کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

جناب پیوش گوئل نے ڈیجیٹل کامرس کے لئے اوپن نیٹ ورک کا جائزہ لیا

نجی شعبے کی شراکت سے ایک غیر منافع بخش ادارہ قائم کیا جائے گا

او این ڈی سی کو بڑھایا جائے گا اور تیزی سے تعینات کیا جائے گا

Posted On: 26 OCT 2021 2:16PM by PIB Delhi

نئی دہلی:26اکتوبر،2021۔ تجارت اور صنعت، امور صارفین، خوراک اور سرکاری نظام تقسیم اور ٹیکسٹائل کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے ڈی پی آئی آئی ٹی کے اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس (او این ڈی سی) پہل پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ میٹنگ میں جناب انوراگ جین، سکریٹری، ڈی پی آئی آئی ٹی اور او این ڈی سی کی مشاورتی کونسل کے اراکین بشمول شری آر ایس شرما سی ای او، این ایچ اے، جناب عادل زین البھائی، چیئرمین، کیو سی آئی، جناب دلیپ آسبے، ایم ڈی اینڈ سی ای او، این پی سی آئی، جناب سریش سیٹھی، ایم ڈی اور سی ای او، این ایس ڈی ایل-ای گورنمنٹ جناب کمار راج گوپالن، سی ای او، آر اے آئی، جناب اروند گپتا، بانی، مائی جی او اور اوانا کیپیٹل کی محترمہ انجلی بنسل نے شرکت کی۔

وزیر موصوف کو منصوبے پر ہونے والی نمایاں پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ کیو سی آئی نے ایک مشن موڈ میں پروجیکٹ کی تکمیل کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم قائم کی ہے۔ او این ڈی سی ٹیم کی تکمیل کے لیے متعدد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو رضاکاروں کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ ایک او این ڈی سی گیٹ وے بھی قائم کیا گیا ہے۔ نیٹ ورک کے تمام اجزاء کا احاطہ کرنے والے تقریباً 20 ادارے آن بورڈنگ کے مختلف مراحل میں ہیں۔ ڈی پی آئی آئی ٹی نے پروجیکٹ پر ابتدائی کام کے لیے تقریباً 10 کروڑ روپے کے بجٹ کو منظوری دی ہے۔

نجی شعبے کی قیادت میں غیر منافع بخش کمپنی قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اس ادارے سے آبادی کے پیمانے کے نفاذ کیلئے ایک اسٹارٹ اپ ذہنیت فراہم ہونے کی امید ہے جو مستقبل کے نقطہ نظر کے ساتھ ساتھ بندوبست میں اہل ہو اور اس کی قیادت کو تجارت کی گہری سمجھ ہو، جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ قابلیت ہو اور اس کے بعد تبدیلی لانے کیلئے مشنری نقطہ نظر ہو۔ ایک غیرمنافع بخش کمپنی کابنیادی ڈھانچہ منافع کو زیادہ کرنے کی مہم کیلئے مالکان کو کسی بھی  قسم کی ترغیب دینے سے روکتی ہو  اور اعتماد گورننس، احتساب اور شفافیت کے سخت معیارات فراہم کرتے ہوئے اخلاقی اور ذمہ دارانہ رویے پر توجہ مرکوز کرتی ہو۔

اس ادارے کا کردار اہل ٹیکنالوجی کو اپنانے، اس کی تعمیر کے ذریعے نیٹ ورک تیار کرنے اور ایکو سسٹم ماہرین کے ذریعے وسیع پیمانے پر رضاکارانہ شرکت کو فروغ دینے کی ہوگی۔ یہ صارفین کے تحفظ، منصفانہ تجارت اور ریگولیٹری پر عمل آوری  کے اصولوں پر  مبنی ضابطہ اخلاق اور نیٹ ورک کے فوائد قائم کرکے نیٹ ورک کے نظم وضبط کو یقینی بنائے گا۔ ادارہ نیٹ ورک کے انتظام کے لئے بنیادی ٹیکنالوجی فراہم کریگا مثلاً نیٹ ورک کیلئے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مشترکہ رجسٹری، شرکاء اور سرٹیفکیشن ایجنسیوں کی تصدیق اور شکایات کا ازالہ۔ یہ ادارہ خریداروں، فروخت کنندگان اور بازار کی سرگرمیوں کے گیٹ ویز کیلئے حوالہ جاتی ایپلی کیشن تیار کریگا اور چلائے گا۔ اس کے علاوہ اس نیٹ ورک کو شراکتدار اداروں کے ساتھ مطلوبہ معلومات سے آراستہ کریگا۔ یہ موجودہ سافٹ ویئر ایپلی کیشن کے نیٹ ورک موافقت کو آسان بنانے کیلئے تیارشدہ ٹولز تیار کرکے ایس ایم ایز کو ان کی ڈیجیٹل تبدیلی میں مدد کریگا۔

اس میٹنگ میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا، پنجاب نیشنل بینک، بینک آف بڑودہ، نباڑڈ، سڈبی، نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا، این ایس ڈی  ایل، سی ڈی ایس ایل، این ایس ای اور بی ایس ای کے اعلیٰ نمائندوں سمیت ممکنہ پرموٹروں نے بڑی تعداد  میں حصہ لیا۔

جناب گوئل نے اس نیٹ ورک میں ہوئی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اور اس نیٹ ورک کو جلدی حقیقت بنانے کیلئے وقت کے حد کو کم کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ایکو سسٹم سے وسیع  شراکت داری کو یقینی بنایا جانا چاہئے اور ادارہ جاتی بنیادی ڈھانچہ اس طرح سے تیار کیا جانا چاہئے جس سے یہ یقینی ہو کہ ادارہ اخلاقی، باہمی امداد، جمہوری اور ذمہ دار طریقے سے کام کرے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ او این ڈی سی نیٹ ورک میں اعتماد پیدا کرنے کیلئے مزید کوشش کی جانی چاہئے اور شکایات کے ازالے کیلئے وسیع میکینزم قائم کیا جانا چاہئے۔

 

-----------------------

ش ح۔م ع۔ ع ن

U NO: 12219



(Release ID: 1766724) Visitor Counter : 81