچھنے کا موقع حاصل کرنے کا اختیار دیتا ہے اور موجودہ حکومت کو جواب دہ بناتا ہے۔ شفافیت اور جواب دہی ہماری جمہوریت کو متحرک اور مضبوط بناتی ہے۔ یہ سماجی و اقتصادی تبدیلیوں کے لیے ایک بڑا محرک ہے۔ اس لیے حکومت نے تمام 6 لاکھ دیہاتوں کو آپٹیکل فائبر فراہم کرنے کا ایک پرعزم منصوبہ بنایا ہے۔ ہم 2.6 لاکھ دیہات تک پہنچ چکے ہیں اور محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن 2925 تک نشانہ حاصل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس سے ڈیجیٹل فرق کے ساتھ ساتھ ’’کم سے کم حکومت اور زیادہ سے زیادہ حکمرانی‘‘ کا منشور بھی پورا ہوگا۔‏‘‘

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00373J9.jpg

‏ڈی سی سی کے چیئرمین اور محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کے سکریٹری جناب کے راجارمن نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’حکومت نے ٹیلی کام آلات کی آسان مارکیٹ رسائی کے ساتھ ساتھ ایک منصفانہ اور فعال ریگولیٹری فریم ورک تشکیل‏‏ ‏‏دیا ہے جس سے صارفین کو سستے داموں ٹیلی کام خدمات کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ کاروبار کو آسان اور سستا بنانے کے لیے گذشتہ سال براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر ضابطہ اور اصلاحات کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس سال کے آخر میں اس طرح کی مزید کوششوں کے ساتھ ٹیلی کام سیکٹر میں اصلاحات کے اقدام میں مزید توسیع کی جارہی ہے۔ سیٹلائٹ پر مبنی کنکٹیویٹی سمیت نئی ٹیکنالوجیوں کے ساتھ امکانات کی جستجو کی بڑھتی ہوئی قبولیت ایک مثبت علامت ہے۔ بھارت میں مکمل طور پر ڈیزائن کیا گیا، بھارتی فور جی آخری مراحل میں ہے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ چند ماہ میں مکمل ہوجائے گا۔ فائیو جی ٹیکنالوجی انڈسٹری کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے جا رہا ہے، فائیو جی بھارتی منڈیوں کے ساتھ ساتھ عالمی منڈیوں میں فنٹیک کے حل پیش کرسکتا ہے، دنیا کے لیے بھارت میں فائیو جی آلات تیار کیے جارہے ہیں۔‘‘

‏انڈیا ٹیلی کام 2022 ٹیکنالوجی اور تجارتی تبادلے کو اکٹھا کرنے کا ایک پلیٹ فارم ہے۔ اس میگا ایونٹ کو کیلنڈر پر ٹیلی کام اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں اسٹیک ہولڈرز کے لیے ایک ’لازمی طور پر شرکت‘ کیے جانے والے پروگرام کے طور پر نشان زد کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس میں حکمت عملیوں اور اسباق کو شامل کیا گیا ہے، جو دو اہم ترین موجودہ صنعتوں کو محیط ہے، جس میں متعدد ڈومینز میں انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی سے منسلک خدمات کی بھاری مانگ کو ایک موقع کے طور پر پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ نیٹ ورک بنانے، ملنے جلنے اور مستقبل کی تشکیل کرنے کی جگہ ہے!‏

 

******

 

ش ح۔ ع ا۔ م ر

U-NO.1301



(Release ID: 1796656) Visitor Counter : 212