محنت اور روزگار کی وزارت

ای پی ایف اور متفرق التزامات قانون، 1952 کے تحت نیم-عدالتی معاملوں میں ورچوئل سماعت کے آغاز کے ساتھ تیزاور کفایتی عدالتی فیصلوں کےعہدکا آغاز

Posted On: 14 SEP 2020 4:30PM by PIB Delhi

 

نئی دلی، 14ستمبر، ای پی ایف اور ایم پی قانون، 1952 کے تحت نیم-عدالتی معاملوں میں ورچوئل سنوائی شروع ہونے کے ساتھ اب تیز رفتار اورکفایتی عدالتی فیصلےکئے جانے کے عہد کاآغاز ہو چکا ہے۔

یہ کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ای پی ایف او کی طرف سے کی گئی پہل کے سلسلے کا ایک حصہ ہے، جو محفوظ آئی ٹی ایپلی کیشنز کے استعمال سے نیم-عدالتی امور میں ورچوئل سماعت کرانے کیلئے ایک نئی سہولت ہے۔ اس کا آغاز محنت اور روزگار کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب سنتوش کمار گنگوار نے متولیان کے مرکزی بورڈ یعنی سنٹرل بورڈ آف ٹرسٹیز، ای پی ایف کی 227ویں میٹنگ میں 9 ستمبر 2020 کو ورچوئل میٹنگ کی۔

کووڈ-19 وبا کے پھوٹنے اور سماجی دوری کی شرائط پر عمل کرنے کی ضرورت کے تحت بیشتر اضلاع اور سیشن عدالتوں میں ورچوئل سماعت کی جا رہی ہے تاکہ بھارت کی عدالت عظمیٰ اور متعلقہ ہائی کورٹوں کے رہنما اصولوں کی رو سے عالمی وبا کے دوران معاملات کے بروقت فیصلوں کو یقینی بنانے کے لئے ہے۔ اُسی جذبے کے ساتھ اور اپنے اداروں اور سبسکرائبرز کو تیز رفتار عدالتی فیصلے فراہم کرنے کی غرض سے ، امپلائیز پروویڈنٹ فنڈ اور متفرق التزامات قانون 1952 کی دفعات -7اے، اور 14-بی، کے تحت سماعت ورچوئل طریقے سے کی جائے گی۔

ورچوئل عدالت ایسا تصور ہے جس کا مقصد آن لائن موڈ کے توسط سےمقدمے کی سنوائی کو آسان بنا کر مدعی اور وکلاء کی بذات خود حاضری کی ضرورت کو ختم کرنا ہے۔

اسے آسان بنانے کے لیے کمپلائنس ای-پروسیڈنگ پورٹل (https://eproceedings.epfindia.gov.in) پر ای پی ایف او کی ای-عدالتی عمل کے ساتھ ورچوئل سہولت کو منسلک کیا گیا ہے۔ یہ ای-نوٹس جاری کرنے، کارروائی کی بروقت ریکارڈنگ اور احکام کی ترسیل میں آسانی پیدا کرے گی۔ یومیہ اور حتمی احکام  سمیت معاملوں کی نوعیت اب پورٹل پر سبھی فریقوں کیلئے قابل رسائی ہوگی۔

ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے سنوائی کے متعدد فائدے ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ فریقوں کی عدالت میں بذات موجودگی یا حاضری کی ضرورت نہیں ہوتی، جہاں دونوں فریقوں کو سماعت کیلئے شخصی طور پر حاضر ہونے کے لئے میلوں کا فاصلہ طے کرنا پڑتا تھا۔  ساتھ ہی یہ امپلائر کیلئے قیمت اور وقت کی بچت کا سبب بھی ہوگی۔  سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سے کاربن فٹ پرنٹ کم ہوگا۔ ڈیجیٹائزیشن سے التوا میں پڑے معاملات کی تعداد میں کمی آئے گی اور تاخیر سے انصاف ملنے میں یہ ایک مؤثرتدبیر ثابت ہوگی۔

اس کے علاوہ، فریقوں کی عدم  موجودگی کے باعث ہونے والی غیر ضروری برخاستگیوں سے اب بچا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں تنازعات کو تیزی سے نمٹانے کے لیے عدالتی نظام میں بہتر ی   آئے گی اور نیم عدالتی  نظام پر اعتماد پید ا ہوگا۔ آن لائن وسیلے سے سنوائی  کا مقصد یہ ہے کہ متعلقہ  فریقین کو ذاتی طور پیش نہ ہونا  پڑے۔یہ اسی سمت  ایک قدم ہے۔

جولائی اور اگست، 2020 کے مہینوں میں ای پی ایف او کے دو علاقائی دفاتر میں ایک ہی وقت میں کامیاب پائلٹ رَن کے بعد اس کی شروعات کی گئی ہے۔ اولین سماعت کے دوران، 90نیم-عدالتی معاملوں میں آن لائن میٹنگ سہولت کے توسط سے ورچوئل سماعت کی گئی تھی، جس میں سرکردہ اداروں کے اعلیٰ انتظامیہ نے شرکت کی۔ جس سے تیزی سے فیصلہ، رضامندی  اور منظوری اور فوری تکمیل ممکن ہوئی۔ امپلائرس نے خصوصی طور پر عالمی وبا کے دوران ورچوئل سماعت میں حصہ لینے میں آسانی اور سہولت کی ستائش  کی ہے۔

ای پی ایف او، کووڈ-19 وبا کے دوران نِربادھ یعنی فریقین کو بلارکاوٹ خدمات فراہم کرنے کی اپنی ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مؤثر طور پر وسعت دینےکیلئے لگاتار تازہ ترین رجحانات اور ٹیکنالوجیز کا استعمال کرنے کے لئے کوششیں کر رہی ہے۔

 

*************

( م ن ۔ ع ا۔ ک ا(

U. No.5411

 

 



(Release ID: 1654496) Visitor Counter : 23