وزیراعظم کا دفتر

وزیر اعظم نے متعدد قومی شاہراہوں اور سڑک پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور انہیں قوم کو وقف کیا

وزیر اعظم نے شری سنت گیانیشور مہاراج پالکھی مارگ اور شری سنت تکارام مہاراج پالکھی مارگ کے اہم سیکشن کو چار لین میں تبدیل کرنے کا سنگ بنیاد رکھا

وزیر اعظم نے پنڈھرپور سے ربط بڑھانے کےلئے کئی سڑک پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقت کیا

’’یہ یاترا دنیا کی سب سے پرانی عوامی یاترا میں سے ایک ہے اور اِسے عوامی تحریک کی شکل میں دیکھا جاتا ہے، یہ ہندوستان کے داخلی علم کی علامت ہے، جو ہمارے اعتقاد کو قید نہیں کرتا، بلکہ آزاد کرتا ہے‘‘

’’بھگوان وٹھل کا دربار سب کے لئے یکساں طور سے کھلا ہے، سب کا ساتھ ، سب کا وکاس، سب کا وشواس کے پیچھے بھی یہی جذبہ کار فرما ہے‘‘
وقت وقت پر متعدد خطوں میں ایسی عظیم ہستیاں اُبھرتی رہیں اور ملک کو سمت دکھاتی رہیں‘‘

’’پنڈھری کی واری، موقع کی یکسانیت کی علامت ہے، وارکری تحریک امتیاز کو غلط مانتی ہے اور یہی اس کا عظیم نعرہ ہے‘‘

عقیدت مندوں سے یہاں تین وعدے لیے جاتے ہیں-شجرکاری، پینے کے پانی کا انتظام اور پنڈھرپور کو سب سے زیادہ شفاف تیرتھ مقام بنانا

’’’دھرتی پتروں ہندوستانی روایت اور ثقافت کو زندہ رکھا ہے، ایک سچا ’انّ داتا‘سماج کو جوڑتا ہے اور سماج کے لئے جیتا ہے، آپ ایک سبب ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ سماج کی ترقی کا عکس بھی ہے‘‘‘

Posted On: 08 NOV 2021 4:43PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،08نومبر؍2021:

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے متعدد قومی شاہراہوں اور سڑک پروجیکٹوں کی بنیاد رکھی اور قوم کو وقف کیا۔ اس موقع پر سڑک ٹرانسپورٹ اور قومی شاہراہ کے مرکزی وزیر، گورنر اور وزیر اعلیٰ مہاراشٹر بھی موجود تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج یہاں سری سنت گیانیشور پالکھی مارگ اور سنت تکا رام مہاراج پالکھی مارگ کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔ سری سنت گیانیشور پالکھی مارگ کی تعمیر  پانچ مرحلوں میں اور سنت تکارام مہاراج پالکھی مارگ کی تعمیر تین مرحلوں میں پوری کی جائے گی۔اُنہوں نے کہا کہ اِن پروجیکٹوں سے علاقے کے ساتھ  بہتر جڑاؤ ہوگا ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے عقیدت مندوں ، سنتوں اور بھگوان وٹھل کو پروجیکٹوں کے لئے اُن کے آشیرواد کےلئے اپنی عقیدت پیش کی۔اُنہوں نے کہا کہ بھگوان وٹھل میں اعتقاد تاریخ کی  اُتھل پُتھل کے دوران بھی اٹوٹ رہی اور آج بھی یہ یاترا دنیا کی سب سے پرانی اجتماعی یاتراؤں میں سے ایک ہے اور اسے  لوگوں کی تحریک کی شکل میں دیکھا جاتا ہے، جو ہمیں سکھاتی ہے کہ الگ الگ راستے، الگ الگ طریقے  اور  الگ الگ خیالات  اور بھی ہوسکتے ہیں، لیکن ہمارا  ہدف ایک ہے۔ آخر میں تمام پنتھ’بھاگوت پنتھ‘ ہی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ہندوستان کی روحانی علم  کی علامت ہے ، جو ہمارے اعتقاد کو قید نہیں کرتا ہے، بلکہ اسے آزاد کرتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھگوان وٹھل کا دربار سب کے لیے یکساں طورپر کھلا ہے اور جب میں سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس کہتا ہوں تو اس کے پیچھے بھی  یہی جذبہ ہوتا ہے۔ یہ جذبہ ہمیں ملک کی ترقی کےلئے  تحریک دیتا ہے، سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے اور سب کی ترقی کےلئے متحرک کرتا ہے۔

