مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت

محکمہ ٹیلی کام  نے5 جی ٹیکنالوجی اور اسپیکٹرم ٹرائلز کے لئے منظوری دی

ٹیلی کام سروس فراہم کرانے والے، 5 جی ٹرائلز کی شروعات، ہندوستان بھر میں مختلف مقامات پر کریں گے

دیہی ، نیم شہری اور شہری علاقوں کا احاطہ کرنے کے لئے 5 جی ٹرائلز

منظوری میں دیسی 5 جی ٹیکنالوجی کی خاصیت والے ٹرائلز شامل ہیں

Posted On: 04 MAY 2021 4:38PM by PIB Delhi

نئی دہلی 04 مئی 2021: حکومت ہند کے محکمہ ٹیلی مواصلات (ڈی او ٹی) نے آج ٹیلی کام سروس فراہم کرانے والوں (ٹی ایس پیز) کو 5 جی ٹکنالوجی کے استعمال اور استعمال کے لئے اسکی آزمائش کرنے کی اجازت دینے کو منظوری دے دی ہے۔ درخواست گزار ٹی ایس پیز میں بھارتی ایئرٹیل لمیٹڈ ، ریلائنس جیو انفوکوم لمیٹڈ ، ووڈافون آئیڈیا لمیٹڈ اور ایم ٹی این ایل شامل ہیں۔ ان ٹی ایس پیز نے اصل سازوسامان کے مینوفیکچررز اور ٹکنالوجی مہیا کرنے والوں کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جوکہ ایرکسن ، نوکیا ، سیمسنگ اور سی ڈاٹ ہیں۔ اس کے علاوہ ، ریلائنس جیو انفوکوم لمیٹڈ بھی اپنی دیسی ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ٹرائلزکا انعقاد کرے گی۔

محکمہ ٹیلی مواصلات نے یہ اجازت ٹیلی کام سروس فراہم کرانے والوں کے ذریعہ شناخت کردہ ترجیحات اور ٹکنالوجی شراکت داروں کے مطابق دی ہے۔ تجرباتی سپیکٹرم مختلف بینڈزمیں دیا جارہا ہے جس میں مڈ بینڈ (3.2 گیگا ہرٹز سے 3.67 گیگاہرٹز) ، ملی میٹر ویو بینڈ (24.25 گیگا ہرٹز سے 28.5 گیگا ہرٹز) اور سب گیگاہرٹز بینڈ (700 گیگاہرٹز) شامل ہیں۔ ٹی ایس پیز کو 5 جی ٹرائلز کے انعقاد کے لئے ان کی موجودہ سپیکٹرم (800 میگا ہرٹز ، 900 میگا ہرٹز ، 1800 میگا ہرٹزاور 2500 میگا ہرٹز)  استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔

اس وقت، ٹرائلزکی مدت 6 مہینوں کے لئے ہے۔ اس میں سامان کی خریداری اورانکی تنصیب کے لئے 2 ماہ کی مدت شامل ہے۔

اجازت نامے میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ ہر ٹی ایس پی کو شہری تنصیبات کے علاوہ دیہی اور نیم شہری تنصیبات میں بھی ٹرائلز کرنا ہوں گے تاکہ 5 جی ٹکنالوجی کا فائدہ پورے ملک میں اٹایا جا سکے اور صرف شہری علاقوں تک ہی محدود نہ رہے۔

ٹی ایس پیز کی پہلے سے معلوم 5 جی ٹکنالوجی کے علاوہ 5 جی آئی ٹیکنالوجی استعمال کرکے ٹرائلز کرنے کی جا رہی ہے۔ یہ یاد رہے گا کہ انٹرنیشنل ٹیلی مواصلات یونین (آئی ٹی یو) نے  بھی5 جی آئی ٹکنالوجی کی منظوری دے دی ہے ، جس کی بھارت کی طرف سے تائید کی گئی تھی ، کیونکہ اس سے 5 جی ٹاورز اور ریڈیو نیٹ ورکس کی بہت بڑی رسائی میں مدد ملتی ہے۔ 5 جی آئی ٹکنالوجی، ایکسیلنس ان وائرلیس ٹکنالوجی  کے مرکز(سی ای ڈبلیوائی ٹی) اور آئی آئی ٹی حیدرآباد نے تیار کی ہے۔

5 جی ٹرائلز کے انعقاد کے مقاصد میں، خاص طور پر ہندوستانی تناظر میں، 5 جی اسپیکٹرم کے پھیلاؤ کی خصوصیات کی جانچ شامل ہے، ماڈل ٹوننگ اور منتخب کردہ سامان اور فروخت کنندگان کی جانچ، دیسی ٹکنالوجی کی جانچ، ایپلی کیشنز کی جانچ (جیسے ٹیلی میڈیسن ، ٹیلی ایجوکیشن ، بڑھا ہوا / ورچوئل ریئلٹی ، ڈرون پر مبنی زرعی نگرانی وغیرہ)۔ اور 5 جی فونز اور آلات کی جانچ کرنا بھی شامل ہے۔

5 جی ٹکنالوجی سے اعداد و شمار کے ڈاؤن لوڈ کی شرح (4 جی سے 10 گنا ہونے کی توقع) ، انڈسٹری 4.0 کو قابل بنانے کے لئے تین گنا زیادہ اسپیکٹرم کارکردگی اور انتہائی کم تاخیر کے لحاظ سے صارف کے بہتر تجربے کی توقع کی جائے گی۔ ایپلی کیشنز، زراعت ، تعلیم ، صحت ، ٹرانسپورٹ ، ٹریفک انتظامیہ، سمارٹ شہر ، سمارٹ ہومز ، اور ئی او ٹی (انٹرنیٹ آف تھنگ) کی متعدد ایپلی کیشنز جیسے وسیع شعبوں میں ہیں۔

محکمہ ٹیلی مواصلات نے واضح کیا ہے کہ ٹرائلزالگ تھلگ کئے جائیں کےاور ٹی ایس پیز کے موجودہ نیٹ ورکس سے منسلک نہیں ہوں گے۔ ٹرائلزغیر تجارتی بنیادوں پر ہوں گے۔ ٹرائلز کے دوران پیدا ہونے والا ڈیٹا بھارت میں محفوظ کیا جائے گا۔ ٹی ایس پیز سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ آزمائشی حصے کے طور پر دیسی ساختہ استعمال والے معاملات اور آلات کی جانچ آسان بنائیں کے۔ 5 جی ایپلی کیشنز پر حالیہ ہیکاتھن کے انعقاد کے بعد محکمہ ٹیلی مواصلات کے ذریعہ منتخب کردہ ایک سو درخواستوں / استعمال کے معاملات کو بھی ان آزمائشوں میں سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔

****

U.No. 4182

م ن۔ ا ع ۔س ا

Dated: 04.05.2021

 



(Release ID: 1716057) Visitor Counter : 63