صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

ڈاکٹر ہرش وردھن نے کووڈ 19 پر وزراء کے گروپ (جی او ایم) کی 27ویں میٹنگ کی صدارت کی

ڈاکٹر ہرش وردھن نے کچھ ہفتوں میں کووڈ کے فعال معاملات کے بوجھ میں تیزی کے ساتھ آئی کمی 37 لاکھ فعال معاملات سے گھٹ کر 27 لاکھ فعال معاملات کو نوٹ کیا

’’پازیٹو معاملات میں مسلسل کمی ایک مثبت علامت ہے‘‘

امفوٹیرسین بی اور ریمڈیسویر جیسی کلیدی دوائیوں کی پیداوار میں اضافہ کے لئے اے پی آئی کی گھریلو پیداوار بڑھا دی گئی ہے

Posted On: 24 MAY 2021 6:32PM by PIB Delhi

نئی دہلی:24مئی، 2021۔صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے آج یہاں ایک ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کووڈ 19 پر اعلی سطح کے وزراء کے گروپ (جی او ایم) کی 27ویں میٹنگ کی صدارت کی۔ شہری ہوا بازی کے مرکزی وزیر جناب ہردیپ سنگھ پوری، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) نیز کیمیکلز اور کھادوں کے وزیر مملکت جناب منسکھ لال منڈاویہ ان کے ساتھ میٹنگ میں شامل تھے۔ صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر مملکت جناب اشونی کمار چوبے بھی ورچوئل طریقے سے موجود تھے۔

نیتی آیوگ کے رکن (صحت) ڈاکٹر ونود کے پال بھی ڈیجیٹل طور پر شامل ہوئے۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے میٹنگ کے آغاز میں کووڈ 19 پر قابو پانے کے لئے ہندوستان کی کوششوں کا مختصر خاکہ پیش کیا۔ "آج لگاتار 11واں دن ہے جب ہمارے صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد نئے کیسز کی تعداد سے زیادہ ہے۔ اسی طرح لگاتار یہ آٹھواں دن ہے جہاں ہمارے یہاں یومیہ 3 لاکھ سے بھی کم نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ یہ ایک مثبت علامت ہے۔ ابھی ملک میں کووڈ کے فعال معاملات 27 لاکھ ہیں۔ کچھ ہفتے پہلے ہمارے یہاں 37 لاکھ سے زیادہ فعال معاملات تھے‘‘۔ انہوں نے اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر موت افسوسناک ہے۔ انہوں نے ہلاکتوں کی زیادہ تعداد کے بارے میں لوگوں کو خبردار کیا۔

ٹیکے اور طبی اقدامات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر ہرش وردھن نے مشاہدہ کیا، ’’ہم اپنے ہم وطنوں کو پہلے ہی 19.6 کروڑ ویکسین کی خوراکیں دے چکے ہیں۔ 60 لاکھ سے زیادہ ویکسین کی خوراکیں ا ب بھی ریاستوں کے پاس دستیاب ہیں اور مزید 21 لاکھ ویکسین کی خوراکیں پائپ لائن میں ہیں‘‘۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ مرکزی حکومت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 70 لاکھ سے زیادہ ریمڈیسیور کی شیشیاں اور 45735 وینٹی لیٹر پہلے ہی بھیج چکی ہے۔ جینوم درجہ بندی پر مرکزی وزیر صحت نے مطلع کیا کہ 25739 نمونوں کی درجہ بندی کی جاچکی ہے اور 5261 نمونوں میں ویرینٹ B.1.617 پایا گیا ہے۔ اس طرح یہ اب تک پتہ لگایا سب سے زیادہ  عام میوٹیشین ہے۔ انہوں نے یہ بھی مطلع کیا کہ بہتر تجزیے کیلئے ریاستوں سے باقاعدگی کے ساتھ نمونے بھیجنے کی درخواست کی گئی ہے۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے میکومائیکوسس  ، جسے عام طور پر بلیک فنگس کے نام پر جانا جاتا ہے،کے سامنے آنے والے معاملات میں مرکز اور ریاستوں کے درمیان تال میل کی تعریف کی۔ 18 ریاستوں سے 5424 معاملات درج کیے گئے ہیں ان میں سے زیادہ تر معا ملات گجرات اور مہاراشٹر سے درج کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 4556 معاملات میں  کووڈ-19 انفیکشن  والے مریض ہیں۔ باقی معاملات غیرکووڈ کیسز ہیں۔ 55فیصد متاثرہ افراد  کو شوگر تھا، انہوں نے مزید کہا کہ ’’امفوٹیریسین – بی کی شیشیاں بلیک فنگس کے علاج کیلئے مرکزی حکومت کے ذریعے درآمد کی جارہی ہے۔ ان میں سے 50000 شیشیاں موصول ہوچکی ہیں  اور اگلے سات دن میں تقریباً 3 لاکھ شیشیاں دستیاب ہوجائیں گی۔

