صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

ڈاکٹر ہرش وردھن نے ڈبلیو ایچ او     ایس ای اے آر او کی علاقائی ڈائرکٹر محترمہ پونم کھیترپال سنگھ کے ساتھ ایمس کے 47 ویں جلسہ تقسیم اسناد کی صدارت کی

’’ہمیں نئے جرأت مندانہ منصوبوں کے وژن کے لیے راج کماری امرت کور کے اختراع اور حوصلہ مندی کے جذبے سے بہت کچھ سیکھنا ہے۔ یہ  ایمس کا ڈی این اے ہے‘‘

ہم ایک ساتھ مل کر ایمس کے قیمتی ورثے کے نئے باب کا اضافہ کرسکتے ہیں: ڈاکٹر ہرش وردھن

Posted On: 11 JAN 2021 5:43PM by PIB Delhi

نئیدہلی،11جنوری، 2021، صحت اور خاندانی فلاح وبہبود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے نئی دہلی میں 2018 اور 2019 کے سال کے لیے ایمس کے 47ویں جلسہ تقسیم اسناد کی صدارت کی۔ اس موقع پر صحت اور خاندانی فلاح وبہبود کے وزیر مملکت جناب اشونی کمار چوبے بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ ڈبلیو ایچ او      ایس ای اے آر او کی علاقائی ڈائرکٹر محترمہ پونم کھیترپال سنگھ اس تقریب کی مہمان خصوصی تھیں۔

http://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0010ZMU.jpg

ڈاکٹر ہرش ورھن نے ا پنے تمام پیش رؤوں کی ان کوششوں کا اعتراف کرنے اور ان کا شکریہ ادا کرنے سے اپنی تقریر کا آغاز کیا جو انھوں نے اس ادارے کے لیے کی ہیں۔ انھوں نے کہا ’’کوئی بھی ادارہ اتفاق سے عظمت حاصل نہیں کرسکتا اگر اس کے اندر وہ مادہ موجود نہ ہو۔ اور اسے ہمیشہ اس مادے کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے‘‘۔

ایمس کے بانی کے بیباک جذبے کی بے حد تعریف کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’’راج کماری امرت کور نے بیرونی ملکوں اور بین الاقوامی ترقیاتی ساتھیوں تک رسائی حاصل کی تاکہ فنڈ کے حصول میں کمی کو پورا کیا جاسکے اور انھوں نے یہ کام بھارت کے عام لوگوں کو عالمی معیار کی طبی تعلیم فراہم کرنے کی اپنی کوشش کو بروئے کار لانے کے لیے کیا‘‘۔ ڈاکٹر ہرش وردھن نے مزید کہا ’’1961 تک ایمس نے عالمی وقار حاصل کرلیا تھا۔  ’’ہمیں نئے جرأت مندانہ منصوبوں کے وژن کے لیے راج کماری امرت کور کے اختراع اور حوصلہ مندی کے جذبے سے بہت کچھ سیکھنا ہے۔ یہی  ایمس کا ڈی این اے ہے‘‘۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے وزارت تعلیم کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ ریکنگ فریم ورک (این آئی آر ایف) کی طرف سے مسلسل تیسرے سال طبی اداروں میں پہلا نمبر دیئے جانے کے لیے ایمس برادری کو مبارکباد دی۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے صحت کے شعبےمیں بہترین خدمات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے ایمس کی  استقامت پر خوشی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا’’یہ میرے لیے بڑے فخر کی بات ہے  اور میں بڑے تحمل کے ساتھ اس ادارے کے صدرہونے پر اپنی عزت افزائی محسوس کرتا ہوں‘‘۔ اس ادارے نے پورے ملک کے شہریوں کی بڑی خدمت  کی ہے۔  ایمس نے بہت سے چیلنجوں کے درمیان ترقی کی ہے اور زندہ رہا ہے۔کسی بھی عظیم تعلیمی ادارے کے لیے کیریکٹر لازمی ہوتاہے اور اس ادارے کی  طویل تاریخ  سےاس کیرکٹر کی بخوبی  عکاسی ہوتی ہے۔ انھوں نے سہل پسندی اور جمود کے خلاف خبردار کیا اور کہا ’’ہمیں اپنے اندر تبدیلی لانی ہے اور ترقی کرنی ہے۔ ہم بدلتی ہوئی دنیامیں خاموش کھڑے نہیں رہ سکتے‘‘۔

موجودہ کووڈ بحران کے دوران ایمس کے رول کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا ’’ایمس نے بحران کے دوران مریضوں کی دیکھ بھال ، ریسرچ اور تعلیم کے تعلق سے زبردست رول ا داکیاہے۔ اب جبکہ ہم اس وبائی بیماری سے ابھر رہے ہیں، جس نے ہمیں ہلاکر رکھ دیاتھا، ہمیں ان لڑائیوں کو یاد کرناچاہیے جو ایمس کے ڈاکٹروں نے روزانہ کووڈکے خلاف لڑی ہے۔ ہمارے ڈاکٹر اصل معنی میں جانبازہیں‘‘۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے ہر ایک پر زور دیا کہ وہ اس ادارے کی بہتری کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں۔ انھوں نے کہا ’’ہمیں ایمس کے ورثے کو برقرار رکھنا ہے اور ایک نئے کل کی طرف پیش قدمی کرنی ہے۔ ہمیں محض تماشائی نہیں بنے رہناہے۔ہمیں فیصلے کرنے ہیں اور ایسے کام کرنے ہیں جو مشکل ہوسکتے ہیں۔ ہم مل کر ایمس کے قیمتی ورثے میں ایک نئے باب کا اضافہ کرسکتے ہیں‘‘۔

طلبا کو مبارکباد دیتے ہوئے محترمہ پونم کھیترپال سنگھ نے کہا ’’میں طلبا اور ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کو تہہ دل سے مبارکباد دیتی ہوں جنھوں نے یہاں آنے کے لیے سخت محنت کی ہے۔ پچھلے چند مہینوں میں ایمس نے پورے ملک میں دیکھ بھال کو معیاری بنانے میں اہم رول اداکیا ہے۔ ا یمس طبی تحقیق کے معاملےمیں ایک سرکردہ رول ا دا کرنے والا ہے۔ اس وبائی بیماری نے ہمیں یہ سکھا دیا ہے کہ عوامی صحت میں سرمایہ کاری کرنا ایک دیرپا ترقی کو فروغ دینے اور اس کا تحفظ کرنے کا انتہائی مؤثر طریقہ ہے‘‘۔

’’مانو سیوا، مادھو سیوا؛ نر سیوا، نرائن سیوا‘‘  کی مثال  کا حوالہ دیتے ہوئے جناب اشونی کمار چوبے نے ایک ڈاکٹر کی بے مثال زندگی کو اجاگر کیا جس نے انسان کی خدمت کے ذریعے خدا کی خدمت کی ہے اور اس نے درد اور پریشانی کو دورکرنے کے لیے اپنی صلاحیت بھر ہرممکن کوشش کی ہے۔

چھ سینئر اساتذہ کو ایمس دہلی میں ان کے رول کے لیے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ 1100 سے زیادہ طلبا کو جلسہ تقسیم اسناد میں ڈگریاں دی گئیں اور ان میں سے 90 کو بہترین کارکردگی کے تمغے دیئے گئے۔

http://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002P5G0.jpg

*****

 

 

ش ح ۔اج۔را

U. No. 281



(Release ID: 1687807) Visitor Counter : 6