صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

ڈاکٹر ہرش وردھن نے شری رام کالج آف کامرس کے طلبہ سے 94ویں یوم تاسیس کے موقع پر آن لائن خطاب کیا



’’آتم نربھر بھارت کا خواب تبھی پورا ہو سکتا ہے جب ہم اپنے نوجوانوں کو ’انوویٹ، پیٹنٹ، پروڈیوس اور پراسپر‘ کے لیے آمادہ کریں‘‘

Posted On: 03 FEB 2021 2:10PM by PIB Delhi

 

صحت اور خاندانی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے آج شری رام کالج آف کامرس (ایس آر سی سی) کے طلبہ سے ادارہ کے 94ویں یوم تاسیس کے موقع پر آن لائن خطاب کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0015H6B.jpg

ڈاکٹر ہرش وردھن نے کالج کی اس کی حصولیابیوں کے لیے ستائش کرتے ہوئے کہا، ’’میں اس ادارہ، اس کے فیکلٹی ممبران اور تمام وابستگان کو ان کے پختہ عزم کے لیے تہ دل سے مبارکباد دیتا ہوں جو طلبہ کو ذمہ دار اور بیدار شہری بناکر قوم کی تعمیر کی سمت میں اہم تعاون فراہم کرتے رہے ہیں۔ تین سال پہلے، فروری 2017 میں، مجھے ایس آر سی سی گلوبل ملینیم سمٹ، دبئی کے قومی لانچ کے لیے آپ سبھی کے درمیان حاضر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ میں اسے انتہائی فخر کی بات مانتا ہوں کہ آپ سبھی مجھ پر اپنا پیار اور محبت بنائے رکھتے ہیں۔‘‘ انہوں نے ایس آر سی سی کو ایشیائی براعظم میں کامرس کے لیے سب سے بہتر کالجوں میں سے ایک ہونے اور ہر شعبے کے کارپوریٹ امور، قانون اور سیاست میں قابل ذکر سابق طلبہ پیدا کرنے کے لیے بھی مبارکباد پیش کی۔

بھارت کو ’وشو گرو‘ کے طور پر دیکھنے کے نظریہ اور ملک کے نوجوانوں کی صلاحیت پر اعتماد پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا، ’’حکومت ملک کے نوجوانوں پر سب سے زیادہ زور دیتی ہے۔ ہمارے دور اندیش وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کے ذریعہ شروع کی گئی نئی تعلیمی پالیسی یقینی طور پر آئندہ نسلوں کے لیے ملک میں تعلیمی خدمات کے معیار میں تبدیلی لائے گی۔ درحقیقت، تعلیم کے اعلی پیمانوں کو یقینی بنانا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے کیوں کہ تعلیم سماجی پیرامڈ میں سب سے اوپر آتی ہے۔ بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں کے نوجوانوں میں بے پناہ امکانات ہیں۔ ہمارے معزز وزیر اعظم نے ایک مضبوط اور خود کفیل بھارت کی تعمیر کے لیے ایک واضح اپیل کی ہے۔ ایک خود کفیل ہندوستان جو پہلے سے ہی عالمی طاقتوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چل رہا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آتم نربھر بھارت کا خواب تبھی پورا ہو سکتا ہے جب ہم اپنے نوجوانوں کو ’انوویٹ، پیٹنٹ، پروڈیوس اور پراسپر‘ کے لیے آمادہ کریں اور اپنے ملک کو تیزی سے ترقی کی طرف لے جائیں۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے بھارت کو وبائی مرض کی چپیٹ سے باہر نکالنے میں نوجوانوں کے رول پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’کووڈ-19 نے کچھ طریقوں سے وقت کی گھڑی کو پیچھے کر دیا ہے اور اس مہلک وائرس نے ہماری ترقی کو عارضی طور پر پٹری سے اتار دیا ہے۔ اس مشکل وقت میں حکمت ساز فیصلوں، عقل و فہم اور سماجی صنعت کاری کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے عوامی گروہوں کو جوڑنے، جارحانہ مہم، طاقتور شراکت داروں اور گہرے عزائم کی بھی ضرورت ہے اور سب سے بڑھ کر، اسے ایک طاقتور سماجی عزائم کی ضرورت ہے۔ ان مشکل حالات میں نوجوانوں کے پاس تازہ توانائی، جوش اور استعداد کو دکھانے کی بے پناہ صلاحیت ہے۔ انہیں کووڈ-19 کے سلسلے میں ٹیکہ کاری مہم اور دیگر متعلقہ سرکاری پالیسیوں کے بارے میں لوگوں کو صحیح معلومات فراہم کرنے میں مدد کرنی چاہیے۔‘‘

سائنس دانوں اور شعبہ صحت کے پیشہ ور لوگوں کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا، ’’ہندوستانی سائنس دانوں اور ہیلتھ سروس سے وابستہ لوگوں نے ایک بہت ہی بڑا اور مشکل امتحان دیا ہے۔ جہاں ہمارے کووڈ جانبازوں نے سب کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے قربانیاں دی ہیں، ہمارے سائنس دانوں نے اس وبائی مرض سے بچانے کے لیے ویکسن تیار کرکے قابل تعریف کیا ہے۔ میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ حکومت 135 کروڑ لوگوں کو ٹیکہ لگانے کی چنوتی کو پورا کرنے کے لیے اوورٹائم کام کر رہی ہے۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے سوامی وویکانند کے ذکر کے ساتھ اپنی تقریر ختم کی۔ انہوں نے سوامی وویکانند کو ہر دور کا ماہر تعلیم قرار دیتے ہوئے کہا، ’’وہ تعلیم جو عام انسان کو زندگی کی جدوجہد کے لیے خود کو مضبوط کرنے میں مدد نہ کرے، وہ تعلیم جو اس کی طاقت نہ بنے، وہ تعلیم جو اس میں کردار اور رحمدلی کا جذبہ نہ پیدا کرے اور وہ تعلیم جو انسان میں ایک شیر جیسا حوصلہ نہ بیدار کرے، وہ صرف یونہی ہوگی۔ اصل تعلیم وہ ہے جو کسی کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل بناتی ہے۔‘‘ ڈاکٹر ہرش وردھن نے سبھی کو ساتھ مل کر بھارت کو پھر سے وشو گرو کا درجہ دلانے کی اپیل کی جو یہاں تیار ہو رہی فیکلٹی اور طلبہ کے ساتھ جھلکتی ہے۔

*****

 

ش ح ۔ ق ت

U:1138

 



(Release ID: 1695013) Visitor Counter : 138