سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

ایک نیامصنوعی انٹیلی جنس - رہنمائی والا پلیٹ فارم  ،واٹس ایپ پرکووڈ سے پہلے کے اقدامات   کی سہولت فراہم کرے گا

Posted On: 02 JUN 2021 9:30AM by PIB Delhi

نئی دہلی،  02 جون2021: ایک نیامصنوعی انٹیلی جنس - رہنمائی والا پلیٹ فارم  ، اب  ان ڈاکٹروں کے لئے، واٹس ایپ  پر ،سینے کے ا یکسرے کی تصاویر کی مدد کے ساتھ کووڈ -19 کی تیزی کے ساتھ اسکریننگ کے ذریعہ  قبل از کے  اقدامات   میں مدد کرے گا ، جنہیں  ایکسرے مشینوں کی رسائی حاصل ہے۔ایکسرے سیتو نامی یہ حل  موبائل کے ذریعہ بھیجی گئی کم ریزولیوشن والی  تصاویر کے ساتھ بھی کام کرسکتا ہے نیز یہ تیز اور استعمال میں آسان ہے  اور دیہی علاقوں میں مرض کی شناخت کرنے کی سہولت فراہم کرسکتا ہے۔

جیسا کہ ہندوستان کی دیہی سرزمین کووڈ -19 کی وبا کی لہر جاری ہے ، تو یہ بات  انتہائی عام ہوگئی ہے کہ بڑے اورتیز  پیمانے پر ٹیسٹنگ کی جائے،  ٹریسنگ  کی جائے اور الگ تھلگ  رکھنے کے زونس وضع کرنے کے لئے  کام کیا جائے ۔ ایک ایسے وقت میں جب اس طرح کے ٹیسٹ  بہت سے شہروں  میں  ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت لے رہے ہیں تواس  صورتحال میں دیہی علاقوں میں یہ چیلنج اور بھی زیادہ  بڑا ہے۔آسان متبادل ٹیسٹ   لازمی ہیں کیونکہ آر ٹی –پی سی آر ٹیسٹ  بھی  بہت سے ویرئنٹس  کے لئے   ’جھوٹی منفی ‘  رپورٹ دے رہے ہیں۔

اے آر ٹی پی اے آر کے ( مصنوعی انٹیلی جنس اور روبوٹک ٹکنالوجی پارک)  ،  جو کہ بنگالورو کے سائنس کے ہندوستانی انسٹی  ٹیوٹ ( آئی آئی ایس سی ) کے ذریعہ  قائم کردہ ایک غیر منافع بخش   فاؤنڈیشن ہے ،جسے  حکومت ہند کے  محکمہ سائنس اور ٹکنالوجی ( ڈی ایس ٹی ) کی مدد اور بنگالورو میں  قائم  ہیلتھ ٹیک اسٹارٹ اپ نرامائی اور  سائنس کے ہندوستانی انسٹی ٹیوٹ  ( آئی آئی ایس سی ) کے ذریعہ  قائم کیا گیا ہے۔اس فاؤنڈیشن نے  ایکسرے سیتو  تیار کیا ہے ،جسے  خاص طورپر کووڈ کے  پازیٹو  مریضوں کی شناخت کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے، جو  واٹس ایپ  پر بھیجی گئی کم ریزولیوشن والی  سینے کے  ایکسرے کی تصاویر سے بھی پازیٹو   مریضوں کا پتہ لگاسکتا ہے۔

اس میں  ڈاکٹروں کے ذریعہ   نظر ثانی  کرنے اور مقامی  صورتحال کی سنگینی  پر اندازہ لگانے کے لئے متاثرہ علاقوں کے  سیمنٹک اینوٹیشن  بھی شامل ہیں، جو  ڈاکٹروں کی دیگر طریقہ کار سے آسانی کے ساتھ تصدیق کرنے میں  مدد کرتی ہیں اور ابھی تک ہندوستان کے دوردراز کے علاقوں سے  پہلے ہی تقریباََ  1200+ رپورٹیں  حاصل ہوچکی ہیں۔

