بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت

من سکھ منڈاویہ نے ایس اے آر او ڈی۔ پورٹس کا آغاز کیا

ایس اے آر او ڈی ۔ پورٹس بحری شعبے کے ہر قسم کے تنازعات کے حل کے لئے قابل استطاعت تنازعہ ازالہ میکنزم ہے

یہ میکنزم بھارت کے بندرگاہ شعبے میں امید، وشواس (اعتماد )اور نیائے (انصاف)فراہم کرنے والا محوری میکنزم بن جائے گا: جناب منڈاویہ

Posted On: 10 SEP 2020 3:13PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 10 ستمبر، 2020: جہازرانی کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)جناب من سکھ منڈوایہ نے آج ایس اے آر او ڈی۔ پورٹس (تنازعات کا حل نکالنے سے متعلق نظام کی سوسائٹی ۔ پورٹس)کا نئی دہلی میں ورچووَل تقریب کے ذریعہ آغاز کیا۔

اس آغاز کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے من سکھ منڈاویہ نے ایس اے آر او ڈی۔ پورٹس کو صورتحال کو یکسر بدلنے والا نظام قرار دیا اور کہا کہ یہ بھارت میں امید، وشواس (اعتماد)اور نیائے (انصاف)کا ایک محوری میکنزم ثابت ہوگا۔ جناب منڈاویہ نے یہ بھی کہا کہ مراعات کے حامل معاہدات کو لفظ بہ لفظ اور ان کے اصل مقصد کے مطابق نافذ کرنا اولین ترجیح ہے۔ ایس اے آر او ڈی۔ بندرگاہیں تنازعات کا حل منصفانہ اور معقول انداز میں نکالیں گی اور اس طریقے سے بڑی مقدار میں قانونی امور پر عائد ہونے والے اخراجات اور وقت دونوں کی بچت ہو سکے گی۔

http://164.100.117.97/WriteReadData/userfiles/image/_10A8900RKWR.JPG

جہاز رانی کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر سنجیو رنجن نے کہا کہ تمام بڑی بندرگاہیں آنے والے دنوں میں لینڈ لارڈ ماڈل میں بدل جائیں گے۔ بڑی بندرگاہوں کے ساتھ متعدد مراعات یافتہ ادارے مربوط ہو جائیں گے۔ ایس اے آر او ڈی۔ بندرگاہیں پرائیویٹ پلیئرس کے اعتماد کو مہمیز کریں گی اور ہمارے شراکت داروں کے لئے صحیح ماحول فراہم کریں گی۔ ان کے ذریعہ تیز رفتار بروقت، کم لاگت والے اور مضبوط تنازعاتی حل نکالنے کے میکنزم کی فراہمی کی وجہ سے بحری شعبے میں کاروبار کرنا آسان ہوگا اور اسے فروغ حاصل ہوگا۔

ایس اے آر او ڈی۔ بندرگاہوں  کا قیام درج ذیل مقاصد کے ساتھ سوسائیٹیوں کو درج رجسٹر کرنے سے متعلق ایکٹ 1860 کے تحت عمل میں آیا ہے۔

1۔ تنازعات کا قابل استطاعت اور بروقت حل نکالنے کا منصفانہ طریقہ

2۔ تنازعات کا حل نکالنے کے میکنزم کو مضبوط بنانا اور اس میں تکنیکی ماہرین اور ثالثوں کے ایک پینل کی شمولیت

ایس اے آر او ڈی۔ بندرگاہیں اب وہ ادارہ ہے جس میں بھارتی بندرگاہوں سے متعلق ایسو سی ایشن (آئی پی اے) انڈین پرائیویٹ پورٹس اینڈ ٹرمنلس ایسی سو ایشن (آئی پی ٹی ٹی اے) کے اراکین بھی شامل ہیں۔

ایس اے آر او ڈی۔ پورٹس بحری شعبے میں پنچاٹ کے توسط سے تنازعات کا حل نکالنے میں مشاورت اور امداد دونوں فراہم کرے گی، اس میں بڑے بندرگاہوں کے ٹرسٹ کے تحت شامل بندرگاہیں اور جہاز رانی کا شعبہ، غیر بندرگاہیں، گودیاں، ٹرمنل اور ہاربر بھی شامل ہوں گے۔ اس کے تحت لائسنس جاری کرنے والی اتھارٹی اور لائسنس حاصل کرنے والوں / مراعات یافتہ اداروں / ٹھیکے داروں کے مابین رونما ہونے والے تنازعات اور لائسنس یافتہ افراد اور اداروں نیز مراعات یافتہ اداروں کے مابین ہونے والے تنازعات اور ان کے ٹھیکے داروں کے تنازعات کو مختلف ٹھیکوں پر عمل آوری کے دوران بھی نمٹایا جائے گا۔

ایس اے آر او ڈی۔ پورٹس کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ اس کی تجاویز ہائی وے شعبے کے تحت دستیاب تجاویز سے مشابہ ہیں یعنی این ایچ اے آئی کے ذریعہ تشکیل کردہ ایس اے آر او ڈی۔روڈس کی تجاویز سے مماثل ہیں۔

 

پس منظر:

مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں ماڈل کنسیشن اگریمنٹ (ایم سی اے ) میں ترامیم کو اپنی منظوری دے دی ہے ، جنوری 2018 میں، ایم سی اے میں جو ترامیم عمل میں لائی گئی تھیں ان کےمطابق ایس اے آر او ڈی۔ پورٹس کی تشکیل بڑی بندرگاہوں میں پی پی پی پروجیکٹوں سے متعلق تنازعات کا حل نکالنے کے میکنزم کے طور پر عمل میں آئی تھی۔

 

*****

 

 

م ن ۔ ا ب ن                                                     

U – 5261

 



(Release ID: 1653258) Visitor Counter : 3