وزارت دفاع

وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے دفاعی تحویل ضابطے-2020 جاری کیے

نئے دفاعی تحویل ضابطے (ڈی اے پی) میں گھریلو دفاعی صنعت اور میک اِن انڈیا کو بڑھاوا دینے کیلئے کئی اقدامات کیے گئے ہیں

وقت کی تاخیر کو گھٹانے اور تجارت کرنے میں آسانی کو بڑھانے کیلئے طریقہ کار کو سہل بنایا گیا

Posted On: 28 SEP 2020 3:54PM by PIB Delhi

وزیر دفاع جناب راجناتھ سنگھ نے آج نئی دہلی میں دفاعی تحویل ضابطے (ڈی اے پی)-2020  جاری کیے۔ پہلی دفاعی خریداری طریقہ کار (ڈی پی پی)سال 2020 میں لاگو کیا گیا تھا اور تب سے گھریلو صنعت کو فروغ دینے اور دفاعی ساز وسامان کی پیداوار میں خودکفالت حاصل کرنے کیلئے اس میں وقتاً فوقتاً ترمیم کی جاتی رہی ہے۔ وزیر دفاع نے ڈی اے پی 2020 تیار کرنے کیلئے اگست 2019 میں ڈی جی (تحویل) جناب اپوروا چندر کی صدارت میں اہم جائزہ کمیٹی کے قیام کی منظوری دی تھی۔ ڈی اے پی 2020 یکم اکتوبر 2020 سے لاگو ہوگا۔ ڈی اے پی 2020 کو تیار کرنے میں ایک برس سے زیادہ کا وقت لگا ہے اور جس میں تمام اسٹیک ہولڈروں  سے موصولہ   آرا اور تجاویز شامل ہیں:

سروسز

ایم او ڈی

تھنک ٹینک

ایسوسی ایشن

صنعت

ڈی ایم اے

آرمی

بحریہ

فضائیہ

آئی سی جی

 

این ایس سی ایس

ایم او ڈی (فن)

ڈی آر ڈی او

ڈی ڈی پی

ڈی جی کیو اے

 

ایم پی آئی ڈی ایس اے

پی ایس ڈی چیمبر

دہلی پالیسی گروپ

انڈین ڈیفنس ریسرچ

فکی، سی آئی آئی ایسوچیم

یو ایس آئی بی سی / یو ایس آئی ایس ایف

اے ایم سی ایچ اے ایم

یو کے آئی بی سی

آر او ای

کے پی ایم جی

بھارتی(30)

ٹاٹا

ایل اینڈ ٹی

مہندرا

اڈانی گروپ

 

غیر ملکی (20)

2.ڈی اے پی 2020کو حکومت کے آتم نربھر بھارت کے وژن کے ساتھ جوڑا گیا ہے اور اس کا میک اِن انڈیا پہل کے توسط سے ہندوستانی گھریلو صنعت کو مستحکم بنانے کے ساتھ ہندوستان کو عالمی مینوفیکچرنگ مرکز میں بدلنے کا حتمی مقصد ہے۔ نئی غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری پالیسی کے اعلان کےساتھ ڈی اے پی2020 میں ہندوستانی گھریلو صنعت کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے درآمدات متبادل اور برآمدات دونوں کے لئے مینوفیکچرنگ مرکز قائم کرنے کے لئے ایف ڈی آئی کو تحریک دینے کیلئے مناسب طور سے التزامات شامل کیے گئے ہیں۔ آتم نربھر بھارت ابھیان میں  شامل کیے گئے خصوصی اصلاحات درج ذیل ہیں:

(اے) درآمدات پر پابندی کیلئے ہتھیاروں/ پلیٹ فارموں کی ایک فہرست کو نوٹیفائی کرنا۔ ڈی اے پی میں متعلقہ التزامات کیے گئے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ فہرست میں مذکور کسی ساز وسامان کی خریداری درآمدات سے قبل نوٹیفائیڈ وقت کی حد کے بعدنہیں کی گئی ہے۔

