نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ

کووڈ۔ 19 عالمی وبا نے ہماری صحت کے لئے ہمیں اچھے وینٹی لیشن اور دھوپ کی اہمیت  کا احساس کرایا:  نائب صدر


صحت کا منصوبہ بنانے والوں کو شہروں کو محض رہنے لائق بنانے پر ہی توجہ مرکوز  نہیں کرنی چاہیے  بلکہ  لوگوں کی خوشی میں اضافہ کرنے  کے لئے بھی کام کرنا چاہیے: نائب صدر



نائب صدر جمہوریہ نے شہریوں کو قابل رسائی، شمولیت والا اور پائیدار بنانے کی اپیل کی



انہوں نے کہا کہ بہت سے شہری غریبوں کو  اکثر شہری کے منظر نامے سے باہر کردیا جاتا ہے



شہری منصوبہ بندی کا کام  خوبصورتی کے مقامی معیارات  اور مقامی روایتوں کا لحاظ کرتے ہوئے  کیا جانا چاہئے: نائب صدر



ہر ایک شہر کی  منفرد خصوصیت اور وراثت کا تحفظ ہونا چاہئے: نائب صدر



جناب نائیڈو نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو  سیلف فائننسنگ ماڈل اختیار کرنے چاہئیں تاکہ  عوامی سہولتوں کے کام کاج کو  قابل عمل بنایا  جاسکے



انہوں نے  اپنے شہروں میں لوگوں کے ملنے جلنے کے مزید مقامات مثلاً لائبریریاں اور پاک تعمیر کئے جانے کی اپیل کی



انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگی قائم کرتے ہوئے زندگی گزاریں



انہوں نے ایک کتاب بعنوان ’اے ٹیکسٹ

Posted On: 20 JAN 2021 7:30PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  20  جنوری 2021،         نائب صدر جمہوریہ جناب ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ کووڈ۔ 19 عالمی وبا نے ہماری صحت کے لئے ہمیں اچھے وینٹی لیشن اور دھوپ کی اہمیت  کا احساس کرایا ہے۔ بند مقامات میں رہنے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر  ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور  اس بات پر زور دیا کہ  گھروں، دفتروں، ریستورانوں اور کانفرنس ہالوں میں  ہوا کے مناسب  آمد رفت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

نائب صدر جمہوریہ نے  یہ باتیں  آج حیدر آباد میں ورچوئل طریقے سے ایک کتاب بعنوان ’اے ٹیکسٹ بک آف اربن پلاننگ این جیوگرافی‘ کا اجرا کرنے کے دوران کہیں۔ اس کتاب کے منصنف  ہیں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف  کارپوریٹ افیئرس کے ڈائرکٹر جنرل اور سی ای او ڈاکٹر سمیر شرما۔ جناب وینکیا نائیڈو نے اس بات پا افسوس کا اظہار کیا کہ جدید طرز زندگی اختیار کرنے کی خواہش میں  شہروں میں رہنے والے لوگوں نے فطرت کے ساتھ اپنا تعلق ختم کردیا ہے اور بارہا ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں سورج کی کرنیں داخل نہیں ہوتیں۔انہوں نے شہری کا منصوبہ بنانے والوں اور  آرکیٹیکٹوں کو مشورہ دیا کہ وہ  فیشن اور ڈیزائن کے ڈھانچوں پر  آرام کو فوقیت دیں اور  ایسی عمارتیں تعمیر کریں جو فطرت کے ساتھ ہم  آہنگ ہوں۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا  کہ شہروں میں سانس لینے کے مزید  مقامات مثلاً پارکوں، باغیچوں اور کھیلنے کے میدان ہونے چاہئیں۔

اچھی شہری منصوبہ بندی کے لئے قابل رسائی، شمولیت والا اور  پائیدار ہونے کے اصولوں پر زور دیتے ہوئے  نائب صدر نے کہا کہ  شہری منصوبہ بندی کےلئے  ایڈہاک نظریئے کی جگہ  طویل مدتی اور  مستقبل  کو پیش نظر رکھتے ہوئے   نظریہ اختیار کیا جانا چاہیے تاکہ  رہنے لائق شہر تیار کئے جائیں۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ شہر  چند لوگوں کے لئے ہی نہیں ہوتا ، انہوں نے  اس بات پر  ناپسندیدگی کا اظہار کیا کہ  بہت سے  شہری غریبوں کو عموماً شہر کے منظر نامے سے باہر کردیا جاتا ہے، انہوں نے  شمولیت کو شہر کی منصوبہ بندی کا ایک ضروری حصہ بنائے جانے کی اپیل کی۔

گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی کو کم کرنے کے لئے جناب نائیڈو نے  پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے  کی ترغیب دیئے جانے اور  کار پولنگ ، سی این جی اور الیکٹرک گاڑیوں  جیسے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ  ’’سائیکلنگ  کو فروغ دینے کے لئے  ایک عوامی تحریک چلائی جانی چاہیے تاکہ  نہ صرف یہ ایک صحت بخش متبادل ہے بلکہ  اس سے آلودگی بھی کم ہوتی ہے‘‘۔

شہری کے بے گھر افراد اور غریبوں  کی رہائش کا انتظام کرنے اور  ان کے مفاد کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ   دیہی علاقوں سے آنے والے مہاجر خراب حالات میں زندگی نہ گزاریں اور شہروں کے باہر  رہنے والے گھریلو نوکروں کو  کام تک پہنچنے کے لئے جدو جہد نہ کرنی پڑے۔

شہروں کو  کسی بھی جدید معیشت میں اقتصادی ترقی کا انجن قرار دیتے  نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ  ہمارے کثیر ثقافتی اور گونانیت والے ملک  کے لئے  شہروں کا وجود بہت اہم ہے۔انہوں نے شہروں کی منفرد خصوصیات کے تحفظ کی اپیل کی۔ شہری منصوبہ بندی کے سلسلے میں بھارت کی عظیم وراثت کو یاد کرتے ہوئے نائب نے  ہڑپا ، موہن جوداڑو،اندر پرستھ، مدورئی اور  کانچی پورم جیسے شہریوں کی مثال پیش کی جو کہ ترقی یافتہ شہری منصوبہ بندی کے لئے معروف ہیں۔

ٹرانسپورٹ، ہاؤسنگ اور  شہری سہولتوں مثلاً پانی، گیس اور  فضلے کے بندوبست جیسے سہولتوں تک  رسائی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ  بلدیاتی اداروں کو  سیلف فائننسنگ ماڈل اختیار کرنے چاہئیں تاکہ  عوامی سہولتوں کے کام کاج کوقابل عمل بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ  ’’جب شہری  ان سہولتوں کے لئے  نام کے لئے ہی سہی  کوئی فیس ادا کرتے ہیں تو  سہولتوں کو استعمال کرنے والوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔بھارت میں اور دوسرے مقامات پر  یہ آزمایا ہوا بہترین طریقہ ہے‘۔

دیہی علاقوں سے شہروں میں ہجرت کرنے کے بارے میں  جناب وینکیا نائیڈو نے کہا کہ  ہمیں اس مسئلے کی  بنیاد پر غور کرنا چاہیے کہ لوگ دیہی علاقوں سے ہجرت کیوں کرتے ہیں۔ اس خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہ لوگ  عام طور پر  بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے  گاؤوں کوچھوڑتے ہیں، جناب وینکیا نائیڈو نے  دیہی علاقوں میں ان مسائل کو حل کرنے اور  دیہی علاقوں کو رہنے لائق بنانے کی اپیل کی۔

کتاب کے مصنف ڈاکٹر  سمیر شرما اور کتاب کو شائع کرنے کے لئے  پبلیشر کی تعریف کرتے ہوئے جناب نائیڈو نے اس بار پر خوشی کا اظہار کیا کہ  مصنف نے  آنکھیں بند کرکے مغربی ممالک کی تقلید کرنے کی بجائے  ، شہروں کی منصوبہ بندی کے لئے  اپنے تجربات اور  مقامی علم کی بنیاد پر  شہروں کے لئے  ملکی  طریقوں سے ملک  کے اندر  مسائل کو حل کرنے کی سفارش کی ہے۔

کتاب کے مصنف ڈاکٹر  سمیر شرما  نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن افیئرس کے ڈائرکٹر جناب ہتیش ویدیہ ،  پی ایچ آئی لرننگ پرائیویٹ لمیٹیڈ  کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائرکٹر جناب اشوک کے گھوش بھی اس ورچوئل پروگرام میں شرکت کرنے والے معززین  میں موجود تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ا گ۔ن ا۔

U- 881

                          



(Release ID: 1692790) Visitor Counter : 185