سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

ڈی ایس ٹی نے اختراع صنعتکاری اور انکیوبیشن کوتعاون دینے سے متعلق رپورٹ جاری کی


ڈی ایس ٹی نے 153 انکیوبیٹروں کا قیام کیااور اس نیٹ ورک کے ذریعے انکیوبیشن کے تحت 3681 اسٹارٹ اپ کوترقی دی، اس کے علاوہ 1992 دانشورانہ املاک پیداکیے گئے ہیں

Posted On: 10 SEP 2020 12:50PM by PIB Delhi

سائنس اورٹیکنالوجی محکمے کے سکریٹری پروفیسر آسوتوش شرمانے اختراع، صنعت کاری اور انکیوبیشن میں تعاون فراہم کرنےکیلئے قومی سائنس اور ٹیکنالوجی ، صنعتکاری ترقیاتی بورڈ (این ایس ٹی ای ڈی بی) کے سفر سے متعلق ایک رپورٹ آن لائن پروگرام میں جاری کی۔

ڈی ایس ٹی  کے سکریٹری پروفیسر شرمانے رپورٹ کا اجراء کرتے ہوئے کہا ‘‘قومی سائنس و ٹیکنالوجی صنعتکاری ترقیاتی بورڈ(این ایس ٹی ای ڈی بی) کے توسط سے سائنس اورٹیکنالوجی کےمحکمے (ڈی ایس ٹی ) نے انکیوبیٹروں کے اسٹارٹ اپ کو بڑھاوا دینے اور ترقی دینے میں اہم کردارادا کیا ہے۔ نتائج کے نقطہ نظر سے پچھلے پانچ برس اہم رہے ہیں۔ جیساکہ رپورٹ سے بھی واضح ہے’’۔

این ایس ٹی ای ڈی بی کی سربراہ ڈاکٹر انیتا گپتانے کہا ‘‘این ایس ٹی ای ڈی بی اور ڈی ایس ٹی کے ذریعے پچھلے پانچ برسوں کے دوران اختراع پرمبنی صنعتکاری اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں انکیوبیشن سرگرمیوں کے تعاون کیلئے کئی گئی کوششیں اہم  رہی ہیں اور ان کی رفتار اور پیمانے میں بھی اضافہ درج ہوا ہے۔

این ایس ٹی ای ڈی بی کے ذریعے شروع کیے گئے نیشنل انیشیٹیو فار ڈیولپنگ اینڈہارنیسنگ انّوویشن (ندھی) نے اسٹارٹ اپ انڈیا اور اسٹینڈ اپ انڈیاجیسے پروگراموں سے اتحاد کیا گیا ہے اور انکیوبیٹر کی رہنمائی میں اختراع ویلو چین کو سرگرم کرنے میں اہم کردار اداکیا ہے۔ اس نے پچھلے پانچ برسوں میں ملک میں اکیڈمک قیادت والے اختراع اوراسٹارٹ اپ نظام کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کام میں ٹیکنالوجی پر مبنی  انکیوبیٹروں کے نیٹ ورکنگ کاقیام، اختراعات کی تلاش ، پروٹو ٹائپ کیلئے اختراعات کی حمایت کرنا اختراع کاروں کو اسٹارٹ اپس کے طور پر اہل بنانا انکیوبیٹیڈ اسٹارٹ اپس کو وقت پر سیڈفنڈنگ کا انتظام اوراسٹارٹ اپ کو رہنمائی ساجھیداری اور نیٹ  کے ذریعے سے تعاون دینا وغیرہ  شامل تھے۔

یہ کوشش ملک کے سبھی جغرافیائی علاقوں میں کی گئی ہے اس کے علاوہ ڈی ایس ٹی کے ذریعے قائم کردہ 153 انکیوبیٹروں کے نیٹ ورک کے ذریعے سے انکیوبیشن کےتحت 3681 اسٹارٹ اپس کو ترقی دی گئی ہے اور 1992 دانشورانہ املاک بھی پیداکیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ انپیکٹ رپورٹ کی اہم باتوں میں شامل ہیں: پچھلے پانچ برسوں میں 61138 براہ راست روزگارپیداکیے گئےہیں اور 27262 کروڑ روپئے کی اقتصادی دولت پیداکی گئی ہے۔ ڈی ایس ٹی  کی ہمہ جہت کوششوں نے پورے ملک میں اختراع اور صنعتکاری کے جذبے کو فروغ دیا ہے۔

اس رپورٹ میں سیڈ فنڈنگ  حاصل کرنے والے اسٹارٹ اپس کے ذریعے انجیل، وینچر کیپٹل  اور دیگر اسٹیک ہولڈروں کے مالی امداد میں ہوئے پانچ گنا اضافے کا بھی ذکرکیا گیا ہے۔ کُل ملاکر این ایس ٹی ای ڈی بی نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تکنیکی طاقت کافائدہ تعلیمی انکیوبیٹروں کے نیٹ ورک کے ذریعے اسٹارٹ اپ تک پہنچایا ہے۔ این ایس ٹی ای ڈی بی نے ان انکیوبیٹروں کی سیڈ فنڈنگ کی ہے اور ان کا تعاون کیا ہے جس کے سبب ان اسٹارٹ اپس کو کامیابی ملی ہے۔

ندھی پروگرام،ڈی ایس ٹی انکیوبیٹر نیٹ ورک اور اس کے اسٹارپ اپ کی اجتماعی طاقت کا امتحان کووڈ19 بحران کے دوران ہوا۔ بحران سے نمٹنےکیلئے سینٹر فار آگمینٹنگ وار وِد ہیلتھ کرائسس (کوچھ) پروگرام کے ذریعے مختلف حل کا تعاون کیاگیاتھا۔

رپورٹ کو ڈی ایس ٹی کی حمایت یافتہ انکیوبیٹر برادری اوراین ایس ٹی ای بی ڈی ٹیم کی موجودگی میں جاری کیا گیا۔

رپورٹ کیلئے لنک:

http://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003CKP0.jpghttp://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00448M2.jpg

 

http://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005718W.jpg

 

-----------------------

م ن۔م ع۔ ع ن

U NO: 5302



(Release ID: 1653569) Visitor Counter : 161