صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

وزارت صحت نے برطانیہ میں سارس-کو وی-2 وائرس کی نئی قسم کے سامنے آنے کے بعد وبائی امراض کی نگرانی اور ردعمل کے لئے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار جاری کیا

Posted On: 23 DEC 2020 2:21PM by PIB Delhi

نئی دہلی 23 دسمبر 2020:برطانیہ کی حکومت  نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کو سارس کووی- 2 وائرس کی ایک نئی قسم ]ویرینٹ انڈر انویسٹی گیشن (VUI) -20212/01] کی اطلاع دی  ہے۔

امراض پر قابو پانے والے یوروپی سینٹر نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ نئی قسم زیادہ تیزی سے پھیلنے والی ہے اور اس سے نوجوان متاثر ہو سکتے ہیں۔اس نئی قسم کی  17 تبدیلیوں  کے تحت تشریح  کی گئی ہے۔ سب سے اہم بات اسپائک پروٹین میں N501Y نام کی تبدیلی ہے جس سے یہ  وائرس انسانی ACE2 رسیپٹر کو متاثر کرتا ہے۔اسپائک پروٹین میں ان تبدیلیوں کے نتیجے میں وائرس عوام کے درمیان زیادہ تیزی سے پھیلنے والا وائرس بن جاتا ہے۔

وزارت صحت نے اس کے لئے وبائی امراض کی نگرانی اور رد عمل کے لئے ایس او پی جاری کیا ہے۔ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پی) کے تحت تمام اُن بین ا لاقوامی مسافروں کے ملک میں داخلے کے مقام پر ضابطوں کی تشریح کی ہے جوگزشتہ چار ہفتوں [25 نومبر تا 23 دسمبر 2020] کے دوران برطانیہ سے آئے ہیں یا برطانیہ کے راستے سے سفر کر کے آئے ہیں۔

اس ایس او پی  میں جانچ کے بارے میں کوئی بھی حوالہ صرف آر ٹی ۔ پی سی آرجانچ پر مشتمل ہے۔برطانیہ سے آنے والی پروازیں  23 دسمبر سے 31 دسمبر 2020 تک  یا آئندہ احکامات تک عارضی طور پر معطل رکھی گئی ہیں۔21 سے 23 دسمبر 2020 تک کے دوران جو بھی مسافر برطانوی  ہوائی اڈوں کے ذریعے ہندستان میں آئے ہیں انہیں یہاں آنے کے فورا بعد آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہوگا۔کسی کے متاثر پائے جانے  کی صورت میں اسے  اسپائک جین پر مبنی آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ بھی کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔متاثر پائے جانے والے مسافروں کو ایک ادارہ جاتی آئیسولیشن فیسیلیٹی کے ایک الگ یونٹ میں رکھا جائے گا اور اس کام میں متعلقہ ریاستی صحت حکام تعاون کریں گے۔نمونوں کو نیشنل انسٹیوٹ آف وائرولوجی، پنے [این آئی وی] یا کسی اور مناسب لیب میں بھیجنے کا کام آئی سولیشن فیسیلیٹی کی سطح پر کرایا جائے گا۔ اگر اس جانچ کے نتیجے میں یہ پتہ چلتا ہے کہ مریض میں سارس کووی 2 کی نئی قسم موجود ہے تو ایسے مریض کو علاحدہ آئی سولیشن یونٹ میں رکھا جائے گا اور متعلقہ ضابطوں کے مطابق اس کا علاج کیا جائے گا۔

ہوائی اڈے پر آر ٹی پی سی آر کے ساتھ جانچ کرنے میں منفی پائے جانے والے افراد کو گھر میں ہی قرنطین کا مشورہ دیا جائے گا۔چیک ان سے پہلے ، مسافر کو اس ایس او پی کے بارے میں وضاحت دی جائے گی اور پرواز کے دوران بھی اس طرح کے اعلانات کئے جائیں گے۔

برطانیہ سے آنے والے وہ بین الاقوامی مسافر جو گذشتہ ایک ماہ کے دوران ہندوستان آئے ہیں ، ان سے  ڈسٹرکٹ سرویلنس افسران رابطہ رکھیں گے اور معاشرے میں ان کی نگرانی کی جائے گی۔

ریاستی حکومتیں / بیماریوں کی نگرانی کے مربوط  پروگرام کے تحت اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ گذشتہ چار ہفتوں میں برطانیہ سے آنے والے یا برطانیہ کے راستے جانے والے ان مسافروں کے تمام رابطوں کا سراغ لگائیں اور ان کی نگرانی کی جائے گی۔

ان کا پروٹوکول کے مطابق ٹیسٹ کرایا جائے گا اور متاثر افراد کے رابطے میں آنے والوں کو معقول آئیسولیشن اور نگرانی کی غرض سے ادارہ جاتی بنیاد پر قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔

ایس او پی کیلئے لنک:

https://www.mohfw.gov.in/pdf/SOPforSurveillanceandresponseforthenewSARSCov2variant.pdf

******

م ن۔ ر ف ۔ س ا

 

U: 8364



(Release ID: 1683222) Visitor Counter : 10