سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

ڈاکٹر ہرش وردھن نے ایس ٹی آئی پی 2020کی تشکیل میں عوامی حصے داری کی اپیل کی


تیار کی جارہی ایس ٹی آئی پی 2020 کے سلسلے میں ملک بھر کے فکری رہنماؤں سے خصوصی بات چیت کے ایک سلسلے –‘ای کنورسیشن ود’ کا افتتاح کیا

‘‘اسکول کے بچوں کے لیے کوئز کو مقبول بنانا’’ کے ساتھ ‘مائی گوو پورٹل’ پر ایس ٹی آئی پی 2020 صفحہ کا بھی افتتاح کیا

مجوزہ ایس ٹی آئی پالیسی لاکھوں نوجوان بھارتی سائنسدانوں اور طلبا کے خوابوں اور امنگوں کی تکمیل کی اہل ہونی چاہیے: ڈاکٹر ہرش وردھن

Posted On: 28 AUG 2020 7:32PM by PIB Delhi

نئی دلّی  ،  28 اگست 2020 / سائنس و ٹیکنالوجی ، ارضیاتی سائنس، صحت وکنبہ بہبود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے شواہد پر مبنی ، شمولیت والی سائنس ٹیکنالوجی اور اختراعاتی پالیسی  (ایس ٹی آئی پی 2020) تشکیل دینے کے لیے پورے ملک اور بیرون ملک سے وسیع پیمانے پر  حصص داروں اور عام لوگوں کو دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے دیسی ٹیکنالوجی میں خودکفیل بننے کے ساتھ روایتی تحقیق و ترقی میں روایتی نظام علوم کے اصل دھارے کو شامل کرنے اور صنعت –اکیڈمیا کو مضبوط کرنے  کے ساتھ ساتھ حکومتوں کو باہمی تعلقات اور برابری کو فروغ ملے گا۔

تیار کی جارہی ایس ٹی آئی پی 2020 کے بارے میں ملک اور بیرون ملک آباد بھارتی فکری رہنماؤں سے خصوصی بات چیت کے ایک سلسلے –‘ان کنورسیشن ود’ کے افتتاحی موقع پر ڈاکٹر ہرش وردھن اظہار خیال کررہے تھے۔ انہوں نے ایک ورچوول پروگرام میں 28 اگست 2020 کو  ‘‘اسکول کے بچوں کے  لیے کوئز کو مقبول  بنانا’’ کے ساتھ  ‘مائی گوو پورٹل’ پر  ایس ٹی آئی پی 2020 صفحہ کا بھی افتتاح کیا۔


https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001J9FH.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002PTFZ.jpg

 

اپنی تقریر میں ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ پورے ایس ٹی آئی ماحولیاتی نظام میں حالیہ برسوں میں موزونیت، مواقع اور اسکیل کے تناظر میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے۔ اسے قوم کے لیے ایک طویل مدتی ترقیاتی  مدارج  اور تصو کی شکل میں فروغ دینے کے لیے ایک پالیسی کے طور پر اپنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 نے ایس ٹی آئی نظام میں  کچھ نئے تدریسی جہات کا اضافہ کیا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ایک خودکفیل بھارت کی تعمیر کے لیے دیسی ٹیکنالوجی کے فروغ اور زمینی سطح پر اختراعات کی حوصلہ افزائی پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوگی۔ یہ موثر ٹیکنالوجی کے ابھار کا وقت ہے اور قوم کو اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ مجوزہ ایس ٹی آئی پالیسی سے حالیہ برسوں میں ایس ٹی آئی ماحولیاتی نظام میں پیش رفت اور ایک طویل مدتی راہ کی تعمیر کو آگے بڑھانے کے علاوہ لاکھوں نوجوان بھارتی سائنسدانوں اور طلبا کے خوابوں اور امنگوں کی تکمیل ہونے کی امید ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تبھی ممکن ہے جب ہم پالیسی سازی کو پوری طرح سے شمولیت اور شراکت داری پر مبنی بناتے ہیں۔

پالیسی سازی کے عمل کو واضح کرتے ہوئے جناب ہرش وردھن نے بتایا کہ ایس ٹی آئی پی  2020 کے طریقہ کار کو چار ایک دوسرے سے مربوط عمل میں تقسیم کیا گیاہے۔

ڈی ایس ٹی  کے سکریٹری پروفیسر آشوتوش شرما نے  کہا کہ بھارت اور دنیا کے سامنے کووڈ-19 کے موجودہ بحران کے پس منظر میں ایک تاریخی پالیسی ایس ٹی آئی پی 2020 کا افتتاح کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں تشکیل کا عمل ڈیزائن کی بنیاد پر ایک شمولیت اور شراکت داری پر مشتمل ماڈل کی شکل میں جانا جاتاہے۔جس میں سرگرمیوں کے مختلف ٹریک کے درمیان باہمی ربط ہے۔

بعد میں ڈی ایس ٹی کے سکریٹری  پروفیسر آشوتوش شرما کی نظامت میں منعقدہ ایک مباحثے میں ڈاکٹر ہرش وردھن نے ایس ٹی آئی ماحولیاتی نظام اور ایس ٹی آئی پالیسی سے متعلق امور پر متعدد سوالوں کے جواب دیے۔ شرکا نے لائیو وی بیکس پلیٹ فارم کے ذریعے  سوالات دریافت کیے۔ انہوں نے شرکا سے اختراعات پر مبنی مشورے بھی لیے۔ اس تبادلہ خیال سے سامنے آنے والے مشوروں کو ایس ٹی آئی پی 2020 پالیسی پروسیس کے ان پٹ  کے طور پر بھی استعمال کیا جائے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0038L5G.jpg

اس ورچوول پروگرام میں شامل ہونے والے معززین میں پالیسی پلاننگ کے سربراہ  ڈاکٹر اکھلیش گپتا،مائی گوو کے سی ای او جناب ابھیشیک سنگھ، سائنس پالیسی فورم کے شریک بانی جناب آدتیہ کوشک، ڈی ایس ٹی سائنسداں ڈاکٹر رابندر پنی گرہی، ڈی ایس ٹی – ایس ٹی آئی پالیسی فیلو ڈاکٹر نمیتا پانڈے،حکومت ہند کے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر کے دفتر میں سینئر ٹیکنیکل اسپیشلسٹ ڈاکٹر چگن باشا کے نام شامل ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00459FS.jpg

Hyper Links;

  1. Background Note on STIP-2020
  2. Introduction to Formulation Process
  3. Journey of Last Six Years--Ministry of Science & Technology, and Earth Sciences

   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ( م ن  ۔ م م۔ت ع )

    (28-08-2020 )

U. No. 4955



(Release ID: 1649979) Visitor Counter : 197