کامرس اور صنعت کی وزارتہ

محکمہ تجارت اور صنعت و تجارت کی وزارت کے سال 2021 کے اختتام کا جائزہ


2021-22 میں تجارتی سامان کے لیے 400 بلین امریکی ڈالر کا برآمدی ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو کہ پچھلے مہینے تک تقریباً 66 فیصد تک پہنچ گیا

اپریل سے نومبر 2021 کے دوران تجارتی سامان کی سب سے زیادہ  263 بلین ڈالر کی برآمدات ، جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں51 فیصد زیادہ ہے

ہندوستان، ماریشس نے فروری میں جامع اقتصادی تعاون اور شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے، ہندوستان-یو اے ای سی ای پی اے مذاکرات ختم ہوئے جبکہ ہندوستان-آسٹریلیا سی ای سی اے عبوری معاہدہ جلد متوقع ہے

دبئی میں ورلڈ ایکسپو 2020 میں انڈیا پویلین ایک بڑا توجہ کا مرکز



گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس (جی ای ایم)  پلیٹ فارم پر تقریباً 32 لاکھ دکاندار



نیشنل لاجسٹک پالیسی منظوری کے آخری مرحلے میں

Posted On: 30 DEC 2021 12:35PM by PIB Delhi

نئی دہلی 31  دسمبر ،2021

 

سال 2021 کے دوران محکمہ تجارت کی اہم جھلکیاں حسب ذیل ہیں:

 

  1. 2021-22 میں تجارتی سامان کے لیے 400 بلین امریکی ڈالر کا برآمدی ہدف
  1. 200ممالک اور 30 فوری تخمینے والے اجناس گروپوں کے لیے 400 بلین امریکی ڈالر کا ہدف سال 2020-21 کے لیے محکمہ تجارت کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے، جو ہندوستان اور باقی دنیا میں ماضی کے رجحان، موجودہ منظر نامے اور پالیسی کی حرکیات پر مبنی ہے۔ نومبر 2021 تک ہندوستان کی تجارتی اشیاء کی برآمدات 400 بلین امریکی ڈالر کے ہدف کے 65.89 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
  2. اہداف کے حصول کی ماہانہ نگرانی کے لیے ڈی جی ایف ٹی کے شماریات ڈویژن کے تحت ایک ایکسپورٹ مانیٹرنگ ڈیسک قائم کیا گیا ہے۔ الگ الگ اہداف ملک/علاقہ/مشن/مصنوعات/کموڈٹی گروپس/ایکسپورٹ پروموشن کونسلز کے ذریعے سخت نگرانی کو قابل بناتے ہیں۔
  3. وزیر اعظم نے 6 اگست 2021 کو ‘لوکل گوز گلوبل ،میک ان انڈیا   فار ورلڈ ’  کے موضوع پر سفیروں/ ہائی کمشنروں/ کمرشیل مشنوں، لائن وزارتوں/ محکموں، ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں، ای پی سیز، کموڈٹی بورڈز/ اتھارٹیز، صنعت/ تجارتی ایسوسی ایشنز وغیرہ سے 400 بلین امریکی ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کے لئے  خطاب کیا تھا۔

 

  1. برآمدات کے شعبہ میں کارکردگی

تجارتی سازو سامان

  1. ہندوستان کی برآمدات گزشتہ 8 مہینوں میں انتہائی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور رواں مالی سال میں مسلسل 8 ویں مہینے برآمدات 30 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔
  2. اپریل تا نومبر 2021 کے دوران برآمدات کی مجموعی مالیت کا تخمینہ 263.57 بلین امریکی ڈالر لگایا گیا ہےجو اپریل  تا نومبر 2020 کے دوران 174.16 بلین امریکی ڈالر  تھا، جو کہ 51.34 فیصد کی مثبت نمو ہے۔ اپریل نومبر 2019 کے مقابلے میں، اپریل-نومبر 2021 میں برآمدات میں 24.82 فیصد کا مثبت اضافہ ہوا ہے۔

 

خدمات

  1. ہندوستان کی خدمات کی برآمدات وبائی بیماری کے مقابلے میں نسبتاً لچکدار رہیں جس نے 2020 میں تجارتی خدمات میں عالمی تجارت کو متاثر کیا۔ عالمی تجارتی خدمات کی برآمدات میں ہندوستان کا حصہ 2019 میں %3.5 سے بڑھ کر 2020 میں %4.1 ہو گیا، جس کی وجہ سے تجارتی  خدمات  کے برآمد کنندگان میں ہندوستان کے درجے میں 2020 میں آٹھویں سے ساتویں پائیدان تک بہتری آئی۔