(بی)درآمدشدہ آلات اور پرزوں کی اندرون ملک پیداوارکرنا۔

  1. اطلاعات کے لئے گزارش۔ آر ایف آئی مرحلہ آلات / چھوٹے پرزے کی سطح پر مینوفیکچرنگ اور گھریلو صورتحال نظام کے قیام کیلئے ممکنہ غیرملکی وینڈروں کی خواہش کا پتہ لگائے گا۔
  2. خریداری کے نئے زمرے (عالمی - ہندوستان میں پیداوار) نئے زمرے میں ہندوستان میں اپنے معاون کمپنی کے توسط سے آلات کے پورے / حصے یا پزرے/ اسمبلی/سب اسمبلی / رکھ رکھاؤ،مرمت اور اووہال (ایم آر او) سہولت کی تعمیر شامل ہے۔
  3. آئی جی اے کے ذریعے ملکر پیداوار کرنا۔یہ آئی جی اے کے ذریعے مل جل کر پیداوار  کی سہولتوں کے قیام میں اہل بناتا ہے جس سے درآمدات متبادل حاصل ہوگا اور لائف سائیکل کی لاگت کو  کم کرنے میں مدد ملے گی۔
  4. کنٹریکچول صلاحیت۔ اس میں گھریلو صورتحال نظام کے ذریعے لائف سائیکل امدادی لاگت اور نظام میں بہتری کو موافق بنانے کیلئے خریدار کا حق شامل ہے۔

(سی)دفاعی مینوفیکچرنگ میں ایف ڈی آئی۔نئی ایف ڈی آئی پالیسی کے اعلان کےساتھ، نئے زمرے ‘خریدیں (عالمی – ہندوستان میں مینوفیکچرنگ)’جیسے مناسب اُمور کو شامل کیا گیا ہے تاکہ گھریلو صنعت کو ضروری تحفظ فراہم کرتے ہوئے غیرملکی او ای ایم کو ہندوستان میں اپنی معاون کمپنی کے ذریعے ‘مینوفیکچرنگ / رکھ رکھاؤ اداروں’ کے قیام  کیلئے حوصلہ افزائی کی جاسکے۔

(ڈی)مقررہ وقت کے ذریعے دفاعی خریداری طریقہ کار اور تیزی سے فیصلہ لینا۔آتم نربھر بھارت ابھیان میں اعلان کردہ دفاعی اصلاحات کے ایک حصے کے طور پر کنٹریکٹ مینجمنٹ کا تعاون کرنے کیلئے ایک پی ایم یو کا قیام ضروری ہے۔ پی ایم یو تحویل طریقہ کار کوکارگر بنانے کیلئے خصوصی شعبوں میں صلاحکار اور مشاورت میں تعاون حاصل کرنے کی سہولت فراہم کریگا۔ ان اصلاحات میں شامل دیگر اُمور ہیں:۔

  1. ہتھیاروں / پلیٹ فارموں کے جی ایس کیو آر کا حقیقی قیام۔ عالمی اور گھریلو بازاروں میں دستیاب مسابقتی ا ٓلات کے تجزیے کی بنیاد پر قابل تصدیق پیرامیٹرس کی شناخت کرنے پر زیادہ زور دینے کے ساتھ ایس کیو آر کے قیام کے عمل کو مزید واضح کیا گیا ہے۔
  2. تجزیاتی طریقہ کار کو آسان بنانا۔ ڈی اے پی 2020 شفافیت، غیرجانبداری اور سبھی کیلئے مساوی مواقع  کے اصول کی بنیاد پرمسابقت کو بڑھاوا دینے کے مقصد کے ساتھ جانچ کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے، اس میں خاتمے کے طریقہ کار کو لاگو نہیں کیا جاتا ہے۔

3.تجارت کرنے میں آسانی۔جائزے کے کلیدی فوکس کے شعبوں میں سے ایک تھا ‘ایز آف ڈوئنگ بزنس’ (تجارت کرنے میں آسانی) کو لاگو کرنا جس میں آسانی، وفد پر زور اور کچھ مخصوص التزامات کے سا تھ طریقہ کار کو صنعت کے موافق بنانا شامل تھا۔

