صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

ڈاکٹر ہرش وردھن نے  ایمس ، دہلی کے نئے برنس  اینڈ پلاسٹک سرجری بلاک کو ’’پلاسٹک سرجری کے بانی‘‘ سشرٹ کو وقف کیا

’’حکومت کا ہدف ہے کہ  ہندستان ، صحت خدمات کے میدان میں  دنیا کی  قیادت کرے‘‘

Posted On: 18 JAN 2021 3:53PM by PIB Delhi

نئی دہلی،18 جنوری  2020/ صحت اور خاندانی بہبود کےمرکزی وزیر  ڈاکٹرہرش وردھن نے  آج ایمس نئی دہلی  کی نوتعمیر  برنس اینڈ پلاسٹک سرجری بلاک کا  افتتاح کیا اور اسے  ’’پلاسٹک سرجری کے بانی ، سشرٹ  کووقف کیاْ۔

ڈاکٹرہرش وردھن نے برنس اینڈ پلاسٹک سرجری  بلاک کی ضرورت کے بارے میں اپنے خیالات مشتر ک کئے۔ انہوں نے کہا’’جلنے سے ہونےوالے نقصان  ،ورک فورس،نقصان کے   سب سےبڑی وجوہاتی میں سے ایک ہے اور یہ   ہندستان جیسی   تیزی سے فروغ پارہی   معیشت کے لئے  قابل تشویش ہے۔  ہندستان میں  ہرسال   70 لاکھ سے زیادہ   لوگ جلنے سے زخمی ہوتےہیں اور ہر سال 1.4  لاکھ کی اونچی شرح اموات ہے۔ اس کے علاوہ 2.4 لاکھ  اضافی  مریض سنگین خرابی کا شکار ہوتےہیں۔   بڑی تعداد  کی وجہ سے  جلنے سے زخمی ہوئے  لوگوں کے علاج کے لئے زیادہ تر صحت سہولیات پر  بہت زیادہ  دباؤ ہے اور جدید ترین   برن کیئر سہولیات  تقریباًنہ کے برابر ہیں۔  ایک    ایسی   صحت سہولت  کی  بے حد ضرورت ہے، جو آبادی کے بڑے حصے کو اعلی معیار کی    صحت دیکھ بھال   فراہم کرتی ہو۔  نئے برن اینڈ پلاسٹک سرجری  بلاک کو  جلنے سے ہونے والے  زخموں   کے  انتظام اور تحقیق کے میدان میں   جدید ترین   دیکھ  بھال  فراہم کرنے  کے   نظریے سے تیار  کیا گیا ہے‘‘۔ ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ  حکومت کی یہ پہل ہے کی ضرورت اور دستیابی کے  درمیان کے فرق کو کم کرے گی ۔ انہوں نے   برن اینڈ  پلاسٹک سرجری  بلاک کے  قیام کے مقصد کے بارے میں بتایا، ’’برنس اینڈ پلاسٹک سرجری  بلاک کے   تین  مقصد ہیں ۔ پہلا  ۔ جلنے سے ہونے والی  اموات کی تعداد کو کم کرنا  ، جلنے کےسبب  ایک سال میں  1.4 لاکھ لوگوں کی موت کو  اچھی  صورتحال نہیں کہا جاسکتا ہے۔ ‘‘جلنے کے سبب ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ  انفیکشن ہے۔ اس سہولت میں   30 مریضوں کے لئے  آئی سی یو میں   انفرادی طور پر  کیوبکل   اور  کسی بھی   آکسی-روکنے کے لئے  دس نجی    آئسولیشن بیڈ ہیں۔ دوسرا اسٹینڈرپروٹوکول کی تعمیل کرنے سے   ادارہ ان لوگوں کی  تعداد کو کم کرنے میں   اہل ہوگا   جو خرابی   یعنی ڈی فارمٹیز  سے متاثر ہوجاتے ہیں۔  تیسرا مقصد ہے کہ  لاگت کو کم کرنا۔ جلنے سے   ہونے والے نقصان کے   انتظام میں   براہ راست اور   بالواسطہ   لاگت شامل ہوتی ہے۔ براہ راست لاگت میں  طبی دیکھ بھال پر خرچ کی جانے والی لاگت شامل ہے۔ اور بالواسطہ نقصان میں   نوکری کا نقصان،، محنتانہ کا نقصان، پیداواریت کا نقصان  اور تربیت کا نقصان  وغیرہ   اقتصادی اثرات  شامل ہیں۔‘‘

 انہوں نے مزیدکہ  ’’ یہ بلاک تقریباً  15 ہزار برنس ایمرجنسی   اور ایک سال میں  پانچ ہزار   بھرتی کے لئے اہل ہے ۔ یہ مریضوں کی   بڑی تعداد کی    دیکھ بھال میں بھی   اہل ہے۔  کیونکہ   یہ مریض  پہنچنے کے مقام کو  بھی ایمرجنسی وارڈ میں  بدل سکتا ہے۔  بلاک کا   ٹراماسینٹر کے ساتھ   مربوط ہونے سے   ٹراما ٹیم کو  کچھ کی وقت میں   آسان رسائی حاصل ہوگی۔    ان قدموں سے  جلنے سے ہونے والی   اموات کو   کم کرنے اور  دیگر مریضوں میں انفیکشن  کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

سشرٹ کے بارے میں اور ناک کی سرجری  کا پیدائشی مقام ، اور ہندستان کے ہونے  کے بارے میں ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہاکہ اس مرکز کا تصور  ہمارے قدیم  گھاؤ کے علاج کی مہارت کو بھی     شامل کرنے کے ساتھ  کیا گیاہے۔  یہ آیوش دواؤں سمیت جدید   طبی   نظاموں سے   لیس ہوگا، جو  جلنے کے گھاؤ کے انتظام کے لئے  دستیا  ب ہے۔  اس کے علاوہ   یہ سہولت  ملازمین کو  تربیت بھی دے گی۔ اس سے پیدا ہوئے زخم کے انتظام کی تکنیکوں اور آلات جیسے  وی اےسی اور ہاپر بیرکس چیمبر    سے بلاک مزین ہوگا۔

مرکزی وزیر صحت نے دیگر  معزز شخصیات کے ساتھ  بلاک میں  سہولیات کا  معائنہ بھی کیا۔

پروگرام میں ایمس کے ڈائریکٹر  ڈاکٹر رندیپ گلوریا ، ڈی جی ایچ ایس کے ڈاریکٹر جنرل  ڈاکٹر سنیل کمار، پلاسٹک،  ری کنسٹرکشن اور  برنس سرجری ڈپارٹمنٹ کے سربراہ    ڈاکٹر منیش سنگھل ،    وزارت صحت کے  دیگر  اعلی حکام  اور  ایمس ، نئی دہلی کے   فیکلٹی ممبران بھی  موجود تھے۔

 

ش ح۔   ش ت۔ج

Uno-521



(Release ID: 1689886) Visitor Counter : 83