 

 

  1. آزادی کا امرت مہوتسو(اے کے اے ایم)

 

  1. آزادی کا امرت مہوتسو منانے کے لیے، محکمہ تجارت نے 20 سے 26 ستمبر 2021 تک وانجیا سپتاہ' کا اہتمام کیا جس کا مقصد یہ اجاگر کرنا ہے کہ کس طرح ہندوستان بین الاقوامی تجارتی ماحولیاتی نظام میں ہر شراکت دار کو معیاری مصنوعات تیار کرنے کے لیے بااختیار بنا رہا ہے جو میک ان انڈیا فار ورلڈ  کے  عالمی چیلنج  کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے محکمہ تجارت نے ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے انتظامیہ اور ملک بھر میں برآمدی عمل میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایک ہفتہ طویل سرگرمیوں کا سلسلہ قائم کیا۔
  2. ہفتہ بھر کے پروگرام کے دوران مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا جس کے موضوعات یا خواہش مند اہداف جیسے ’عظیم تر خود انحصاری کی طرف، ہندوستان کی نمائش : ایک ابھرتی ہوئی اقتصادی قوت، سبز اور سوچھ، وانجیا  اتسو، فارم سے لے کر غیر ملکی زمینوں تک،  حکومت جس کا  تعاقب عالمی مسابقت کا مقابلہ کرنے والی مصنوعات کے معیار کے لحاظ سے عمدگی حاصل کرنے کے مرکزی خیال کے ساتھ بین الاقوامی تجارت کے میدان میں کررہی ہے ،جو کہ دنیا کے لیے میک ان انڈیا کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ایک اہم چیز ہے۔
  3. آزادی کا امرت مہوتسو کے حصے کے طور پر منعقد ہونے والی تقریبات کاروبار اور جشن کا امتزاج تھیں۔ تمام تقریبات میں نہ صرف تجارت کے بنیادی اسٹیک ہولڈرز یعنی برآمد کنندگان نے بڑے پیمانے پر اور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا بلکہ ریاستی حکومتوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ، ایکسپورٹ پروموشن کونسلز، صنعتوں، تاجروں، پروڈیوسرز، شجرکاری کارکنوں، ایم ایس ایم ای اورتقریباً 700 اضلاع کا احاطہ کرنے والے پین  انڈیا کے دیگر اسٹیک ہولڈرز نے بھی شرکت کی۔ پانچ موضوعات  کے ارد گرد ہونے والے تمام پروگرام شاندار کامیابی سے ہمکنار ہوئے کیونکہ تمام شراکت داروں کے ساتھ ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقے نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔

 

  1. کاروبار کرنے میں آسانی
  1. وبائی امراض کے دوران پالیسی میں استحکام فراہم کرنے کےلئے ،فارن ٹریڈ پالیسی  (ایف ٹی پی) 2020-2015 کو 2022-2021 کے لئے یعنی 31مارچ 2022 تک بڑھا دیا گیا تھا۔
  2. ایڈوانس اتھارٹیز (اےا ے)/ ای او یو،ای پی سی جی اسکیم کے تحت انٹیگریٹڈ گڈز اینڈ سروس ٹیکس اور معاوضہ  سیس سے استثنیٰ 31 مارچ 2022 تک بڑھا دیا گیا ہے۔
  3. ڈی جی ایف ٹی کے آئی ٹی سسٹم کو ایکسپورٹ پروموشن اسکیموں پر کمیونٹی پارٹنروں  کے ساتھ اے پی آئی پر مبنی پیغام کے تبادلے کے ساتھ نئی شکل دی گئی۔
  4. عام ای سی او او پورٹل کو غیر ترجیحی سرٹیفکیٹ آف اوریجن جاری کرنے کے لیے بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
  5. غیر ملکی تجارتی پالیسی کے اپ ڈیٹس، درآمد/برآمد پالیسی، برآمد/درآمد کے اعدادوشمار، درخواستوں کی حیثیت، 7*24 ورچوئل اسسٹنس کے بارے میں معلومات ڈی جی ایف ٹی تجارتی سہولت ایپ کے ذریعے دستیاب کرائی گئی ہیں جسے سی آئی ایم نے 12.04.2021 کو شروع کیا تھا۔
  6. مخصوص ایڈوانس اور ای پی سی جی اتھارٹیز کی برآمدی ذمہ داری کی مدت 31 دسمبر 2021 تک بڑھا دی گئی۔

