امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت

ہال مارکنگ اسکیم شاندار کامیابی سے ہمکنار ہو مل رہی ہے ؛ ایک

کروڑ سے زائد زیورات کی ہال مارکنگ کی گئی ہے

90000 سے زائد زیورات ساز پہلے سے ہی رجسٹرڈ ہیں

تقریبا 4 4 لاکھ زیورات کی روزانہ ہال مارکنگ کی جا رہی ہے

ایچ یو آئی ڈی پر مبنی ہال مارکنگ ہر ایک کے لیےفائدے کا سودا ہے ، کیونکہ یہ صنعت کے کام کاج میں شفافیت لاتا ہے ، صارفین کو ان کے پیسوں کے بدلے صحیح سامان حاصل کرنے کے حق کو یقینی بناتا ہے اور انسپکٹر راج کے امکانات کو ختم کرتا ہے

کوئی بھی اپنے زیورات پر ہال مارک کا نشان لگوا سکتا ہے نیز سونےاور اپنی بچت کی حقیقی مالیت کا تعین کرسکتا ہے

ہال مارکنگ کرنے کا کام جاری ہےاور حکومت زیورات سازوں کے ساتھ مسلسل بات چیت کر رہی ہے اور اسکیم کے فوائد کی بیشتر زیورات ساز ستائش کر رہے ہیں

حکومت حقیقی مطالبات کو پورا کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے

Posted On: 21 AUG 2021 5:33PM by PIB Delhi

نئی دہلی۔ 21  اگست        "ہال مارکنگ اسکیم ایک شاندار کامیابی سے ہمکنار ہورہی ہے اور کم عرصے میں ہی ایک کروڑ سے زائد زیورات پر ہال مارکنگ کرنے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔" ہندوستان میں زیورات پر ہال مارکنگ کے کام میں ہوئی پیش رفت کے موضوع پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی آئی ایس کے ڈائریکٹر جنرل نے یہ بات کہی ۔ انہوں نے کہا کہ 90000 سے زائد زیورات سازوں نے بھی اس عرصہ میں رجسٹریشن کرائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم زیورات سازوں کے تعاون کی وجہ سے شاندار کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہے ، جو اس حقیقت سے ظاہر ہوتی ہے کہ رجسٹرڈ زیورات سازوں کی تعداد بڑھ کر 91،603 ہو گئی ہے اور یکم  جولائی 2021 سے 20 اگست تک ہال مارکنگ اور ہال مارکنگ کے لیے موصول ہونے والے زیورات کی تعداد بالترتیب ایک کروڑ سترہ لاکھ اور ایک کروڑ دو لاکھ ہو گئی ہے۔ ہال مارکنگ کے لیے اپنے زیورات بھیجنے والے زیورات سازوں  کی تعداد یکم جولائی سے 15 جولائی کے دوران 5145 سے بڑھ کر یکم اگست سے 15 اگست 2021 کے دوران 14349 ہوگئی۔ اور 861 اے ایچ سی نے ایچ یو آئی ڈی پر مبنی نظام کے مطابق ہال مارکنگ کا کام  شروع کر دیا ہے۔

ہال مارکنگ کی رفتار کے مسئلے پر غور کرتے ہوئے بی آئی ایس کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ہال مارکنگ  کرنے کی رفتار میں بتدریج اور تسلی بخش اضافہ ہوا ہے۔ یکم جولائی سے 15 جولائی 2021 کے دوران 14.28 لاکھ زیورات کو ہال مارک کیا گیا ، لیکن یہ تعداد یکم اگست سے 15 اگست کے دوران بڑھ کر 41.81 لاکھ ہوگئی۔ 20 اگست 2021 کو ایک ہی دن میں 3 لاکھ 90 ہزار زیورات کی ہال مارکنگ کی گئی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک سال میں 10 کروڑ زیورات کی ہال مارکنگ کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے ، اگر ملک بھر میں ہال مارکنگ لازمی ہو جائے تو ہال مارک کیے جانے والے زیورات کی تعداد کا ایک  تخمینہ شدہ اعداد و شمار ہے۔