(اے) طریقہ کار میں بدلاؤ۔

  1. 500 کروڑ روپئے تک کے سبھی معاملوں میں اے او این کا واحد اسٹیج سمجھوتے کو قائم کیا گیا ہے، جس سے وقت کم لگے گا۔
  2. اے او ایم کے سمجھوتے کے بعد ایف ٹی پی معاملوں کو فراہم کردہ اختیارات کے مطابق آگے بڑھایا جائیگا جس سے خریداری سائیکل کی تعداد میں کمی آئے گی۔
  3. منصوبہ بندی کے عمل میں، ایل ٹی آئی پی پی کو مربوط صلاحیت ترقیاتی منصوبہ (آئی سی ڈی پی) کے طور پر پھر سے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں 15 برس کے بجائے دس برس کی مدت شامل ہے۔

(بی)تجویز  کے لئے درخواست(آر ایف پی) اور معیاری کنٹریکٹر دستاویز (ایس سی ڈی)۔ فلو چارٹ رہنما خطوط کے التزامات اور جہاں اسکیمیں پہلے سے متعارف طریقے کے مطابق ترقی نہیں کررہی ہیں وہاں آر ایف پی اور ایس سی ڈی میں التزامات کو اہل کرنے کے ساتھ ساتھ ضروریات کو وضاحت اور آسانی فراہم کرنے کے کچھ اقدامات شامل کو شامل کیا گیا ہے۔

ڈی اے پی 2020 کی اہم خصوصیات

4.ہندوستانی وینڈروں کے لئے زمروں میں ریزرویشن ۔ خریدیں(ہندوستانی۔ اائی ڈی ڈی ایم)، میکI، میک II، ڈیزائن اور ترقی میں پیداواری ایجنسی، او ایف بی/ ڈی پی ایس یو اور ایس پی ماڈل کے زمرے خصوصی طور سے ہندوستانی وینڈروں کیلئے ریزرو ہوں گے جو 49 فیصد سے کم ایف ڈی آئی  کے ساتھ ہندوستان میں رہنے والے شہریوں کے ذریعے ملکیت اور کنٹرول کے معیار کو پورا کرتے ہیں۔ یہ ریزرویشن گھریلو ہندوستانی صنعت میں شراکت داری میں خصوصیت فراہم کریگا۔

5.گھریلو ساز وسامان کو فروغ دینا

(اے) گھریلو ساز وسامان (آئی ای سی)  میں مجموعی اضافہ۔

 

نمبر شمار

زمرہ

ڈی پی پی 2016

ڈی اے پی 2020

(i)

بائی (انڈین) آئی ڈی ڈی ایم

کم از کم  40%

کم از کم  50%

(ii)

بائی (انڈین)

کم از کم  40%

گھریلو ڈیزائنکم از کم  50%

دیگر ڈیزائنکم از کم  60%

(iii)

بائی اینڈ میک (انڈین)

میک کا کم از کم 50%

میک کا کم از کم 50%

 

(iv)

بائی (گلوبل – ہندوستان میں مینوفیکچرنگ)

-

بائی پلس میک کا کم ا ز کم 50%

(v)

بائی (گلوبل)

-

ہندوساتنی وینڈروں کیلئے کم  از کم 30%

 

(بی)آئی سی تصدیق۔ ایک آسان اور عملی تصدیق کا عمل شروع کیا گیا ہے اور آئی سی کی گنتی اب بیس کنٹریکٹ پرائز یعنی کُل کنٹریکٹ  قیمت ٹیکسز اور محصولات کو چھوڑ کر، کی بنیاد پر کی جائے گی۔

6.ٹرائل اور ٹیسٹنگ کے طریقہ کار کو معقول بنانا۔

(اے) روزگاریت اور دیگرشرائط پرمبنی آلات کے لئے مناسب سرٹیفکیشن حاصل کیے جاسکتے ہیں جس میں فنکشنل مؤثریت کی تصدیق ہو۔

(بی)ٹیسٹنگ کادائرہ  اہم آپریشنل معیارات کے فزیکل تجزیے تک محدود رہے گا، جبکہ تسلیم شدہ لیباریٹریوں، کمپیوٹر پر مبنی پیرا میٹر کے ذریعے وینڈر سرٹیفکیشن اور دیگر معیارات کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔

7.میک اینڈ انّوویشن۔

(اے) میکI (70 فیصد تک سرکار کے ذریعے مالی امداد کی فراہمی) 250 کروڑ روپئے / ڈی اے کی حد لگائی گئی ہے اور بولی کے معیارات پر مبنی ڈی اے کا انتخاب ہوگا۔

(بی)سب اجزا/ اسمبلی کے ساتھ ساتھ گھریلو طور سے ڈیزائن اور تیار کردہ ہتھیاروں/ آلات/ نظام/ پیلٹ فارموں کی پیداوار کیلئے میک۔II (انڈسٹری کی امداد یافتہ)

8.ڈیزائن اور ترقی۔ ڈی آر ڈی او / ڈی پی ایس یو/ او ایف بی کے ذریعے ڈیزائن کردہ نظام کی تحویل کے لئے ڈی اے پی 2020 میں الگ سے ایک مخصوص چیپٹر شامل کیا گیا ہے۔ تصدیق کے عمل اور سیمولیشن کے ذریعے تجزیے پر زیادہ زور دینے اور وقت میں کمی لانے کیلئے مربوط واحد اسٹیج ٹرائل کے ساتھ ایک آسان طریقہ کار اپنایا جائیگا۔ اسپائرل ترقی کے پہلوؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

9.خالی پن کا حل۔ نئے چیپٹر کےطور پرمخصوص موجودہ خالی پن کو دور کیا گیا ہے:

(اے) اطلاعاتی مواصلاتی ٹیکنالوجی۔ خصوصی طور سے انٹرآپریبلٹی) اور بلٹ۔اِن اپ گریڈیبلٹی، اضافہ شدہ تحفظاتی ضرورتوں اور بندوبست کی تبدیلی میں آئی سی ٹی شدت والے آلات کی خریداری سے متعلق اُمور شامل کیے گئے ہیں۔

(بی)لیز پر دینا۔ اثاثے پر مالکانہ حق کے بنا ان کا آپریشن کرنے کیلئے ایک نئے زمرے کو شروع کیا گیا ہے جوبڑی ابتدائی پونجی  کے متبادل کو متعارف کرتا ہے۔

10.صنعت کے موافق تجارتی شرائط۔

(اے)وینڈروں کے ذریعے  شروعاتی قیمتوں کو بڑھانے سے روکنے اور پروجیکٹوں کی اصل قیمت پر پہنچنے کیلئے بڑے ٹھیکوں کیلئے قیمت اتار چڑھاؤ شق کو شامل کیا گیا ہے۔

(بی)وینڈروں کو ادائیگی۔ وینڈروں کو وقت پر ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے مقررہ وقت کی حد کے اندر تصدیق کے ذریعے ایس ایچ کیو / پی سی ڈی اے کے ذریعے دستاویزات کی متوازی پروسیسنگ جیسے مناسب التزامات کو شامل کیا گیا ہے۔ ہندوستانی صنعت کو ادائیگی غیرملکی صنعت کے جیسے کیے جانے کی تجویز رکھی گئی ہے۔

11.آفسیٹ۔ آفسیٹ رہنما خطوط میں ترمیم کی گئی ہے، جس میں اجزا کے مقابلے مکمل دفاعی پیداوار کی مینوفیکچرنگ کو ترجیح دی جائے گی اور آفسیٹ کے کام نمٹانے میں حوصلہ افزائی کیلئے مختلف ملٹی پلیئروں کو جوڑا گیا ہے۔

12.حقیقت میں، ڈی اے پی 2020 جسے ایک سال سے زیادہ کے وقت میں تیار کیا گیا ہے، حکومت ہند کے آتم نربھر بھارت وژن اور میک اِن انڈیا کے عین موافق  اور صنعت کے موافق طریقہ کار ہے۔ ڈی اے پی 2020 دستاویز ایک اعتماد پیدا کرتا ہےاور شعبے سے منسلک سبھی اسٹیک ہولڈروں کی امیدوں اور آرزوؤں کو یہ پورا کریگا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002UFJJ.png

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003L74U.png

 

 

-----------------------

 

م ن۔م ع۔ ع ن

U NO: 5930



(Release ID: 1659977) Visitor Counter : 179