 

  1. آر اور ڈی ٹی ای پی  اسکیم کا نفاذ
  1. یکم جنوری 2021 سے برآمدات پر برآمد شدہ مصنوعات پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی معافی کی اسکیم(آر او ڈی ٹی ای پی) کو مطلع کیا گیا ہے۔ یہ اسکیم ٹیکسز /ڈیوٹیز /لیویز کی واپسی کے لیے ایک طریقہ کار تشکیل دیتی ہے، جو فی الحال کسی دوسرے طریقہ کار کے تحت، مرکزی، ریاستی اور مقامی سطح پر واپس نہیں کیے جا رہے ہیں، لیکن جو برآمد شدہ مصنوعات کی تیاری اور تقسیم کے عمل میں خرچ ہوتے ہیں۔ اس طرح کے ٹیکسوں کا بڑا حصہ نقل و حمل/تقسیم میں استعمال ہونے والے ایندھن پر بجلی کی ڈیوٹی اورویٹ ہے۔
  2. آر او ڈی ٹی ای پی اسکیم  تقریباً 8555ایچ ایس لائنوں پر محیط ہے ،جس میں معافی کی شرح 0.01فیصد سے 4.3فیصد تک ہے۔
  3. آر او ڈی ٹی  ای پی اسکیم اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹائزیشن کے ساتھ کام کرتی  ہےاور آر او ڈی ٹی ای پی فوائد کا دعوی کرنے کےلئے کوئی علیحدہ درخواست دائر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مرکزی بورڈ آف بالواسطہ ٹیکس اور کسٹمز (سی بی آئی سی)، وزارت خزانہ اس اسکیم کو نافذ کر رہا ہے۔سی بی آئی سی کے آئس گیٹ آن لائن ماڈیول کو فعال کردیا گیا ہے اور برآمد کنندگان نے اسکیم کے تحت ای اسکرپس کا فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے۔

 

  1. مالی سال 2019-20 کے لیےایس ای آئی ایس اسکیم کی نوٹیفکیشن

 

  1. مالی سال 2019-20 میں فراہم کی گئی خدمات کے لیے، سروس ایکسپورٹ فار انڈیا اسکیم (ایس ای آئی ایس )کو نوٹیفکیشن نمبر 29 مورخہ 23.09.2021 کے ذریعے مطلع کیا گیا تھا، جس میں اہل خدمت کے زمرے اور نرخوں کی فہرست شامل تھی۔

 

  1. ہندوستان اور ماریشس نے جامع اقتصادی تعاون اور شراکت داری کے معاہدے(سی ای سی پی اے ) پر دستخط کیے

 

  1. ہندوستان اور ماریشس نے 22 فروری 2021 کو جامع اقتصادی تعاون اور شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے جو یکم اپریل 2021 کو نافذ ہواہے ۔
  2. سی ای سی پی اے پہلا تجارتی معاہدہ ہے جس پر ہندوستان نے افریقہ کے کسی ملک کے ساتھ دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ ایک محدود معاہدہ ہے، جس میں سامان کی تجارت، اصل کے اصول، خدمات میں تجارت، تجارت میں تکنیکی رکاوٹیں(ٹی بی ٹی)، سینیٹری اور فائیٹوسینٹری کے اقدامات، تنازعات کا تصفیہ(ایس پی ایس )، قدرتی افراد کی نقل و حرکت، ٹیلی کام، کسٹمز کے طریقے کار اور دیگر شعبوں  میں تعاون  کے ساتھ مالیاتی خدمات شامل ہوں گی۔
  3. انڈیا-ماریشس سی ای سی پی سی دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی حوصلہ افزائی اور بہتری کے لیے ایک ادارہ جاتی طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ ہندوستان اور ماریشس کے درمیان سی ای سی  پی سی ہندوستان کے لئے 310 برآمدی اشیاء کا احاطہ کرتا ہے۔ خدمات میں تجارت کے حوالے سے، ہندوستانی خدمات فراہم کرنے والوں کو 11 وسیع سروس سیکٹرز میں سے تقریباً 115 ذیلی شعبوں تک رسائی حاصل ہوگی۔

