وزارتِ تعلیم

مرکزی وزیر تعلیم نے دو روزہ ورچوئل انٹرنیشنل اکھنڈ کانفرنس ایجوکون-2020 کا افتتاح کیا

دنیا بھر سے ماہرین تعلیم اس موضوع پر تبادلۂ خیال کریں گے کہ تعلیم کو کس طرح وضع کیا جائے کہ یہ نوجوانوں میں انقلابی تبدیلیاں لائے اور عالمی امن بحال کیا جاسکے

Posted On: 07 JAN 2021 5:08PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی 7 جنوری 2021:مرکزی وزیر تعلیم جناب رمیش پوکھریال نشنک نے آج ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ دو روزہ ورچوئل انٹرنیشنل اکھنڈ کانفرنس ایجوکون 2020 کا افتتاح کیا۔اس دوروزہ بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام پنجاب مرکزی یونیورسٹی ، بھٹنڈہ،(CUPB) نے گلوبل ایجوکیشنل ریسرچ ایسوسی ایشن(GERA) کے تعاون سے CUPBکے وائس چانسلر پروفیسر (ڈاکٹر رگھویندر –پی۔تیواری اور پدم شری ڈاکٹر مہندر سوڈھا(سرپرست، جی ای آر اے)کی سرپرستی میں آیا۔ ایجوکون-2020کا مرکزی خیال تعلیم کو اس طرح سے وضع کرنا ہے کہ وہ نوجوانوں میں انقلابی تبدیلیاں لائے اور عالمی امن بحال ہوسکے۔

مرکزی وزیر تعلیم جناب رمیش پوکھریال نشنک نے کانفرنس کے لئے بہت مناسب اور عصری بنیادی خیال منتخب کرنے کے لئے CUPBکی تعریف کی، انھوں نے  کہا کہ اس دو روزہ اکھنڈ کانفرنس سے دنیا بھر کے تحقیق کاروں اور طلبا کو یہ پیغام جائے گا کہ ریسرچ 24 گھنٹے ساتوں دن کا عمل ہے اور اس میں انتہائی تحمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ اس بین الاقوامی کانفرنس سے امکانی اساتذہ کو تعلیم کے میدان میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے لئے مختلف ٹکنالوجیز اور اس کے مختلف پہلوؤں کو جاننے کا موقع ملے گا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ایجوکون 2020 کے دوران بین الاقوامی سطح پر مقبول مقررین اور نوجوان تحقیق کاروں کے اظہار خیال سے یقینا ًقومی تعلیمی پالیسی 2020 کی مؤثر عمل آوری کے لئے ایک خاکہ تیار کرنے اور نوجوانوں میں مطلوبہ ہنر مندی کے رجحان کو فروغ دینے میں مدد ملے گی جس سے نوجوان آتم نربھر بھارت میں اپنا تعاون دے سکیں گے۔

جناب رمیش پوکھریال نشنک نے زور دے کر کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 ہر اعتبار سے انقلابی نوعیت کی ہے کیونکہ اس میں پرائمری سطح پر مادری زبان کے فروغ، ثانوی سطح پر طلباء کو دستکاری سے متعلق ہنرمندی کی تربیت اور دیگر اختراعی اصلاحات شامل ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی میں اعلیٰ تعلیم بین مضامین مطالعات اور مربوط نصاب پر زور دیا گیا ہے تاکہ وسیع تر تعلیمی مواقع حاصل ہوں۔  جس سے اقدار پر مبنی جامع تعلیم ملے، سائنسی مزاج پروان چڑھے اور نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت مہیا کرائی جاسکے۔ انھوں نے آگے کہا کہ اس پالیسی کے تحت سکھانے اور سیکھنے کے عمل میں ٹکنالوجی کے وسیع تراستعمال کا خاکہ تیار کرنے آن لائن کورس متن کے فروغ، اکیڈمک بینک آف کریڈٹ اور نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (NRF) اور نیشنل ایجوکیشنل ٹکنالوجی فورم(NETF) کے قیام جیسی ضرورتوں کو دھیان میں رکھا گیا ہے جن سے بھارتی اسکالروں کو عالمی سطح پر مسابقت میں مدد ملے گی۔انھوں نے ہر فورم، ریفارم اور ٹرانسفورم یعنی کارکردگی ، اصلاحات اور کایاپلٹ کاگر بتایا جس کی بنیاد پر قومی تعلیمی  پالیسی 2020 کے تمام اہم پہلوؤں پر کامیابی سے کام کیا جاسکتا ہے اور جو معاشرے میں تبدیلی لانے اور نوجوانوں میں انقلابی تبدیلی لا کر انھیں امنِ عالم کے لئے فعال ومتحرک بنانا ہے۔

اپنے ابتدائی کلمات میں پروفیسر رگھویندر پی تیواری ، وائس چانسلر CUPB نے کہا کہ CUPB معیاری اعلیٰ تعلیم اور اعلیٰ سطح کی تحقیق کے عہدپر کاربند ہے اور یہ کانفرنس تحقیق کاروں اور ماہرین تعلیم کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گی جہاں وہ طلباء پرمرکوز قومی تعلیمی پالیسی کی سفارشات پر عمل درآمد کے لئے کلیدی حکمت عملی اور خاکے وضع کرسکیں ۔ انھوں نے کہا کہ کانفرنس میں قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں شامل ان مختلف نظریات پر عالمی تناظر میں توجہ مرکوز کی جائے گی جن کا مقصد ہماری قومی کے سیکھنے کے عمل میں انقلابی تبدیلیاں لانا ہے تاکہ وہ عالمی معیارات پر پورے اترسکیں۔ انھوں نے کہا کہ کانفرنس میں جو تبادلۂ خیال اور مذاکرات ہوں گے ان سے ہمارے  ماضی کی وراثت کو مستقبل کے تعلیمی نظام سے ہم آہنگ کیا جاسکے گا تاکہ بھارت کو پھر سے تعلیم کے میدان میں وشوگرو کی حیثیت سے بحال کیا جاسکے۔

اس بین الاقوامی کانفرنس میں برطانیہ ، کینڈا، تھائی لینڈ، امریکہ ، آسٹریلیا، بھوٹان اور بھارت کے اسکارلرز بنیادی تھیم کی دس ذیلی تھیم پر 31 گھنٹہ تک لگاتار مذاکرات کریں گے۔ یہ بھارت میں اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس ہے  جہاں دنیا بھر سے آئے اسکالرز لگاتار 31 گھنٹے تک مراتھون مذاکرات کریں گے۔ اور اعلیٰ تعلیم میں ICT کے استعمال کے امکانات پر غور کریں گے جس کا مقصد بھارت میں مسابقتی تعلیم کو فروغ دینا ہے ، اس کے علاوہ یہ کانفرنس تعلیم کے میدان میں ابھرتے رجحانات پر بحث ومباحثے کے لئے بھی ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ ان میں 2050 تک اعلیٰ تعلیم اور اسکولی تعلیم کا منظرنامہ STEAM(سائنس ٹکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور میتھمیٹکس) کے لئے انقلابی ٹکنالوجیز کا فروغ ،یونیورسٹیوں میں مستقبل کی اہم ملازمتوں کے لئے نوجوانوں کی تربیت، ہنر مندی کی تربیت کے پروگرام اور 21 ویں صدی میں قدیم تعلیمی نظام کی اہمیت جیسے موضوعات شامل ہیں۔

****

م ن۔ر ف۔ س ا

U-183



(Release ID: 1687007) Visitor Counter : 10