صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈبلیو ایچ او-سیرو میں ہندوستان

ڈاکٹر بھارتی پروین پوار نے ڈبلیو ایچ او-سیرو وزارتی گول میز میں کووڈ-19وبائی امراض کے دوران ہندوستان کے چیلنجوں اور مواقع پر تبادلہ خیال کیا

’’غیر مرکوز لیکن متحد مکمل حکومتی نقطہ نظر کے ساتھ ہم نے تیزی کے ساتھ وضع ہوتےہوئے کووڈ مخصوص بنیادی ڈھانچے پر توجہ دی اور اپنی صحت دیکھ بھال کی افرادی قوت کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی‘‘

Posted On: 07 SEP 2021 3:36PM by PIB Delhi

نئی دہلی،7 ستمبر2021:صحت اور خاندانی بہبود کی وزیر مملکت نے ڈاکٹر بھارتی پروین پوار آج یہاں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے عالمی صحت تنظیم- جنوب مشرقی  ایشیائی علاقائی آفس (ڈبلیو ایچ او-سیرو) میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ انھوں نے ڈبلیو ایچ کی علاقائی کمیٹی کے جنوب مشرقی ایشیا کے لیے چوتھے اجلاس کی وزارتی گول میز میں ہندوستان کی جانب سے مداخلت کی پیش کش کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0022ZYC.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003J618.jpg

انھوں نے عالمی صحت دیکھ بھال اور صحت سے متعلق پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول  اور مستقبل کے لیے صحت کے نظام کی لچک کو مستحکم کرنے کی غرض سے ’بہتر تعمیر‘ کے لیے تیار کردہ اقدامات اور   حکمت عملی پر روشنی ڈالی۔

انھوں نے اس بات کو تسلیم کیا  کہ کووڈ-19 وبا نے زندگی کے تمام شعبوں کو متاثر کیا ہے نیز زندگیوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے،  انھوں نے کہا ’’  وزیر اعظم ہند کی رہنمائی میں ملک نے ایک فعال ، قبل از وقت ایک حکمت عملی  اپنائی جو  پورے معاشرے اور وبا سے انتظام کے لیے عوام پر مبنی نقطہ نظر کے مد نظر تیار کی گئی ہے۔ ہماری تیاری اور جوابی حکمت عملی میں صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے ہمارے ماضی کے تجربات اور بیماری کی نوعیت کے بارے میں اصلی سائنسی معلومات کو استعمال کیا تاکہ  صحت عامہ کی ضروری مداخلتوں کا فیصلہ کیا جاسکے۔وبا کے خلاف جدوجہد کرنےکے لیے ہندوستان کی حکمت عملی  پانچ ستونوں پر قائم کی گئی ہے۔ یہ ہیں، ٹیسٹ، ٹریک، ٹریٹ، ویکسینیٹ اور کووڈ مناسب رویے کی پاسداری۔ ایک غیر مرکوز لیکن متحد، حکومت کے مکمل نقطہ نظر کے ساتھ، ہم نے تیزی سے کووڈ مخصوص بنیادی ڈھانچے بنانے اور  صحت کی دیکھ بھال کرنے والی اپنی افرادی قوت کی صلاحیتوں  کو فروغ دینے پر توجہ دی‘‘۔

انھوں نے واضح کیا کہ ہندوستان کی مستحکم اور فیصلہ کن قیادت کے فعال جرأتمندانہ فیصلوں نے کووڈ-19 کے آغاز اور اس کے پھیلاؤ کو درست کردیا جن میں بیماری کے داخلات کے معاملے پر نگرانی کرنا شامل ہے نیز ملک کو صحت عامہ کی صلاحیتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے کافی وقت دیا گیا تاکہ وبائی  مرض کا موثر انتظام کیا جاسکے۔ بین شعبہ جاتی تعاون نے اعلیٰ سطح کے بین وزارتی گروپوں کے قیام  اور ریاستوں نیز دیگر شراکت داروں اور کمیونٹی کے ساتھ  مواصلات کے ذریعے  وسیع پیمانے پر وبا کے انتظام کے لیے جن آندولن (عوامی تحریک) کی سہولت بھی فراہم کی۔ قانونی اور پالیسی کی دفعات جیسے کہ وبائی امراض کے (ترمیمی) قانون 2020؛ قدرتی آفات کے انتظام کے قانون 2005 نے وبائی امراض کے انتظام کے تمام پہلوؤں کے کردار، ذمہ داریوں کو  واضح کرتے ہوئے نافذ کرنے کے لیے اہل طریقہ کار فراہم کیاہے جب کہ قومی سطح سے لے کر مقامی سطح تک حکمرانی کے طور پر بین صوبائی راستے کی سہولت فراہم کی ہے۔ یہ قوانین پہلے ہی یونین اور ذیلی قومی دائرہ اختیار کے لیے دستیاب ہے۔ مزید یہ کہ  مرکزی حکومت کی جانب  سے کنٹین منٹ، علاج سے متعلق پروٹوکول اور کووڈ انتظامیہ کے تمام پہلوؤں پر تکنیکی مدد میں ایک متحد رد عمل  کو یقینی بنایا۔

حکومت ہند باقاعدگی کے ساتھ بیماری کی بڑھتی ہوئی نوعیت پر نگرانی رکھتی ہے اور یہ ملک کے مختلف جغرافیائی علاقوں میں وبائی امراض کی متضاد رفتار پر مبنی فیلڈ ایکشن کی  مدد کے لیے ملک بھر میں اور دنیا کے مختلف حصوں تک پھیل گئی ہے۔