 

  1. ہندوستان –یو اے ای جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے )مذاکرات

 

  1. متحدہ عرب امارات کے وفد کے دورہ کے دوران 22 ستمبر 2021 کو ہندوستان –یو اے ای ، سی ای پی اے مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔ اب تک مذاکرات کے دو دور ہو چکے ہیں اور دونوں فریقوں کا مقصد دسمبر 2021 تک مذاکرات کو مکمل کرنا اور مارچ 2022 تک معاہدے پر دستخط کرنا ہے۔
  2. بات چیت کے دوران، دونوں فریقوں نے ہندوستان-یو اے ای سی ای پی اے کی اہمیت اور اس کے نہ صرف اقتصادی اور سرمایہ کاری کے مواقع کو بڑھانے کی صلاحیت کا اعادہ کیا، بلکہ تعاون اور اشتراک کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کی، اس نئے اسٹریٹجک اقتصادی معاہدے سے توقع کی جاتی ہے کہ اس سے دو طرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا۔ دستخط شدہ معاہدے کے پانچ سالوں میں 100 بلین امریکی ڈالر اور خدمات میں تجارت کو 15 بلین امریکی ڈالر تک بڑھانا شامل ہے۔

 

  1. ہندوستان-آسٹریلیا جامع اقتصادی تعاون معاہدہ (سی ای سی اے) مذاکرات

 

  1. ہندوستان-آسٹریلیا سی ای سی اے  مذاکرات ایک پیشگی مرحلے پر ہیں۔ توقع ہے کہ دونوں ممالک عبوری معاہدے کے لیے جلد مذاکرات مکمل کر لیں گے۔ حتمی معاہدہ 2022 کے آخر تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ بات چیت  کے اہم موضوعات میں تجارت، خدمات، سرمایہ کاری، اصل کے اصول، کسٹمز کی سہولت، قانونی اور ادارہ جاتی مسائل وغیرہ ہیں۔

 

  1. 16 سے 18 اگست 2021 کے دوران برکس تجارتی میلہ 2021 (ورچوئل)

 

  1. برکس تجارتی میلہ، جو کہ محکمہ تجارت کی ایک پہل ہے، 16 سے 18 اگست 2021 تک ہندوستان کی صدارت میں عملی طور پر ایک اہم  انعقاد تھا۔
  2. برکس تجارتی میلہ 2021 میں 5000 سے زیادہ مندوبین کی شرکت دیکھی گئی، اور اس تقریب میں 2500 سے زیادہ پہلے سے طے شدہ بی ٹو بی میٹنگز تھیں۔ تجارتی میلے میں کاروباری مندوبین کے 8000 سے زیادہ ورچوئل بوتھ کے دورے بھی دیکھے گئے، جس کی وجہ 2000 سے زیادہ کاروباری تبادلہ خیال ہوئے ہیں۔

 

  1. دبئی میں ورلڈ ایکسپو 2020 میں انڈیا پویلین
  1. ورلڈ ایکسپو 2020 دبئی میں یکم اکتوبر 2021 سے 31 مارچ 2022 تک منعقد ہو رہی ہے۔ یہ پہلاایکسپو ہے جوایم ای اے ایس اے  (مشرق وسطی، افریقہ اور جنوبی ایشیا) کے علاقے میں منعقد ہورہا ہے۔ دبئی میں ورلڈ ایکسپو میں انڈیا پویلین کا افتتاح سی آئی ایم کے ذریعہ 01.10.2021 کو کیاگیا تھا۔
  2. ورلڈ ایکسپو 2020 کی  مرکزی تھیم "مستقبل کی تخلیق، ذہنوں کو جوڑنا" ہے۔ مرکزی تھیم کو مزید ایکسپو کے تین ذیلی تھیمز میں تقسیم کیا گیا ہے-موقع، نقل و حرکت اور پائیداری۔ ورلڈ ایکسپو، دبئی سے توقع ہے کہ 190 سے زائد ممالک اور 25 ملین متوقع زائرین کی شرکت کے ساتھ وبائی امراض  کووڈ-19کے بعد عالمی معیشت کی بحالی کا آغاز ہو گا۔
  3. دبئی ایکسپو میں انڈیا پویلین اپنے افتتاح کے صرف 83 دنوں میں چھ لاکھ سے زیادہ زائرین کو حاصل کرکے ایک اور  سنگ بنیاد طے کرتے ہوئے  ایک بڑا توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

