وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے محصولات کی خریداری کے لیے مسلح افواج کو مالی اختیارات  سونپنے کی منظوری دی

انھوں نے اسے سکیورٹی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے دفاعی اصلاحات میں حکومت کا ایک اور بڑا قدم قرار دیا

Posted On: 07 SEP 2021 3:29PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،7 ستمبر2021:

ڈی ایف پی ڈی ایس 2021 کی اہم جھلکیاں:

  • مالی اختیارات فیلڈ تشکیلات کے حوالے آپریشن تیاریوں پر توجہ دینا؛ کاروبار میں آسانی اور خدمات کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا؛
  • قابل مالیاتی حکام کے لیے دو گنا اہم ا ضافہ، بعض جدولوں میں فیلڈ فارمیشنز میں 5-10 گنا اضافہ
  • وائف چیف آف سروسز کے تفویض کردہ مالی اختیارات میں  10 فیصد اضافہ
  • ’’آتم نربھر بھارت‘‘ کے حصول کے لیے مقامی نیز تحقیق وترقی سے متعلق شیڈول میں تین گنا اضافہ
  • فوری فوجی ضروریات کے لیے ہنگامی پاور شیڈول میں شامل دفاعی خدمات کے لیے کمان کی سطح کی نیچے کی فیلڈ تشکیلات میں ایمرجنسی مالی اختیارات کی فراہمی کو فعال کرنا

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 7 ستمبر 2021 کو نئی دلّی میں دفاعی خدمات کو مالی اختیارات کے  سپرد کرنے کا حکم جاری کیا۔ ڈی ایف پی ڈی ا یس 2021 کا مقصد فیلڈ تشکیلات کو بااختیار بنانا ہے۔ نیز آپریشن تیاریوں پر توجہ دینا، کاروبار میں آسانی کو فروغ دینا اور خدمات کے درمیان گٹھ جوڑ میں اضافہ کرنا ہے۔ سروس ہیڈ کوارٹرز اور کم فارمیشنوں کے افسران کو مالی اختیارات کے بڑھائے گئے اختیارات دینے کے نتیجے میں تمام سطحوں پر تیزی سے فیصلے کئے جائیں گے جس کی وجہ سے خدمات کی بہتر منصوبہ بندی اور آپریشنل تیاری، تیز رفتار ٹائم فریم اور وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال میں کمی ہوگی۔

مالی اختیارات کی بڑھائی گئی تفویض کی بنیادی توجہ  فیلڈ کمانڈروں کو بااختیار بنانا ہے اور فوری طور پر آپریشنل ضروریات اور ضروری خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے  سامان اور جنگی  جیسے سازوسامان کو تیزی سے خردنا ہے۔ دفاعی خدمات کے لیے ہر سطح پر اس طرح کا ا ٓخری اضافہ 2021 میں کیا گیا تھا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے  دفاع نے  ڈی ایف پی ڈی ا یس 2021 کو ملک کے  سکیورٹی بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے کی جانے والی دفاعی اصلاحات کے سلسلے میں ایک اور بڑا قدم قرار دیا۔ انھوں نے مسلح افواج کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈی ایف پی ڈی ا یس 2021 پر اعتماد کا ا ظہار کرتے ہوئے نہ صرف طریقہ کار میں تاخیر پر قابو پایا جائے گا بلکہ اس سے زیادہ  غیر مرکوزیت اور  آپریشن جاتی کارکردگی بھی پیدا ہوگی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001XB3R.jpg آ

وزیر دفاع نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ملک کے سکیورٹی نظام کو مستحکم اور ہر لحاظ سے ’آتم نر بھر‘ بنائے گی۔ وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر  زور دیتے ہوئے تمام شراکت داروں سے انھوں نے اپیل کی  کہ وہ حکومت کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تعاون کریں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0027WU4.jpg

اپنے تعارفی کلمات میں مالیات کے مشیر(دفاعی خدمات) جناب سنجیو متل نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ڈی ایف پی ڈی ا یس 2021 نچلی سطح تک کاروبار کرنے میں آسانی کی طرف رسائی کرتے ہوئے حوصلہ افزائی فراہم کرے گا اور تفویض کردہ مالی اختیارات میں اضافے کے ذریعے زیادہ سے زیادہ غیر مرکوزیت کو سہل بنائے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ دفاعی خدمات کی آپریشن جاتی تیاریوں کے حصول میں وافر کارکردگی فراہم کرے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ڈی ایف پی ڈی ا یس 2021،خدمات کے عسکری امور کے شعبے اور دفاعی محکمے کے زیر اہتمام وسیع پیمانے پر ہوئی بات چیت کا نتیجہ تھا۔

