وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر تعلیم نے انڈیا رینکنگس 2021 جاری کیا

ہندستانی درجہ بندی فریم ورک عالمی تعلیمی منظر نامے میں اہم کردار ادا کرے گا: جناب دھرمندر پردھان

جناب دھرمیندر پردھان نے علاقائی درجہ بندی فریم ورک پر زور دیا

Posted On: 09 SEP 2021 4:13PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر جنا ب دھرمیندر پردھان نے آج یہاں نیشنل انسٹی ٹیوٹ رینکنگ فریم ورک کے ذریعے قائم انڈیا رینکنگس 2021 جاری کیا۔ اس پروگرام میں شرکت کرنے والوں میں محترمہ انّا پورنا دیوی، وزیر مملکت، ڈاکٹر سبھاش سرکار، وزیر مملکت، وزارت تعلیم، ڈاکٹر راج کمار رنجن سنگھ، وزیر مملکت جناب امیت کھرے، سکریٹری، (HE)، پروفیسر ڈی پی سنگھ، چیر من یوجی سی، پروفیسر انل سہسرا بدھے، چیرمن اے آئی سی ٹی ای، پروفیسر کے کے اگروال ، چیرمن NBA اور ڈاکٹر انل کمار ناسا، ممبر سکریٹری NBA شامل ہیں۔

 

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے جناب پردھان نے کہا کہ ایک متحرک اور مثالی رینکنگ فریم ورک عالمی دائرہ تعلیم میں ہندستان کا حصہ ہوگا لہٰزا ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہمارا درجہ بندی فریم ورک نہ صرف ملک میں ایک نظیر بنے بلکہ عالمی سطح پر ایک مثال پیش کرنے، خاص طور سے ترقی پزیر معشیتوں کے لیے۔ انہوں نے علاقائی درجہ بندی خاکے کی تیاری پر بھی زور دیا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ NEP ہمیں اپنی تعلیم کو بین الاقوامی سطح پر لانے کا بھی موقع دیتا ہے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ اداروں کو درجہ بندی کے دائرے میں لانے کے لیے مشترکہ طور پر کوشش کرنی چاہئے اور ہندستان کو تعلیم کے لیے ایک پسندیدہ مقام بنانے کی جانب اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے ہندستانوں بھر کے ممتاز اداروں کو مبارکباد دی جنہوں نے رینکنگ میں اعلیٰ مقام حاصل کیا ہے اور متعلقہ زمروں، یونیورسٹیوں، انجنئرنگ، مینجمنٹ کالج، فارمیسی، میڈیکل، آکیٹکچر اور ریسرچ اداروں میں اعلیٰ درجہ حاصل کیا ہے۔

ہندستان میں HEI کی ہندستانی درجہ بندی کا لگاتار چھٹا ایڑیشن ہے۔ اپنے اولین سال 2016 میں یونیورسٹی زمرے کی رینکنگس کا اعلان کیا گیا تھا اور اسکے ساتھ ہی تین دیگر زمروں میں بھی، جن میں انجنئرنگ، مینجمنٹ اور فار میسی شامل ہیں۔ چھ برسوں میں تین نئے زمروں اور پانچ نئے موضوعاتی ڈومین شامل کیے گئے اور اس طرح مجموعی طور پر یہ چار زمرے ہو گئے۔ مجموعی یونیورسٹی، کالج اور تحقیقی ادارے اور ساتھ مضامین انجینئرنگ، منیجمنٹ اور فارمیسی آرکیٹکچر، میڑیکل، قانون اور ڈینٹل۔ یہ کام 2021 میں ہوا۔ ریسرچ اداروں کو انڈیا رینکنگس 2021 میں پہلی مرتبہ درجہ بندی میں شامل کیا گیا ہے۔

وزارت تعلیم نے نومبر 2015 میں قومی ادارہ جاتی درجہ بندی فریم ورک (NIRF) کا آغاز کیا تھا اور اسے 2016 سے 2021 تک انڈیا رینکنگس اس ایڑیشن کے علاوہ تمام پانچ ایڑیشنوں میں استعمال کیا گیا تھا۔

 

نمبر شمار

پیمانہ

مارکس

اہمیت

1

تدریس  ، تعلیم اور وسائل

100

0.30

2

تحقیقی اور پیشہ وارانہ کام

100

0.30

3

گریجو یشن نتائج

100

0.20

4

رسائی اور مشمولیت

100

0.10

5

طرز فکر

100

0.10

 

