وزیراعظم کا دفتر
بھارت- سویڈن ورچوئل چوٹی کانفرنس میں وزیراعظم کے ابتدائی کلمات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 MAR 2021 8:13PM by PIB Delhi
نمسکار ایکسی لینسی!
سب سے پہلے کووڈ-19 سے سویڈن میں ہوئے جان کے زیاں کے لئے میری طرف سے اور پورے بھارت کی طرف سے دلی اظہار تعزیت کرنا چاہتا ہوں۔ سویڈن میں پرسوں ہوئے پرتشد د حملہ کے لئے میں تمام ہندوستانی شہریوں کی طرف سے سویڈن کے لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ حملہ میں زخمی لوگ جلد ہی پوری طرح صحت یاب ہوں گے، یہی ہماری دعا ہے۔
ایکسی لینسی،
2018 میں سویڈن نے پہلی انڈیا- نارڈک چوٹی کانفرنس منعقد کی تھی۔ اس وقت مجھے اسٹاک ہوم آنے کاموقع ملاتھا۔ میں امید کرتا ہوں کہ جلد ہی دوسری انڈیا-نارڈک چوٹی کانفرنس کے دوران ہمیں پھر سے ملنے کا موقع ملے گا۔ 2019 میں ہز مجیسٹی دی کنگ اور ہرمجیسٹی کا ہندوستانی دورہ ہمارے لئے خوش قسمتی کا موقع تھا۔ میری ان کے ساتھ کئی موضوعات پر بہت اچھی بات چیت ہوئی تھی۔ مجھے برابر یاد ہے کہ ہز مجیسٹی اور میں نے کراپ اسٹبل (فصلوں کی پرالی )کو پاور پلانٹ میں استعمال کرنے کے لئے بریکٹ بنانے کے بارے میں تعاون کا جائزہ لیا تھا۔ آپ کو جان کر خوشی ہوگی کہ اس کا ڈیمونسٹریشن پلانٹ اچھا کام کر رہا ہے۔ اب ہم اس کو بایو ماس سے کول (کوئلہ) بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اسکیل اَپ کر سکتے ہیں۔
ایکسی لینسی،
کووڈ-19 کے دوران ہم نے ریجنل اور گلوبل، دونوں سطحوں پر تعاون کی اہمیت کو پہچانا ہے۔ دنیا کو کووڈ-19 وبائی مرض کے خلاف لڑائی میں تعاون دینے کے لیے بھارت نے 150 سے بھی زیادہ ممالک کو دوائیں اور دیگر ضروری آلات مہیا کرائے۔ ساتھ ہی، ہم نے آن لائن ٹریننگ پروگرام کے ذریعہ ایشیا، جنوب مشرقی ایشا اور افریقہ کے صحت سے متعلق صف اول کے کارکنان اور پالیسی سازوں کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کیے۔ ہم نے اب تک تقریباً 50 ممالک کو ’میڈ اِن انڈیا‘ ویکسین بھی مہیا کرائے ہیں۔ اور آنے والے دنوں میں اور بھی متعدد ممالک کو ویکسین کی سپلائی کرنے کے لیے ہم پابند عہد ہیں۔
ایکسی لینسی،
آج کے ماحول میں سبھی ہم خیال ممالک کے درمیان تال میل، تعاون اور اشتراک مزید اہم ہو گیا ہے۔ جمہوریت، حقوق انسانی، قانون کی بالا دستی، برابری، آزادی، انصاف جیسے مشترکہ قدریں ہمارے تعلقات اور باہمی تعاون کو مضبوطی فراہم کرتی ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کا اہم ایشو ہم دونوں ممالک کے لیے ایک ترجیح ہے اور ہم اس پر آپ کے ساتھ کام کرنا چاہیں گے۔ بھارت کی ثقافت میں ماحولیات کے تحفظ اور قدرت کے ساتھ ہم آہنگی میں زندگی بسر کرنے پر ہمیشہ زور دیا گیا ہے۔
ہم پیرس ایگریمنٹ میں کیے گئے اپنے عہد پر مضبوطی پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم ان ٹارگیٹس کو نہ صرف حاصل کریں گے، بلکہ انہیں آگے بھی لے جائیں گے۔ جی 20 ممالک میں شاید بھارت ہی اپنے عہدہ پر اچھی پیش رفت کر پایا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں ہماری رنیوایبل پاور صلاحیت 162 فیصد بڑھی ہے۔ اور ہم نے 2030 تک 450 گیگاواٹ قابل تجدید توانائی لگانے کا ٹارگیٹ رکھا ہے۔ ایل ای ڈی لائٹس کے استعمال کو فروغ دینے سے ہم 30 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائڈ اخراج بچا رہے ہیں۔ انٹرنیشنل سولر الائنس میں سویڈن کے شامل ہونے کے اعلان کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہم آپ کو ’کولیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلئنٹ انفراسٹرکچر‘ جلد ہی جوائن کرنے کے لیے بھی مدعو کرتے ہیں۔
ایکسی لینسی،
پوسٹ کووڈ اسٹیبلائزیشن اور ریکوری میں بھارت – سویڈن پارٹنرشپ ایک اہم رول ادا کر سکتی ہے۔ ہم انوویشن، ٹکنالوجی، انویسٹ منٹ، اسٹارٹ اپس اور ریسرچ کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔ اسمارٹ سٹیز، واٹر ٹریٹمنٹ، ویسٹ مینجمنٹ، سرکولر اکنامی، اسمارٹ گرڈز، ای-موبلیٹی، ڈجیٹل ٹرانس فارمیشن وغیرہ متعدد شعبوں میں بھی باہمی تعاون بڑھانے کا اچھا امکان ہے۔ مجھے بھروسہ ہے کہ آج کی ہماری ورچوئل چوٹی کانفرنس میں ہمارے تعاون کے نئے ابواب جڑیں گے۔
ایکسی لینسی،
میں پھر ایک بار سویڈن کے شہریوں کے تئیں بھارت کی انتہائی عمدہ دوستی کے ہمارے سفر کو یاد کرتے ہوئے اب میں آپ کو ابتدائی کلمات کے لیے مدعو کرنا چاہوں گا۔
******
ش ح ۔ق ت۔ ف ر
U-NO.3272
(ریلیز آئی ڈی: 1708925)
وزیٹر کاؤنٹر : 100
یہ ریلیز پڑھیں:
Telugu
,
English
,
Marathi
,
हिन्दी
,
Manipuri
,
Bengali
,
Assamese
,
Punjabi
,
Gujarati
,
Odia
,
Tamil
,
Kannada
,
Malayalam