کابینہ

مرکزی کابینہ نے عدلیہ کے لئے بنیادی ڈھانچے سے جڑی سہولتوں کی ترقی کے لئے مرکزی کفالتی اسکیم (سی ایس ایس)کو اگلے 5 سال تک کے لئے جاری رکھنے کی منظوری دی

اس پر آنےو الی کل 9000کروڑ روپے کی لاگت میں مرکزی حکومت کی حصے داری 5357کروڑ روپے کی ہوگی


انصاف دلانے اور قانونی اصلاح سے جڑے ایک قومی مشن کے ذریعے گرام نیایالیہ اسکیم

 مشن موڈ میں لاگو کیا جائے گا

Posted On: 14 JUL 2021 4:04PM by PIB Delhi

نئی دہلی،14؍جولائی2021:

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے عدلیہ کے لئے بنیادی ڈھانچے سے جڑی سہولتوں کی ترقی کے لئے مرکزی کفالتی اسکیم (سی ایس ایس ) کو یکم اپریل 2021ء سے لے کر 31 مارچ 2026ء تک مزید پانچ سالوں کے لئے جاری رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس پر آنےو الی کل 9000کروڑ روپے کی لاگت میں مرکز حکومت کی حصے داری 5357کروڑ روپے کی ہوگی۔جس میں گرام نیایالیہ اسکیم اور انصاف دلانے و قانونی اصلاح سے جڑے ایک قومی مشن کے ذریعے مشن موڈ میں اس منصوبے پر عمل درآمد کے لئے 50کروڑ روپے کی لاگت بھی شامل ہے۔

کم جگہ ہونے کی وجہ سے کئی عدالتیں ابھی بھی کرایے کی عمارتوں میں کام کررہی ہیں۔ان میں کچھ تو بنیادی سہولتوں کے نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی قابل رحم حالت میں ہیں۔ تمام عدالتی حکام کو رہائشی سہولتوں کا بھی فقدان ہے۔ اس سے ان کے کام کاج اور کارکردگی پر منفی اثر پڑتا ہے۔ موجودہ حکومت عدلیہ انتظامیہ کی سہولت کے لئے ماتحت عدالتوں کو اچھی طرح سے تیار کرکے عدالتی بنیادی ڈھانچہ مہیا کرانے کی ضرورتوں کو لے کر حساس رہی ہے، تاکہ تمام لوگوں کے لئے انصاف تک رسائی آسان ہو اور انہیں وقت پر انصاف مل سکے۔عدالتوں میں زیر التوا اور بقایا معاملوں کو کم کرنے کے لئے مناسب عدالتی بنیادی ڈھانچے کا انتظام بے حد اہم ہے۔

اس تجویز سے ضلع اور ماتحت عدالتوں کے عدالتی افسران کے لئے 3800 کورٹ ہال اور 4000 رہائشی اکائیوں (نئی اور موجودہ وقت میں چل رہے دونوں قسم کے منصوبے)، وکلاء کے لئے 1450 ہال ، 1450 بیت الخلاء، کمپلیکس اور 3800 ڈیجیٹل کمپیوٹر کمروں کی تعمیر میں مدد ملے گی۔ اس سے ملک میں عدلیہ کے کام کاج اور کارکردگی  کو بہتر بنانے میں بڑی مدد ملے گی اور نئے ہندوستان کے لئے بہتر عدالتوں کی تعمیر کی سمت میں ایک نیا قدم ہوگا۔

مرکزی کابینہ نے 50 کروڑ روپے کے مجموعی فنڈ کے ساتھ 5 سال کی مدت کے لئے جاری اور نہیں جاری ہونے والی گرانٹ کی تصدیق کرکے گرام عدالتوں کو مدد دینے کے فیصلے کو بھی منظوری دی۔ حالانکہ نوٹیفائیڈ گرام عدالتوں میں کام کاج شروع ہونےاور محکمہ انصاف کے گرام نیا یالیہ پورٹل پر عدلیہ حکام کی تقرری کئے جانے اور اس بارے میں رپورٹ دیئے جانے کے بعد ہی ریاستوں کو فنڈ جاری کیا جائے گا۔ایک سال کے بعد اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ گرام نیایالیہ اسکیم نے دیہی علاقوں میں حاشیے پر رہنے والے لوگوں کو فوری اور کفایتی  انصاف فراہم کرنے کے اپنے ہدف کو کامیابی کے ساتھ حاصل کیا ہے یا نہیں۔