مرکزی وزیر صحت نے نیم شہری / شہری قبائلی علاقوں میں کووڈ بندوبست سے متعلق مرکزی حکومت کے معیاری طریقہ کار ایس  او پی کے نفاذ کو بھی اجاگر کیا۔ ان معیاری طریقہ کار کو سرگرمی کے ساتھ لاگو کیا جارہا ہے اور ریاستی جائزہ میٹنگ میں وزارت صحت کے ذریعے باقاعدگی کے ساتھ اس کی نگرانی کی جارہی ہے۔

صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر مملکت جناب اشونی کمار چوبے نے ہوم ٹیسٹنگ کٹ کی دستیابی  اور کفایتی قیمت کو بڑھانے کیلئے ڈی آر ڈی او کے ذریعے تیار کردہ 2- ڈی جی دوا کی دستیابی کو شامل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے ملک میں موبائل / ہوم ٹیسٹنگ کٹ کی سپلائی کو بہتر بنانےکیلئے پروٹوکول کی ضرورت پر زور دیا۔

این سی ڈی سی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سجیت کمار سنگھ نے ریاستوں  اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں  میں کووڈ کے چکر پر ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ 7.86 فیصد بھارت کی شرح نمو تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے معاملات کی تعداد ، اموات کی تعداد، ان کی شرح نمو اور دنیا کے دیگر علاقوں کے مقابلے یہ کس طرح ہیں ان سبھی اُمور سے متعلق اعدا دوشمار پیش کیے۔ انہوں نے ہر ایک ریاست میں وبا کے چکر کاتجزیہ پیش کیا۔ پازیٹیویٹی، آر اے ٹی  اور آر ٹی- پی سی آر کے فیصد جیسے کلیدی پیرا میٹر کو پیش کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے خاص ضلعوں میں کووڈ کے معاملات کے ارتکاز اور دیگر رجحانات جیسے اموات اور متاثرہ ریاستوں میں اسپتال میں بھرتی کی صورتحال کو پیش کیا۔

23 مئی تک بھارت  نے2,38,121 ٹیسٹ  فی ملین (ٹی پی ایم) اورمجموعی پازیٹیویٹی ریٹ 8.07 فیصد کے ساتھ   32,86,07,937 ٹیسٹ کیے۔ کُل جانچوں میں سے آدھی جانچ (53.74 فیصد) آر ٹی -پی سی آر ہیں۔

فارما کی سکریٹری محترمہ ایس اپرنا نے کووڈ 19 کے علاج کیلئے مانگ کی جانے والی دواؤں کی پیداوار اور تقسیم کاری میں اشتراک کے لئے بنائے گئے سیل کی حصولیابیوں کے بارے میں مطلع کیا۔ اس سیل  نے ریمڈیسیور، ٹاسیلزمب اور امفوٹیریسن –بی جیسی دواؤں کی پیداوار میں اضافہ کرنے ، گھریلو خریداری اور تقسیم کاری کی نگرانی کی۔

میکومائیکوسس کے علاج کیلئے دواؤں کی بڑھتی ہوئی مانگ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر اپرنا نے مطلع کیا کہ پانچ مزید مینوفیکچررس کو ملک کے اندر امفوٹیریسن –بی دوا کی پیداوار کرنے کیلئے لائسنس دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مینوفیکچررس کو اے پی آئی کی پیداوار میں اضافہ کرنے  کیلئے زور دیکر کہا گیا ہے تاکہ دوا کی پیداوار میں کوئی رکاوٹ نہ پیش آئے اور اس کی پیداوار کو بڑھایا جاسکے۔ انہوں نے ان دواؤں کے منصفانہ استعمال کیلئے آئی ای سی مہم کی تجویز پیش کی۔

انہوں نے مطلع کیا کہ ان کا محکمہ بچوں پر مشتمل مریضوں کیلئے کووڈ دواؤں کی ضرورتوں پر سی جی ایچ ایس اور آئی سی ایم آر کے ساتھ رابطے میں ہے۔

 

صحت کے سکریٹری جناب راجیش بھوشن، فارما کے سکریٹری محترمہ ایس اپرنا، کامرس کے سکریٹری جناب انوپ وادھون، صحت تحقیق کے سکریٹری اور آئی سی ایم آ رکے ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر بلرام بھارگو، ڈیفنس تحقیق وترقی کے محکمے کے سکریٹری اور دفاعی تحقیق وترقی کے ادارے ڈی آر ڈی او کے چیئرمین ڈاکٹر جی ستیش ریڈی، شہری ہوابازی کے سکریٹری جناب پردیپ نسگھ کھرولا، ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائرکٹر ، این ایچ ایم (صحت) محترمہ وندنا گُرنانی، صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے ڈی جی ایچ ایس ڈاکٹر سنیل کمار،  بیرونی تجارت  (ڈی جی ایف ٹی) کے ڈائرکٹر جنرل جناب امت یادو ، آرمڈ فورسز میڈیکل سروس کے ڈائرکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل  رجت دتّا، این سی ڈی سی کے ڈائرکٹرڈاکٹر سجیت کے سنگھ، مسلح افواج اور آئی ٹی بی پی کے نمائندے اور دیگر سینئر سرکاری افسران نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شرکت کی۔

-----------------------

ش ح۔م ع۔ ع ن

U NO: 4795



(Release ID: 1721457) Visitor Counter : 106