جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت

ہندوستان اور فرانس بین الاقوامی شمسی اتحاد کے تیسرے اجلاس میں بین الاقوامی شمسی اتحاد کے دوبارہ صدر اور ساتھی صدر منتخب کیے گئے

چاروں خطوں کے لئے نئے نائب صدور کا اعلان کیاگیا

53ممبر ملکوں اور 5 دستخط کرنے والوں اور امکانی ممبر ملکوں نے اجلاس میں شرکت کی

پہلی بار بین الاقوامی شمسی اتحاد ایوارڈ عطا کیاگیا

آئی ایس اے نے 22 ملکوں میں 2 لاکھ 70 ہزار سے شمسی پمپوں کے لئے مانگ کا مجموعہ کیا۔ 11ملکوں میں ایک سے زیادہ گیگاواٹ کے سولر روف ٹاپ۔ اس کے متعلقہ پروگراموں کے تحت 9 ملکوں میں 10 سے زیادہ گیگا واٹ کے سولر منی گرڈ

بین الاقوامی شمسی اتحاد نے سولر ایزنگ ہیٹنگ اور کولنگ نظام پر ساتواں پروگرام کا آغاز کیا، جو روایتی بجلی کے وسائل سے اپنی توانائی نکالتا ہے

بین الاقوامی شمسی اتحاد کے اجلاس میں عالمی وسائل کے انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے تیار کردہ رپورٹ پیش کی گئی جس نے سولر سرمایہ کاری بڑھانے میں فنڈز، مواقع اور رکاوٹوں کے وسائل کی نشاندہی کی

عالمی وبا کے پیش نظر آئی ایس اے نے آئی ایس اے، سی اے آر ای ایس (کیرز) قائم کرکے جواب دیا

Posted On: 14 OCT 2020 6:10PM by PIB Delhi

بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے) کے ممبر ملکوں کے 34 وزرانے بین الاقوامی شمسی اتحاد کے تیسرے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں 53 ممبر ملکوں اور 5 دستخط کرنے والے ملکوں اور ممبر ملکوں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

ہندوستان اور فرانس 14 اکتوبر کوہوئے آئی ایس اے کے تیسرے اجلاس کی ورچوئل میٹنگ میں دو سال کی مدت کے لئے بین الاقوامی شمسی اتحاد کے دوبارہ صدر اور ساتھی صدر منتخب ہوئے ہیں۔

آئی ایس اے کے چار خطوں کی نمائندگی کرنے کے لئے 4 نئے نائب صدور بھی منتخب کئے گئے۔ ایشیا بحر الکاہل خطے کے لئے فجی اور (نورو) کے نمائندوں، افریقہ کے لئے ماریشش اور نائیجرو یوروپ اور دیگر خطے کے لئے برطانیہ اور نیدر لینڈ اور لاطینی امریکہ کے لئے کیریبین خطے کے لئے گویانا کے نمائندوں کو بھی چار نئے صدور کے لئے منتخب کیاگیا ہے۔

اس موقع پر مکمل اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے آئی ایس اے اسمبلی کے صدر اور ہندوستان کے بجلی اور نئی وقابل تجدید توانائی کے وزیر جناب آر کے سنگھ نے آب وہوا میں تبدیلی سے نمٹنے کے لئے مل کر کام کرنے کی خاطر متحد ہونے پر اتحاد کے ممبر ملکوں کی ستائش کی۔ انہوں نے تیسرے اجلاس میں بحث کے لئے شروع کیے جانے کے لئے ہینٹنگ (گرما) اور کولنگ (ٹھنڈ) پر ساتویں پہل کا خیر مقدم کیا۔

جناب سنگھ نے کہا کہ شمسی توانائی نے گزشتہ سال میں ایک طویل راستہ طے کیا ہے اور اب وہ سب نے تیز بڑھتی ہوئی توانائی کا عالمی وسیلہ بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر شمسی توانائی سے تقریباً 2.8 فیصد بجلی فاضل ہوئی ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو 2030 تک دنیا کے ایک بڑے حصے میں بجلی کی پیداوار کے لئے شمسی توانائی کا سب سے اہم وسیلہ بن جائے گی۔

آئی ایس اے کے صدر دوسرے اجلاس کے بعد سے آئی ایس اے کے ذریعے شروع کئے گئے مختلف پروگراموں اور سرگرمیوں کے بارے میں بھی بتایا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت چھ پروگرام اور دو پروجیکٹس جاری ہیں جو شمسی توانائی کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کررہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ 5 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ مالیت کی ایک زبردست پائپ لائن شمسی توانائی ایپلیکیشن کے لئے تیار کی گئی ہے تاکہ آئی ایس اے ممبر ملکوں کی بجلی، سینچائی، پینے کے پانی اور پیداواری توانائی کی ضرورتوں کو پورا کیا جاسکے جو اب تک جدید توانائی کی خدمات سے کافی حد تک محروم رہے ہیں۔ آئی ایس اے نے 22 ملکوں میں دو لاکھ70 ہزار سے زیادہ شمسی پمپوں کے لئے مانگ رہا۔ مجموعہ یعنی اکٹھا کیا ہے۔ اس کے متعلقہ پروگراموں کے تحت 11 ملکوں میں ایک گیگاواٹ سے زیادہ سولر روف ٹاپ اور 9 ملکوں میں 10 گیگاواٹ سے زیادہ شمسی منی گرٹ کے لئے بھی جمع کیا ہے۔