پیمانوں اور اہمیت کے پانچ وسیع تر زمرے

ان پانچ پیمانوں کے دو سے پانچ تک ذیلی پیمانے ہیں۔ مختلف زمروں اور سبجیکٹ  ڈومین میں HEI کی درجہ بندی کے لیے مجموعی طور پر سولہ سے اٹھارہ ذیلی پیمانے ہیں۔ پیمانے کے پانچ وسیع تر گروپوں میں سے ہر ایک کو دئے گئے نمبروں کی مجموعی تعداد کی بنیاد پر درجے دئے جاتے ہیں۔

اسکے علاوہ درخواست گزار اداروں سے مختلف پیمانوں کے وسائل کے ڈاٹا کے لیے تیسرے فریق کے وسائل کے ڈاٹا کو استعمال کیا گیا ہے۔ ڈروینٹ انوویشن کو پیٹنٹ ڈاٹا کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان سے حاصل ڈاٹا کو متعلقہ اداروں کے ساتھ شفافیت کے لیے شئر کیا گیا اور ان سے انکی رائے مانگی گئی۔

4030 منفرد اداروں نے خود کو ‘‘مجموعی’’ خصوصی زمرےاور یا خصوصی ڈومین کے لیے انڈیا درجہ بندی 2021 کے لیے پیش کیا۔ ان 4030 منفرد اداروں کی جانب سے مجموعی طور پر درجہ بندی کی 6272 درخواستیں موصول ہوئیں۔ درجہ بندی کے عمل میں اداروں کی شمولیت اس سال بہت بڑھی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ایک منصفانہ اور شفاف درجہ بندی کے لیے اسکی اچھی ساکھ ہے۔

انڈیا رینکنگس کے لیے 2016 سے 2021میں درخواست گزاروں کی تعداد میں اضافہ ۔

انجنئرنگ کے 200 اداروں کی درجہ بندی کی گئی، مجموعی زمرے میں اور یونیورسٹی کالج زمرے میں نو سو اداروں کی، منجمنٹ اور فارمیسی کے 75-75 اداروں، میڑیکل اور ریسرچ اداروں میں 50-50 ، چالیس ڈینٹل اداروں، 30قانون کے اداروں اور 25 آرکیٹکچر اداروں کی رینکنگ کی گئی۔

انڈیا رینکنگس 2021 کی اہم خصوصیات:

  • انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنا لوجی، مدراس لگاتار تیسرے سال مجموعی زمرے اور انجینئرنگ میں اول مقام پر برقرار رہا۔
  • انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، بینگلورو یونیورسٹی زمرے تحقیقی اداروں کے زمرے میں ٹاپ پر رہا۔
  • آئی ٹی آئی احمدآباد نے منیجمنٹ مضمون میں اول مقام حاصل کیا اور آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڑیکل سائنسز، نئی دہلی نے میڑیکل لگاتار چوتھے سال میڑیکل کے زمرے میں اول مقام حاصل کیا۔
  • جامعہ ہمدرد لگاتار تیسرے سال کافارمیسی سبجیکٹ کے زمرے میں سر فہرست رہا۔
  • مرانڈا کالج لگاتار پانچویں سال کالجوں میں اول مقام پر برقرار رہا۔
  • آئی آئی ٹی رڈکی پہلی مرتبہ آئی آئی ٹی کھڑگپور کو پیچھے چھوڈ کر آرکیٹکچر میں اول مقام پر رہا۔
  • نیشنل لاء اسکول آف انڈیا یونیورسٹی، بنگلورو کو لگاتار چوتھے سال قانون کے زمرے میں پہلا مقام ملا۔
  • دلی کے کالجوں نے درجہ بندی میں نمایاں مقام حاصل کیا اور پہلے دس کلجوں میں سے پانچ کالج دلی کے ہیں۔
  • منی پال کالج آف ڈینٹل سائنس، منی پال ڈینٹل زمرے میں اول نمبر آیا۔

انڈین رینکنگس 2021 یکھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔

https://www.nirfindia.org/2021/Ranking.html

 

<><><><><>

 

ش ح،ع س، ج

U.No. : 8825



(Release ID: 1753634) Visitor Counter : 107