اس منصوبے کی اہم سرگرمیاں:

عدلیہ کے لئے بنیادی ڈھانچے سے جڑے سہولتوں کی ترقی کے لئے مرکزی کفالتی اسکیم (سی ایس ایس)94-1993ء سے چل رہی ہے۔ عدالتوں میں زیر التوا اور بقایا معاملوں کو کم کرنے کے لئے وافر عدالتی بنیادی ڈھانچے کا انتظام بے حد اہم ہے۔ ماتحت عدالتوں کے لئے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی بنیادی ذمہ داری بھلے ہی ریاستی حکومتوں کی ہوتی ہے، لیکن مرکزی حکومت اس سی ایس ایس کے ذریعے تمام ریاستوں؍ مرکز کے زیر انتظام ریاستوں میں عدالتی حکام (جے او)کے لئے عدالتی عمارتوں اور رہائشی کوارٹروں کی تعمیر کے لئے ریاستی سرکاروں کے وسائل میں اضافہ کرتی ہے۔موجودہ تجویز میں وکیلوں کے ہال، بیت الخلاء، عمارتوں اور ڈیجیٹل کمپیوٹر کمروں کی تعمیر جیسی اضافی سرگرمیوں کا التزام ہے۔  یہ ڈیجیٹل ڈیوائڈ  کو کم کرنے کے علاوہ وکیلوں اور مدعیوں  لڑنے والوں کی سہولت میں اضافہ کرے گا۔

اس منصوبے کے آغاز سے لے کر 2014ء تک 20 سے زیادہ برسوں میں مرکزی حکومت نے ریاستی حکومتوں ؍ مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کو صرف 3444کروڑ روپے ہی فراہم کئے، اس کے ٹھیک الٹ موجودہ حکومت نے پچھلے سات سالوں کے دوران اب تک 5200کروڑ روپے منظور کئے ہیں، جو کہ اس شعبے میں اب تک دی گئی کل منظوری کا تقریباً 60 فیصد ہے۔

گرام نیایالیہ آرڈیننس 2008 جو کہ 2 اکتوبر 2009ء سے لاگو ہوا  تھا، کو ملک کے دیہی علاقوں میں قانونی نظام تک فوری اور آسان رسائی کے مقصد سے گرام عدالتوں کے قیام کے لئے لایا گیا تھا۔ان عدالتوں کے قیام کے لئےگرانٹ سے الگ اخراجات کے ضمن میں ابتدائی لاگت میں مالی مدد کے مقصد سے یکمشت حل کی شکل میں فی گرام نیایالیہ 18.00لاکھ روپے تک کی محدود مدد کے ساتھ یکساں طور سے مرکزی مدد کا ایک منصوبہ تیا رکیا گیا تھا۔مرکزی حکومت نے اِن عدالتوں کے شروع ہونے سے پہلے 3(3)سالوں کے دوران فی نیایالیہ فی سال 3.2لاکھ روپے تک کی حد کے تحت گرانٹ سے الگ خرچ کا 50فیصد حصہ خود برداشت کرنے کا فیصلہ لیا۔ 13 ریاستوں نے 455 گرام عدالتوں کو نوٹیفائی کرکے اس منصوبے کو لاگو کیا ہے، جن میں سے 226ابھی مصروف کار ہے۔ سی ایس ایس منصوبے کےآغاز سے لے کر اب تک 81.53کروڑ روپے کی رقم منظور کی گئی ہے۔

26-2021ء تک اس منصوبے پر عمل درآمد

کل 900کروڑ روپے کی لاگت سے جس میں گرام نیایالیہ اسکیم کے لئے مخصوص کئے گئے 50 کروڑ روپے کی رقم سمیت کل 5357کروڑ روپے کے منظور شدہ فنڈ کے ساتھ مرکزی حکومت کا حصہ شامل ہے۔ یکم اپریل 2021ء سے لے کر 31 مارچ 2026ء تک 5 سالوں کے لئے درج ذیل سرگرمیوں پر عمل درآمد ہوگی۔