اسمبلی کے ساتھی صدر اور فرانس کی ایکولوجیکل ٹرانزیشن کی وزیر محترمہ باہرا پومیلی نے اس بات کو اجاگر کیا کہ آئی ایس اے نے خاص طور پر ترقی پذیر ملکوں میں قابل تجدید توانائیوں کے لئے فنڈ اکٹھا کرنے میں مدد دینے میں ایک اہم رول ادا کیا ہے۔ انہوں نے فرانس کے شامل ہونےکی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ 2022 تک آئی ایس اے ممبر ملکوں میں شمسی پروجیکٹوں کے لئے فرانس 1.5 ارب یورو کی مالی مدد کے تئیں عہد بستہ ہے۔ پروجیکٹوں کی مضبوطی کے لئے 1.15 ارب یورو دینے کے لئے پرعزم ہے۔

فرانس نےحالیہ جٹانے کے لئے عالمی بینک کے ساتھ اشتراک کی بھی حمایت کی ہے۔ کوپ26 کے صدر جناب آلوک شرما نے آب وہوا میں تبدیلی کے لئے برطانیہ کے عہد کو دوہرایا۔ برطانیہ اگلے پانچ سال کے اندر مرحلہ وار ڈھنگ سے کوئلے کا استعمال بند کردے گا اور 2050 تک تمام گرین ہاؤس گیس کے اخراج کو نیٹ زیرو تک لے آئے گا۔

آئی ایس اے کے فریم ورک سمجھوتے کے بعد سے پہلی مرتبہ شمسی توانائی کے لئے کام کرنے والے خطے کے ملکوں اور اداروں کو شمسی ایوارڈ عطا کیاگیا ہے۔ ایشیا بحر الکاہل خطے کے لئے ایوا رڈ جاپان کو دیاگیا۔ یوروپ اور دیگر خطے کے لئے ایوارڈ نیدر لینڈ کو دیاگیا۔

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ جناب ایم ایل کھٹر نے بھارتی نژاد امریکی خلا باز کے نام  پر رکھے گئے کلپنا چاؤلہ ایوارڈ ڈاکٹر بھیم سنگھ کو دینے کا اعلان کیا، جن کا تعلق آئی آئی ٹی دہلی سے ہے۔ اس کے علاوہ دبئی الیکٹری سٹی اور واٹر اتھارٹی (یو اے ای) کے ڈاکٹر عایشا ال نومانی کے نام کا بھی اعلان کیا جنہیں یہ ایوارڈ دیا جائے گا۔ یہ ایوارڈ شمسی توانائی کے شعبے میں سائنس دانوں اور انجینئروں کی غیر معمولی خدمات کو تسلیم کرتا ہے۔

عالمی وبا کے پیش نظر آئی ایس اے نے آئی ایس اے، سی اے آر ای ایس (کیرز) قائم کرکے مثبت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ یہ ایک پہل ہے جس میں ایل ڈی سی، ایس آئی ڈی ایس، آئی ایس اے ممبر ملکوں میں حفظان صحت کے شعبے میں شمسی توانائی لگانے کی بات کہی گئی ہے۔ اس کا مقصد صرف ممبر ملکوں کے ہر ضلع میں ایک پرائمری ہیلتھ سیکٹر کو سولرایز کیا جائے۔

آئی ایس اے ایک ایسی پہل ہے جو سی او پی 21 کے موقع پر فرانس کے شہر پ۹یرس میں 30 نومبر 2015 کو ہندوستان کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور فرانس کے صدر کی جانب سے شروع کی گئی تھی۔ آئی ایس اے کا مقصد آئی ایس اے ممبر ملکوں میں شمسی توانائی کو بڑھانے، اس میں اضافہ کرنےکے سلسلے میں درپیش اہم مشترکہ چیلنجوں سے مشترکہ طور پر نمٹنا ہے۔ آئی ایس اے کا پہلا اجلاس (اسمبلی) ہندوستان کے گریٹر نوئیڈا میں 2 سے 5 اکتوبر 2018 کو منعقد ہوا تھا اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور  اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل جناب انٹونیو گٹریش نے اس کا افتتاح کیا تھا۔ آئی ایس اے کا دوسرا اجلاس 30 اکتوبر سے یکم نومبر 2019 کو نئی دلی میں ہوا تھا، جس میں 78 ملکوں نے شرکت کی تھی۔ آئی ایس اےکا تیسرا اجلاس ورچوئل موڈ میں 14 سے 16 اکتوبر 2020 کو بلایا جائے گا۔

...............................................................

 م ن، ح ا، ع ر

U-6390



(Release ID: 1665019) Visitor Counter : 4