 

  1. گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس (جی ای ایم):کھلی اور شفاف خریداری

 

  1. جی ای ایم پر کل 31.8 لاکھ وینڈرز آن بورڈ کیے گئے ہیں، جن میں سے 7.39 لاکھ ایم ایس ایم ای ہیں، جو کہ وینڈر بیس کا تقریباً 23 فیصد حصہ  ہیں اور جی ای ایم پر مجموعی تجارتی مال کی مجموعی قیمت میں 57 فیصد سے زیادہ کا تعاون دیتے ہیں۔
  2. جی ای ایم نے خریداروں کے انتظار کے وقت اور قیمتوں میں زبردست کمی لائی ہے اور بیچنے والوں کو بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا ہے۔ اس نے جی ایف آر میں تجویز کردہ خریداری کے مختلف طریقوں کو فعال کیا ہے اور خریداروں کو خریداری کرتے وقت باخبر فیصلہ کرنے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے مختلف تجزیاتی ٹولز دستیاب کرائے ہیں۔
  3. جی ای ایم نے حکومت کے وژن کے مطابق ملک کے لیے ایک یونیفائیڈ پروکیورمنٹ سسٹم بنایا ہے، جس میں ڈیفنس پبلک پروکیورمنٹ پورٹل، سنٹرل پبلک پروکیورمنٹ پورٹل اور اس کے ذیلی پورٹلز کو جی ای ایم پر لا کر ایک صارف کا تجربہ فراہم کیا گیا ہے۔ یونیفائیڈ پروکیورمنٹ سسٹم بکھرے ہوئے وینڈر اڈوں کو جی ای ایم پر شائع کرنے والے پورٹلز کو مضبوط کرے گا جس کے نتیجے میں پیمانے کی معیشتوں کے فوائد، بہتر قیمت کی دریافت اور حصولی کے بہترین طریقوں کو پھیلایا جائے گا۔
  4. شمولیت کو فروغ دینے کے لیے،ایم ایس ایم ای، سیلف ہیلپ گروپس، قبائلی کاریگروں، کاریگروں، اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ای کی وزارت اور دیہی ترقی کی وزارت کے ساتھ مشاورت سے، جی ای ایم نے اسٹارٹ اپ رن وے، سارس کلیکشن، ٹرائبیسنڈیا ای اسٹور، کاریگروں اور بنکروں کی آن بورڈنگ، بانس اور وومانیہ وغیرہ  کے ذریعے ان کی آن بورڈنگ کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔

 

 

  1. پرگتی میدان کی دوبارہ ترقی

 

آئی ای سی سی پروجیکٹ

  1. تاریخی پرگتی میدان میلے کے میدان کو دو مرحلوں میں ایک عالمی معیار کے بین الاقوامی نمائش کم کنونشن سینٹر (آئی ای سی سی) میں دوبارہ تیار کیا جا رہا ہے (دوسرا مرحلہ چند سال بعد شروع کیا جائے گا)۔آئی ای سی سی پراجیکٹ پر کام جاری ہے اور اس کے تمام حصے اب جون 2022 تک مکمل ہونے والے ہیں۔ معزز وزیر اعظم نے 13.10.2021 پی ایم گتی شکتی کے آغاز کے موقع پر آئی ای سی سی پروجیکٹ کے ایک حصے کے طور پر نئے نمائشی کمپلیکس (ہالز 2، 3، 4 اور 5) کا افتتاح کیا۔

 