  1. کل 4500کروڑ روپے کی لاگت سے تمام ضلع اور ماتحت عدالتوں میں سبھی ضلع اور ماتحت عدالتوں کے عدالتی حکام (جے او)کے لئے 3800 کورٹ ہال اور 4000رہائشی اکائیوں کی تعمیر۔
  2. کل 700کروڑ روپے کی لاگت سے تمام ضلع اور ماتحت عدالتوں میں 1450 وکیلوں کے لئے ہال کی تعمیر۔
  3. کل 47کروڑ روپے کی لاگت  تمام ضلع اور ماتحت عدالتوں میں 1450 بیت الخلاء کمپلیکس کی تعمیر۔
  4. کل 60کروڑ روپے کی لاگت سے ضلع و ماتحت  عدالتوں میں 3800 ڈیجیٹل کمپیوٹر کمروں کی تعمیر۔
  5. کل 50کروڑ روپے کے خرچ کے ساتھ اس منصوبے کو لاگو کرنے والی ریاستوں میں گرام عدالتوں میں کام کاج کی شروعات۔

اس منصوبے کی نگرانی

  1. محکمہ انصاف کے ذریعے ایک آن لائن نگرانی نظام قائم کیا گیا ہے، جو پیش رفت، زیر تعمیر کورٹ ہال اور رہائشی اکائیوں کے پورا ہونے سے متعلق ڈاٹا جمع کرنے کے ساتھ ساتھ بہتر املاک نظم کو ممکن بناتاہے۔
  2. محکمہ انصاف نے اِسرو کی تکنیکی مدد سے  ایک آن لائن نگرانی سسٹم تیار کیا ہے۔ اُنّت ’’نیائے وکاس-2.0‘‘ویب پورٹل اور موبائل ایپلی کیشن کا استعمال مکمل ہوچکے یا جاری منصوبوں کی جیو ٹیگنگ کے ذریعے سی ایس ایس عدالتی بنیادی ڈھانچے سے جڑے منصوبوں کی حقیقی اور مالی پیش رفت کی نگرانی کے لئے کیا جاتا ہے۔ان منصوبوں پر عمل آوری کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے تمام ریاستوں؍ مرکز کے زیر انتظام ریاستوں اور ہائی کورٹوں کے نمائندوں کے ساتھ سہ ماہی جائزہ میٹنگیں منعقد کی جاتی ہیں۔
  3. فوری اور اچھی تعمیر کو ممکن بنانے کے مقصد سے نگرانی کمیٹی کی مستقل ریاستی سطح کی میٹنگیں مختلف ہائی کورٹوں ، ریاستوں کے ذریعے ریاست کے چیف سیکریٹریوں اور پی ڈبلیو ڈی محکمے کے افسران کےساتھ منعقد کی جاتی ہے۔
  4. گرام نیا یالیہ پورٹل اس منصوبے کو نافذ کرنے والی ریاستوں کے ذریعے گرام عدالتوں کے کام کاج کی آن لائن نگرانی میں مدد کرتا ہے۔

اس منصوبے سے فائدہ

یہ سی ایس ایس  اسکیم پورے ملک میں ضلع اور ماتحت عدالتوں کے ججوں ؍عدالتی حکام کے لئے ہر طرح سے سجے ہوئے کورٹ ہال کااور رہائشی سہولتوں  کی دستیابی میں اضافہ کرے گی۔ اس اسکیم کے ذریعے عدالتوں کو بہتر سہولتیں بھی فراہم کی جارہی ہیں۔ تاکہ عدلیہ اور وکلاء دونوں کے لئے آرام دہ صورتحال پیدا ہوسکے  اور عام آدمی کی زندگی کو آسان بنایا جاسکے۔ ڈیجیٹل کمپیوٹر روم کے قیام سے ڈیجیٹل صلاحیتوں میں بھی بہتری آئے گی اور ہندوستان کے ڈیجیٹل انڈیا نظریے کے ایک حصے کی شکل میں ڈیجیٹیلائزیشن کے آغاز کو بڑھاوا ملے گا۔اس سے عدلیہ کے مجموعی کام کاج اور کارکردگی میں بہتری لانے میں مدد لے گی۔گرام نیا یالیہ کو دی جانے والی مستقل امداد عام آدمی کو اس کے دروازے پر فوری،  حسب منشا اور کفایتی انصاف مہیا کرانے میں بھی حوصلہ دے گی۔

 

************

 

ش ح۔ج ق۔ن ع

(U: 6540)



(Release ID: 1735617) Visitor Counter : 161