ہندوستان کی روحانی اثاثے پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے  وزیر اعظم نے کہا کہ پنڈھر پور کی خدمت کرنا اُن کے لئے سری نارائن ہری کی خدمت کرنا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ یہ وہی سرزمین ہے، جہاں بھکتوں کے لئے بھگوان آج بھی نِواس کرتے ہیں۔ یہ وہی سرزمین ہے، جس کے بارے میں سنت نام دیو مہاراج نے کہا کہ پنڈھر پور تب سے ہے، جب دنیا کی تخلیق بھی نہیں ہوئی تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کی خصوصیت یہ ہے کہ وقت وقت پر مختلف خطوں میں ایسی عظیم ہستیاں  پیدا ہوتی رہیں اور ملک کو راہ دکھاتی رہیں۔ جنوب میں مدھوآچاریہ، نمبارکاچاریہ، ولبھ آچاریہ، راما نج آچاریہ اورمغرب میں نرسی مہتا، میرا بائی، دھیرو بھگت، بھوجا بھگت،  پریتم کا جنم ہوا۔ شمال میں  رامانند، کبیر داس، گوسوامی تلسی داس، سورداس، گورو نانک دیو، سنت رائےداس تھے۔مشرق میں چیتنیہ مہاپربھو اور شنکر دیو جیسے سنتوں کے  خیالات سے ملک کو مالا مال کیا۔

وارکری تحریک کی سماجی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے روایت کی اہم خصوصیت کی شکل میں مردوں کی طرح جوش و خروش کے ساتھ یاترا میں خواتین کی شراکت داری کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ  یہ ملک میں خواتین  کی طاقت کا مظاہرہ ہے۔’پنڈھری کی واری’ موقع کی یکسانیت کی علامت ہے۔ وارکری تحریک امتیاز کو غلط مانتی ہے اور  یہ اس کا عظیم آئیڈیل نعرہ ہے۔

وزیر اعظم نے وارکری بھائیوں اور بہنوں سے تین آشیرواد کی خواہش کی۔ انہوں نے اُن کے تئیں اُن کی اٹوٹ محبت کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے عقیدت مندوں سے پالکھی مارگ پر شجر کاری کرنے کی درخواست کی، ساتھ ہی راستے کے کنارے پینے کے پانی کا انتظام کرنے کی بھی گزارش کی۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ اِن راستوں پر پانی پینے کے برتن بھی مہیا کرائے جانے چاہئیں۔انہوں نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں پنڈھر پور کو ہندوستان کے سب سے زیادہ صاف مذہبی مقامات میں سے ایک دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام بھی عوامی شراکت داری سے ہوگا، جب مقامی لوگ صفائی کی تحریک کی قیادت اپنے ہاتھ میں لیں گے  تبھی ہم اس خواب کو تعبیر آشنا کرسکیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ زیادہ تر وارکری کسان برادری سے آتے ہیں اور کہا کہ مٹی کے اِن سپوتوں ’دھرتی پتروں‘نے ہندوستانی روایت اور ثقافت کو زندہ رکھا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ایک سچا انّ داتا سماج کو جوڑتا ہے اور سماج کے لئے جیتا ہے۔ آپ سبب ہیں اور اس کے ساتھ ہی سماج کی ترقی کا عکس بھی۔

دِوے گھاٹ سے موہول تک سنت گیانیشور مہاراج پالکھی مارگ کا تقریباً 221کلومیٹر اور پاتس سے ٹونڈیل-بونڈلے تک سنت تکارام مہارا پالکھی مارگ کا تقریباً 130کلو میٹر چار لین کا ہوگا، جس میں دونوں طرف ’پالکھی‘ کےلئے وقف پیدل کے راستے ہوں گے، جن کی تعمیر پر بالترتیب 6690کروڑ اور تقریباً 4400کروڑ روپے بالترتیب لاگت آئے گی۔

تقریب کے دوران وزیر اعظم نے 223کلومیٹر سے زیادہ کی مکمل اور جدید ترین سڑک پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا۔جن کی تعمیر پر 1180کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔ یہ تعمیری کام پنڈھر پور سے ربط بڑھانے کے لئے مختلف قومی شاہراہوں پر کئے گئے ہیں۔ ان پروجیکٹوں میں مہسواد-پیلیو-پنڈھرپور(این ایچ548ای)، کوردوواڑی-پنڈھر پور(این ایچ 965سی)، پنڈھر پور-سنگولا(این ایچ 965سی)،این ایچ 561 اے کا تیمبھرنی-پنڈھرپور سیکشن  اور این ایچ 561 اے کا پنڈھر پور –منگل ویدھا-اُمادی سیکشن شامل ہیں۔

 

************

 

ش ح۔ج ق۔ن ع

 (U: 12629)



(Release ID: 1770113) Visitor Counter : 54