صحت  کی  جانچ کرنے کے لئے  ،  ڈاکٹر کو صرف  www.xraysetu.com  کی سائٹ  وزٹ کرنی ہوتی ہے اور  Try the Free XraySetu Beta کے بٹن پر کلک کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ پلیٹ فارم ا س شخص کو  دوسر ے پیج  پر لے جائے گا، جہاں وہ شخص ویب یا اسمارٹ فون  کی ایپلی کیشن کے توسط سے  واٹس ایپ پر مبنی چاٹ بوٹ   کے ساتھ منسلک کردے گا۔یا پھر ڈاکٹر ایکسرے سیتو خدمت کو شروع  کرنے کے لئے  ٹیلی فون نمبر  918046163838 + پر ایک واٹس ایپ  میسج  بھیج سکتا ہے۔ اس کے بعد انہیں  صرف  مریض  کے ایکسرے کی تصویر  پر کلک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ  چند ہی منٹوں میں   دو صفحات  پر مبنی آٹومیٹیڈ  تشخیصی   رپورٹ  حاصل کرسکتے ہیں  جس میں  اینو ٹیٹیڈ تصاویر  بھی ہوتی ہیں۔کووڈ -19  کے اثر کے  امکانات کی تخفیف  کے ساتھ ساتھ  یہ رپورٹ ڈاکٹر کے فوری معائنے کے لئے ایک مقامی  اثراتی شدت   کو بھی  اجاگر کرتی ہے۔

برطانیہ کی صحت کی قومی انسٹی ٹیوٹ  سے 125000 ایکسرے  کی  تصاویر کے ساتھ ساتھ  1000+ سے زیادہ ہندوستانی  کووڈ کے مریضوں کی تصاویر سے  ، ایکسرے سیتو   نے  انتہائی حساسیت کے ساتھ   بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے: 98.86فیصد اور  خصوصی طورپر : 74.74فیصد ۔

اے آر ٹی پی اے آر کے  کے بانی  اور سی ای او  جناب اوما کانت سونی نے کہا ’’ ہمیں 1.36 بلین عوام کی ضروریات پرتوجہ مرکوز کرنے کے لئے ٹکنالوجی کو  بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔ خاص  طور پر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ  10یہاں لاکھ آدمیوں کے لئے صرف ایک ریڈیو  لوجسٹ  ہے۔صنعت اور اکیڈمیاں  کے تعاون کے ساتھ تیار کردہ  ایکسرے سیتو  ،  مصنوعی  انٹیلی جنس  جیسی  انتہائی کارآمد ٹکنالوجیوں کی  راہ ہموارکرتا ہے ، جو  دیہی ہندوستان میں انتہائی کم لاگت  پر جدید ترین   صحت دیکھ بھال کی ٹکنالوجی   فراہم کرتا ہے۔

نیرامائی  کی بانی  اور سی ای او  ڈاکٹر گیتھا  منجوناتھ نے کہا ’’ نیرامائی نے  آرٹ  پارک اور آئی آئی ایس سی کے ساتھ ، دیہی علاقے کے ان ڈاکٹروں  کے لئے کووڈ اسکریننگ کا  ایک  تیز تر طریقہ کار فراہم کرنے کے لئے ساجھیداری کی ہے ، جن کی رسائی کی ایکسرے کی مشینوں تک ہے۔ ایکسرے سیتو  سینے کے ایکسرے کی  ایسی آٹومیٹک  ترجمانی کرتا ہے ، جو  یہ ظاہرکرتی ہے کہ  مریض  کے پھیپھڑے متاثر ہیں ، جن سے کووڈ  -19  کے انفیکشن کا عندیہ ملتا ہے۔‘‘

آئی آئی ایس سی کے پروفیسر چرنجیو  بھٹاچاریہ نے کہا ’’  کووڈ پازیٹو ایکسرے  تصاویر کی عدم موجودگی میں ہم نے ایک منفرد   ٹرانسفر لرننگ  طریقہ کار وضع کیا ہے ، جو  پھیپھڑوں  کی دستیاب  ایکسرے کی تصاویر کا آسانی کے ساتھ یہ جاننے کے لئے  معائنہ کرتا ہے کہ وہ کون سے کارآمد طریقے ہیں ، جن میں زیادہ  پیش کوئی کی قوت  ہے اور ضروری نہیں کہ وہ کووڈ  پازیٹو  ہی ہو ۔ ہم نے ایک  اعتماد اسکور  پیدا کیا ہے ،جس کی رہنمائی پھیپھڑوں کے حصوں  کے  ذریعہ ہوتی ہے ، جو  متاثر ہوتے ہیں۔ یہ نظام   پیش گوئی  کو باہر لاتا ہے،  متاثرہ  حصوں کو  لوکلائز کرتا ہے  اور ایک ایسی رپورٹ  تیار کرتا ہے جو کہ چند ہی منٹوں  میں  ایک اعتمادی اسکور  وضع  کردیتا ہے۔‘‘