لیباریٹری، اسپتال کے بنیادی ڈھانچے، تشخیص اور ویکسین، ضروری لاجسٹک اور انسانی وسائل کی اپ گریڈیشن کے لحاظ سے  بنیادی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے کے لیے مخصوص کاوشیں کی گئی ہیں اور ساتھ ہی شخصی تحفظاتی سامان، تشخیص میں ضروری لاجسٹکس کے حوالے سے مقام کی صلاحیتوں کی ترقی، وینٹی لیٹر اور ویکسین بنانے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ آئی سی ایم آر ٹیسٹ پورٹل جیسے ڈیجیٹل اختراعات میں انفیکشن کے پھیلنے کی رفتار کی نگرانی کی۔ ’’آروگیہ سیتو‘‘ جیسے آئی ٹی ایپلی کیشن نے رابطہ ٹریسٹنگ کی حمایت کی اور کوون نے ویکسینیشن کی بڑی کوششوں کی نگرانی کی ہے۔ ٹیلی میڈسن  اور ای -آئی سی یو نے اور غیر کووڈ دونوں ضروری صحت خدمات کے لیے مریضوں تک رسائی کو بہتر بنایا۔

وبائی امراض کی انسانی قیمت پر اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے مشاہدہ کیا کہ ’’خاص طور پر معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقات پر کووڈ-19 کے بالواسطہ اثرات کا ادراک کرتے ہوئے، سماجی تحفظ کے متعدد اقدامات  بشمول غذائی خدمات کی فراہمی،آمدنی امداد کی اسکیمیں، چھوٹی صنعتیں، ان بچوں کے لیے معاونت جنھوں نے اپنے والدین کو کھو دیا ہے، کیونکہ کووڈ-19 اور  کووڈ-19 کے اقدامات کے  اثرات کو کم کرنے کے لیے دیگر معاشی اقدامات کئے گئے تھے۔

ہندوستان کی ترقی اور ویکسین کی دستیابی کے وسیع پیمانے پر اثرات کے ساتھ ساتھ عالمی صحت پر پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے انھوں نے ہندوستان کی ویکسی نیشن حکمت عملی کے بنیادی اصولوں کو ساجھا کیا۔ ویکسین کی پیداوار میں اضافہ، ویکسین کے لیے کمزور گروپوں کو ترجیح دینا، دیگر مالک سے ویکسین کی خریداری کی کوششیں، تمام ویکسین شرکا کو ان کی دوسری خوارک کی نگرانی کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ فراہم کرائے جاتےہیں۔

انھوں نے کہا ’’ویکسین کے انتظامیہ سے متعلق ہمارا قومی ماہر گروپ کووڈ-19 کے لیے ویکسین کے ٹرائلز، ویکسین کی مصنفانہ تقسیم،خریداری ، مالیہ کی فراہمی، ترسیل کے طریقہ کار، آبادی گروپوں کی ترجیحات وغیرہ پر رہنمائی فراہم کرتا ہےاور ویکسین کی تیاری سے متعلق قومی ٹاسک فورس، تحقیق اور کورونا وائرس کی دوا، تشخیص اور ویکسین کی ترقی پر توجہ مرکوز کرتا ہے‘‘۔ ہدف شدہ طبقات کے لیے ویکسی نیشن کے مرحلہ وار آغاز کی تفصیل بتاتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ہندوستان نے ملک کی آبادی کو ویکسین کا ٹیکہ لگانےمیں 680 ملین کا  ہندسہ عبور کرلیا ہے۔

ہندوستان نے عالمی امونائیزیشن پروگرام کے موجودہ بنیادی ڈھانچے کو استعمال کیا جس کو کولڈ چین کی پائیداری کو یقینی بنانے کے علاوہ ویکسین اور سرنجوں کی مطلوبہ لاجسٹک کے انتظام کو  مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ریاستی سطح پر 7600 سے زائد شرکار اور ضلعی سطح پر61500 کے قریب  شرکا کے علاوہ تقریباً دو لاکھ سے زیادہ ویکسی نیٹرز اور 3.9 لاکھ ویکسی نیشن ٹیم کے دیگر اراکین کو تربیت فراہم کرکے  ہر سطح پر صلاحیت کی تعمیر کی گئی۔  ویکسین کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے ویکسین تیار کرنے والوں کو گرانٹ فراہم کی گئیں اور خطرے کی  صورتحال  میں مینوفیکچرنگ کرنے کی اجازت دی گئی۔ علاوہ ازیں امدادی پیداوار میں ٹیکنالوجی کی منتقلی پر توجہ دی گئی۔ کو-ون ڈیجیٹل پلیٹ فارم نے شفاف اندراج اور کووڈ-19 ویکسی نیشن کے لیے  ہر فائدہ اٹھانے والے کی خبر رکھنے کے ساتھ ساتھ ویکسین کے دستیاب اسٹاک ، ان کے اسٹوریج کے ٹمپریچر، ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس کے بارے میں حقیقی وقت کی معلومات فراہم کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004I9UN.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005RX6R.jpg

انھوں نے اپنی تقریر ختم کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان کا کووڈ-19 کی ویکسی نیشن کا پروگرام ظاہر کرتا ہے کہ کس  طرح تمام شراکت داروں پر مشتمل تفصیلی منصوبہ بندی، آپریشن جاتی منصوبے کی موثر ترسیل، مستحکم سپلائی چین مینجمنٹ، ٹیکنالوجی کا استعمال ، اختیاری پروگرام پر عملدرآمد اس طرح کے  مشکل ترین کاموں کو موثر انداز میں کنٹرول کرسکتا ہے۔

*****

U.No.8749

(ش ح - اع - ر ا)   

 



(Release ID: 1753028) Visitor Counter : 82