  1. قومی لاجسٹک پالیسی
  1. قومی لاجسٹک پالیسی تمام مرکزی وزارتوں کے ساتھ سپلائی اور ڈیمانڈ کے حوالے سے وسیع مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے اور لاجسٹک کی کارکردگی میں عالمی معیارات کو ہم آہنگ کرنے اور بہتر بنانے کے کلیدی مقصد کے ساتھ مخصوص ایکشن پوائنٹس کی وضاحت کرنے والے شعبے کے بارے میں ایک جامع نظریہ رکھتی ہے اور گلوبل  سپلائی چین کے ساتھ مربوط کی گئی ہے۔
  2. ایک 75 نکاتی نیشنل لاجسٹک ریفارم ایکشن پلان بھی تیار کیا گیا ہے جس میں پالیسی پر قابل عمل آئٹمز شامل ہیں۔
  3. نظرثانی شدہ پالیسی منظوری کے آخری مراحل میں ہے۔ پالیسی کا ہدف ہے کہ اگلے 5 سالوں میں لاجسٹکس کی لاگت کو تقریباً 5 فیصد تک کم کیا جائے، لاجسٹکس سے متعلق اہم عالمی کارکردگی کے اشاریہ میں ٹاپ 25 میں درجہ بندی حاصل کرنا، اور ماحولیاتی لحاظ سے پائیدار، جامع اور مستقبل کے لیے تیار لاجسٹکس کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

 

  1. پی ایم گتی شکتی ایم ایم پی

 

  1. اقتصادی شعبوں  سے ملٹی موڈل انفراسٹرکچر کنیکٹیویٹی کے لیے پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان جو کہ ایک مربوط منصوبہ ہے جس میں جی آئی ایس پلیٹ فارم پر اقتصادی شعبہ اور ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی انفراسٹرکچر کو دکھایا گیا ہے، اکتوبر 2021 میں شروع کیا گیا تھا تاکہ مختلف وزارتوں/محکموں کی انفرادی مداخلتوں کو مجموعی طور پر مربوط کیا جا سکے۔ ایک قومی تناظر اور منصوبہ بندی، آپریشنز اور منصوبوں کی نگرانی کے لیے مربوط آئی ٹی فعال نقشہ پر مبنی نقطہ نظر فراہم کرتا ہے۔
  2. سیکرٹریز اور نیٹ ورک پلاننگ گروپ کا بااختیار گروپ تشکیل دیا گیا ہے اور ان کی پہلی میٹنگیں ہوئی ہیں۔ ٹیکنیکل سپورٹ یونٹ کی تشکیل جاری ہے۔بی آئی ایس اے جی این کی طرف سے تربیتی ورکشاپس مکمل ہو چکی ہیں۔ قومی ماسٹر پلان میں شامل ریاستوں کے لیے پی ایم گتی شکتی پر ریاستوں کی زونل کانفرنسیں فی الحال نومبر 2021 سے جنوری 2022 تک جاری ہیں۔
  3. بی آئی ایس اے جی این کے تیار کردہ جی آئی ایس پلیٹ فارم پر قومی ماسٹر پلان کے اپریل 2022 تک مکمل اور لانچ ہونے کی امید ہے۔
  4. عالمی بینک کی طرف سے ہر دو سال بعد جاری کیا جانے والا لاجسٹک پرفارمنس انڈیکس (ایل پی آئی)ممالک کی لاجسٹک کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کی جانے والی سب سے زیادہ رپورٹوں میں سے ایک ہے۔ انڈیکس پر، ہندوستان 2018 میں 160 ممالک میں 44 ویں نمبر پر تھا جبکہ 2014 میں 54 ویں نمبر پر تھا (آج تک کی گئی تازہ ترین تحقیق 2018 میں ہے)۔

 

  1. تجارتی انفراسٹرکچر برائے ایکسپورٹ اسکیم(ٹی آئی ای ایس)

 

  1. محکمہ تجارت مالی سال 18-2017 سے موثر  01.04.2015 سے ٹی آئی ای ایس کا نفاذ کر رہا ہے۔ جس کا مقصد برآمدی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مدد کرتے ہوئے برآمدی مسابقت کو بڑھانا ہے جس سے متعدد برآمد کنندگان استفادہ کر سکتے ہیں۔ اس اسکیم کو 5 سال کے لیے بڑھایا گیا ہے یعنی سے22-2021 سے 2025-26 تک جس کا کل بجٹ 360 کروڑ روپے ہے۔سال 2021-22 میں اس اسکیم کے لیے 75 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔نئے منصوبوں کو بااختیار کمیٹی نے مالی سال 2021-22 میں 8 دسمبر تک 113 کروڑ کے کل ٹی آئی ای ایس فنڈ کے ساتھ منظور کیا ہے۔

 

  1. زرعی برآمدی پالیسی(اے ای پی)

 