کووڈ -19  کے علاوہ  یہ  پلیٹ فارم ،  پھیپھڑوں سے متعلق اضافی عارضوں   کی بھی شناخت کرسکتا ہے ، جن میں  تپ دق  اور نمونیہ کے  علاوہ  دیگر عارضے شامل ہیں۔ مزید برآں اسے  اینلالوگ  اور ڈجیٹل ایکسریز  ،  دونوں کے لئے ، استعمال کیا جاسکتا ہے اور اسے  گزشتہ 10  مہینے سے زیادہ عرصے میں  300سے زیادہ ڈاکٹروں کے ذریعہ کامیابی کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے۔ 

ایکسرے سیتو جیسی ٹکنالوجیاں    ،مصنوعی  انٹیلی جنس پر مبنی  جدید ترین  نظاموں  کو  فعال بناسکتی ہیں ، جو  متحرک   پی ایچ سیز     کو مزید بااختیار بنائیں  گی ، جو کہ  انتہائی کم لاگت پر ہندوستان کے پورے دیہی علاقے میں  بھی صحت دیکھ بھال تک رسائی کو آسان بناسکتی ہیں۔

کے ایم سی منگلورو  کے پروفیسر اور  کارڈیولوجی کے ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر پدمانبھ کامت  ،  جو کہ ایکسرے سیتو  کے   اوائل کے  مشیر  اور  یوزر رہ چکے ہیں،  نے  زور دیا کہ اس طر ح کی ٹکنالوجیاں  ،صحت دیکھ بھال اور ٹکنالوجی کو  دبے کچلے لوگوں  اور دیہی علاقوں تک  پہنچاسکتی ہیں۔اس خدمت کے ایک اور اوائل کے یوزر  ، کرناٹک میں شموگا کے مقام پر صحت کے طبی آفیسر ڈاکٹر انل کمار نے مسرت کا اظہار کیا کہ یہ ٹکنالوجی   مریضوں کی  تیز تر تشخیص  حاصل کرنے میں  مددگارثابت ہورہی ہے۔

ڈی ایس ٹی کے سکریٹری  پروفیسر آسوتوش شرما نے کہا ’’ ڈی ایس ٹی  کے ذریعہ قائم کردہ سائبر  - فزیکل نظاموں کے  بہت  سے ہبس ،مصنوعی انٹیلی جنس ،ورچوئل رئیلٹی  ، ڈاٹا اینالیٹکس ، روبوٹکس  ،  سینسر اور تشخیص سے  صحت کے شعبے کے   چیلنجوں  پر توجہ مرکو ز کرنے والے   ، نیز  ٹیلی میڈیسن کے لئے  بایو  میڈیکل   آلات  کے لئے ادویاتی ڈیزائن   کی نشوونما سے متعلق   کام کررہے ہیں۔

آر ٹ  پارک  ،  بین  ڈسپلن جاتی  سائبر – فزیکل نظاموں  (این ایم – آئی سی پی ایس ) سے  متعلق  قومی مشن کے تحت   شروع کیا گیا ہے جو کہ سی – ڈیک ( مصنوعی انٹلی جنس   کے سپر کمپیوٹر  پرم سدھی  کو  فروغ دینے کے لئے ) ،  نویدیا  اور اے ڈبلیو ایس جیسے بنیادی ڈھانچے کے  شراکتداروں کے ساتھ تعاون کررہا ہے، جس کا مقصد دیہی ہندوستان میں  تمام ڈاکٹروں کو  اس مفت   خدمت کو بڑے پیمانے پر فراہم کرنا ہے۔

مزید تفصیلا ت کے لئے آرٹ  پارک کے بانی اور سی ای او  جناب اوما کانت سونی سے umakant@artpark.in

پر رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001HSV7.jpg

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002XAXU.jpg

*************

  م ن۔اع ۔رم

U- 5060



(Release ID: 1723697) Visitor Counter : 72