ڈی ایف پی ڈی ا یس 2021 مالی اختیارات درج ذیل نظام الاوقات کی ہدایات پر مشتمل ہے:

  • آرمی شیڈول آف پاورز-2020 (اے ایس پی-2021)
  • بحریہ شیڈول آف پاورز-2021 (این ایس پی-2021)
  • فضائیہ شیڈول آف پاور-2021 (اے ایف ایس پی-2021)
  • آئی ڈی ایس شیڈول آف پاور-2021 (آئی ایس پی-2021)

اہل مالیاتی اتھارٹیز (سی ایف اے) کے لیے دو گنا تک کے عمومی اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔ بعض شیڈولز میں  فیلڈ فارمیشن میں یہ اضافہ آپریشن جاتی ضروریات کی وجہ سے 5-10 گنا تک کا ہے۔ سروسز سے  وائس  چیف کو تفویض کردہ مالی اختیارات میں دس فیصد کا اضافہ کردیا گیا ہے جس کی میزانی حد 500 کروڑ روپئے ہے۔ مربوط دفاعی  عملے کے سربراہ کے چیئرمین چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی آئی ایس سی) کو بطور سی ایف اے کے مالی اختیارات کی حد کو کافی حد تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اور خدمات کے نائب سربراہوں  کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔

نئے سی ایف ایز کو شامل کیا گیا ہے جن میں ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف،ماسٹر جنرل بقائے باہم، اے ڈی جی (سرکاری خرید)/ ڈی جی فضائی آپریشنز/ ڈی جی بحریہ کے آپریشنز وغیرہ شامل ہیں۔ نیز فیلڈ فارمیشنز میں تنظیم نور/ تشکیل نو/کاردگی پر مبنی ضروریات کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔

دفاعی خدمات کے لیے کمان کی سطح سے نیچے کی فیلڈ فارمیشنز کو ہنگامی مالی اختیارات کی ایک فعال فراہمی کو اب ہنگامی پاور شیڈول میں شامل کیا گیا ہے جو کہ اب تک وائس چیفس اور سی-اِن- سی/ یا ا س کے مساوی کے لیے بھی دستیاب تھی۔

فیلڈ کمانڈروں کے لیے خصوصی شیڈولز جو جامع /آپریشن جاتی ضروریات کو پورا کرنے کےلیے ہیں، موجودہ فوجی شیڈول کے مطابق ، فوجی کمانڈرس خصوصی مالیاتی پاورز، بحریہ اور فضائیہ کے لیے پیش کئے گئے ہیں۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے تصور کردہ ’آتم نربھر بھارت‘ کے مطابق  موجودہ اختیارات کے تین گنا تک ملکیت نیز تحقیق وترقی سے متعلق نظام الاوقات میں بھی نمایاں اضافے کو منظوری دی گئی ہے۔

ہندوستانی فضائیہ کے لیے طیاروں اور متعلقہ سازوسامان کی خدمات حاصل کرنے کا ایک نیا شیڈول متعارف کرایا گیا ہے جس میں ہوا سے ہوا میں ایندھن بھرنے کی خدمات حاصل کرنا ہے۔ بھارتی بحریہ کے لیے قدرتی آفات نیز ایچ اے ڈی آر کارروائیوں کا جواب دینے کے لیے قدرتی آفات کے انتظامیہ برکس کی بھرتی کے اختیارات کمان  لیول کو  تفویض کئے گئے ہیں۔

دفعات کی وضاحت یا ان کی تشریح، اے ایس اینڈ ایف اے، وزارت دفاع کی زیر سربراہی ا یک بااختیارات کمیٹی کرے گی جس میں دفاعی محکمے (ڈی او ڈی)/ فوجی امور کے محکمے (ڈی ایم اے) کے نمائندگان شامل ہوں گے۔

دفاعی محکمے (مالیات) کی مشاورات سے ڈی او ڈی / ڈی ایم اے کے انتظامی ونگ کی طرف سے نگرانی، شناخت اور داخلی  آڈٹ کے طریقہ کار کا نظام بھی قائم کیا جائے گا۔ غیر خریداری اختیارات کے لیے اہم وفد کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

اس موقع پر چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل کرمبیر سنگھ، دفاعی کے سکریٹری ڈاکٹر اجے کمار اور وزارت دفاع کے دیگر اعلیٰ اور شہری حکام بھی موجود تھے۔

*****

U.No.8749

(ش ح - اع - ر ا)   

 



(Release ID: 1753026) Visitor Counter : 95