ڈائریکٹر جنرل ، بی آئی ایس نے کچھ لوگوں کے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ 256 اضلاع میں اے ایچ سی کی موجودہ صلاحیت مانگ پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ انہوں نے ڈیٹا شیئر کرتے ہوئے کہا  کہ یکم اگست سے 15 اگست 2021 کے پندرہ دنوں کے دوران 853 اے ایچ سی میں سے صرف 161 اے ایچ سی ایسے تھے جنہیں روزانہ 500 سے زائد زیورات موصول  ہوئے اور 300 سے زیادہ اے ایچ سی کو روزانہ 100 سے کم زیورات ملے۔ لہذا ، ملک میں بہت کم صلاحیت کا استعمال ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے ایچ سی کے کام کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور انہیں ایف آئی ایف او کے اصول پر عمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اے ایچ سی کی رسائی بڑھانے کے لیے ڈی او سی اے کو ایک تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت زیورات کی صنعت کے مطالبات کے تئیں قابل رسائی اور حساس رہی ہے نیز ان کے حقیقی مطالبات کی ستائش  کا ایک مثالی احساس کا اظہار کیا ہے ۔ امور صارفین کے وزیرنے لازمی ہال مارکنگ کی اسکیم شروع ہونے سے پہلے ایک اعلیٰ سطحی ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی تھی  اور اس کمیٹی کے تین اجلاس ہوچکے ہیں ۔ لازمی ہال مارکنگ کے اجراء کے بعد ، ایک مشاورتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی تاکہ لازمی ہال مارکنگ کے آسانی سے نفاذ کے لیے سفارش کردہ اقدامات کیے جائیں۔ اس کمیٹی نے چھ میٹنگیں کیں اور کچھ دن پہلے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کی۔ شراکت داروں کے ساتھ آخری میٹنگ 19 اگست 2021 کو ہوئی تھی جس میں مینوفیکچررز ، ہول سیلر ، ریٹیلر ، صارفین گروپ ، اے ایچ سی ، سبھی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ زیورات کی صنعت کے بعض حلقوں کی جانب سے ہڑتال کا اعلان انتہائی غیر ضروری تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 19 اگست 2021 کو شراکت داروں کی میٹنگ میں کئی تنظیموں کے نمائندوں نے ہڑتال کے اعلان کی مذمت کی اور ایچ یو آئی ڈی پر مبنی ہال مارکنگ اسکیم کی مکمل حمایت کی۔

زیورات کی صنعت کے حقیقی مطالبات کو پورا کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بی آئی ایس کے ڈائریکٹر جنرل نے درج ذیل حقائق پر روشنی ڈالی ۔

  1. صرف اے ایچ سی والے 256 اضلاع میں ہال مارکنگ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
  2. ایچ یو آئی ڈی شروعات میں اے ایچ سی کی سطح تک محدود تھی اور نئے نظام کے مکمل طور پر طے ہونے کے بعد اسے زیورات سازوں  اور صارفین کی سطح پرنافذ کیا جانا تھا۔
  3. رجسٹریشن کا عمل آسان بنا یا گیا اور رجسٹریشن فیس معاف کر دی گئی۔
  4. 20 ، 23 اور 24 قیراط سونے کے زیورات کی ہال مارکنگ کی اجازت دی گئی ۔
  5. یکساں طور پر خالص اور چھوٹے چھوٹے ملاوٹ والے زیورات کی ہال مارکنگ کی اجازت دینے کے لیے ہندوستانی معیار میں ترمیم کی گئی۔
  6. اے ایچ سی کی سطح پر بھی زیورات کوسونپنے کی اجازت دینے کے لیے سافٹ ویئر میں بہتری لائی گئی ۔
  7. ہیڈ کوارٹر اور برانچ دفاتر میں بنائے گئے ہیلپ ڈیسک بنایا گیا  اور اب تک 300 آگاہی کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔
  8. مشاورتی کمیٹی نے ہال مارکنگ سے متعلق مسائل کا گہرائی سے جائزہ لیا اور اپنی رپورٹ ڈی او سی اے کو پیش کی۔

سوالات کا جواب دیتے ہوئے بی آئی ایس کے ڈائریکٹر جنرل نے واضح کیا کہ یہ اطلاع سراسر غلط ہے کہ بی آئی ایس زیورات کی بی – ٹو – بی نقل و حرکت کی نگرانی کررہا ہے اور زیورات  سازوں کو بی آئی ایس پورٹل پر اپنی فروخت کی تفصیلات اپ لوڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ زیورات سازوں کی جانب سے ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس اسکیم  کو شاندار کامیابی مل رہی ہے اور ایک کروڑ سے زائد زیورات کی ہال مارکنگ  کرنے کے بعد ، اس اسکیم کے التوا یا واپسی کے بارے میں بات کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ ایچ یو آئی ڈی پر مبنی ہال مارکنگ ہر ایک کے لیےمفید ہے ، کیونکہ اس سے صنعت کے کام کاج میں شفافیت آتی ہے ، یہ صارفین کو ان کے پیسے کے لیے صحیح چیزیں حاصل کرنے کے حق کو یقینی بناتا ہے اور انسپکٹر راج کے امکانات کو ختم کرتا ہے۔

انہوں نے صنعت سے منسلک افراد سے اپیل کی کہ وہ اسکیم کے نفاذ میں اپنا بھرپور تعاون دیں اور ہڑتال اور اس طرح کی سرگرمیوں سے باز رہیں ، کیونکہ حکومت ان کے حقیقی مطالبات کے حل کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔   

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔ رض  ۔ ج ا  (

U-8139



(Release ID: 1747925) Visitor Counter : 50