  1. متعلقہ ریاستی حکومت کے ساتھ تعاقب کے بعد ریاستی زرعی ایکسپورٹ ایکشن پلان کو مقررہ وقت میں حتمی شکل دینے کے لیے تعاون کی درخواست کرنے والے عہدیداروں نے پانچ ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام ریاست کے مخصوص ایکشن پلان کو حتمی شکل دی ہے۔جس میں  میزورم، میگھالیہ، تریپورہ، اروناچل پردیش، ہماچل پردیش اورانڈمان اور نیکوبار کے  جزائر شامل ہیں۔ باقی ریاستوں کے ایکشن پلان کو حتمی شکل دینے کے مختلف مراحل میں ہیں۔
  2. اے پی ای ڈی اے نے کسان کوآپریٹیو کے برآمدی ربط کو مضبوط بنانے کے لیے این اے ایف ای ڈی   کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے ہیں۔
  3. ایمازون ویب سیریز  ٹیم کے ساتھ بات چیت کے سلسلے کی تعمیل میں ،جی آئی مینگوز (الپھانسو)کےلئے بلاک چین ٹریسی ایبلٹی اور اے پی ای ڈی اے پیک ہاؤسز میں ڈیجیٹل اسیسنگ پر پیش کردہ تجاویز کے لیے دو پائلٹ پروجیکٹس کو انجام دینے کی منظوری دی گئی۔

 

 

  1. اوڈیشہ میں کافی ڈیولپمنٹ پروگرام

 

  1. کافی بورڈ نے کوراپٹ ضلع میں قبائلیوں کے ذریعہ کافی اور کالی مرچ کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے حکومت اوڈیشہ کے ساتھ ایک پروگرام شروع کیا ہے۔ یہ چار سالہ پروگرام، حکومت اوڈیشہ کی مالی مدد اور کافی بورڈ کی تکنیکی مدد سے لاگو کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اس کا بجٹ 10000 روپے ہے۔ 16.46 کروڑ اور تقریباً 4100 قبائلی کاشتکاروں کو تقریباً 2000 ہیکٹر (موجودہ اور نئی) کے رقبے میں کافی اور کالی مرچ کی پیداوار کے لیے مدد کا تصور کیا گیا ہے۔

 

  1. ربڑ کی مردم شماری

 

  1. ربڑ بورڈ ڈیجیٹلائزڈ موبائل ایپلیکیشن ‘ آر یو بی اے سی ’کا استعمال کرتے ہوئے ربڑ پر ملک گیر مردم شماری کر رہا ہے، جسے ڈیجیٹل یونیورسٹی، کیرالہ کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے، تاکہ ربڑ کے زیر زمین رقبہ، نئے لگائے گئے علاقے، دوبارہ لگائے گئے علاقے، عمر کی پروفائل کا پتہ لگایا جا سکے۔ درختوں کی تعداد، برسوں سے ضائع شدہ رقبہ، نئے کلون کو اپنانے کی سطح، ہولڈنگز کا سائز اور ٹیپرز کی تفصیلات وغیرہ۔ ضلع کوٹائم میں کھیت کی گنتی شروع ہو گئی ہے۔

 

 

  1. اے ٹی ایم اے  کے ساتھ این ای  خطہ میں ربڑ کے باغات کی ترقی کےلئے تعاون پروجیکٹ

 

  1. تجارت و صنعت کے وزر کی پہل اور رہنمائی میں آٹوموٹیو ٹائر مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اے ٹی ایم اے) کی نمائندگی کرنے والی بڑی ٹائر کمپنیوں سے 1,100 کروڑ روپے کی شراکت کے ساتھ شمال مشرق میں ربڑ کے نئے باغات کی ترقی اور ربڑ کی پروسیس شدہ شکلوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک پروجیکٹ کو منظوری دی گئی اور ایم او یو پر دستخط کیے گئے۔
  2. یہ منصوبہ پانچ سالوں میں شمال مشرق میں 2,00,000 ہیکٹر ربڑ کے باغات تیار کرنے کا ہے۔ ربڑ کے  پودے لگانے کا آغاز جولائی 2021 میں ہوا اور 2021 میں پودے لگانے کا متوقع رقبہ 5000 ہیکٹر ہے۔

 

<><><><><>

 

 

ش ح-ا م-ج

14983U.No. :



(Release ID: 1786418) Visitor Counter : 295