صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

ڈاکٹر ہر ش ودھن نے ایف ایس ایس اے آئی کے ایٹ رائٹ چیلنج اورینٹیشن  ورکشاپ سے  ڈیجیٹلی  خطاب کیا

Posted On: 19 AUG 2020 5:47PM by PIB Delhi

نئی دہلی،19اگست  2020/ صحت اور خاندانی بہبود کے  مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے انڈین فوڈ سیکورٹی  اینڈ  اسٹینڈر اتھارٹی  ایف ایس ایس اے آئی  کے  اپنے صحیح کھاؤ چیلنج (ایٹ رائٹ  چیلنج) کے تحت اتھارٹی کے ذریعہ منعقدہ آن لائن ورکشاپ کی  صدارت کی۔ انہوں نے ملک بھر میں  ایٹ رائٹ انڈیا پہل کرنے کے مقصد سے مختلف اسٹیک ہولڈر کی مدد کرنے کے لئے ایف ایس ایس   اے آئی کی   ایٹ رائٹ انڈیا (ہینڈ بک) اور ویب سائٹ eatrightindia.gov.in کی بھی شروعات کی ۔ اس موقع پر  صحت اور خاندانی بہبود  کے وزیر مملکت جناب  اشونی  کمار چوبے بھی   موجود تھے۔

صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے سرپرستی میں ایف ایس ایس  اے آئی  کے ذریعہ  شروع کئے گئے ’ایٹ رائٹ انڈیا‘ تحریک لوگوں میں  محفوظ، صحت مند اور پائیدار کھانے کی عادتوں  کے بارے میں بیداری پیدا کررہی ہیں۔ اسے انجام تک پہنچانے   اور پروگرام کو عوامی تحریک میں بدلنے کے لئے، ایف ایس ایس  اے آئی نے حال ہی میں 197 ضلعوں  اور شہروں کے لئے ایک انوکھے طریقے سے  سالانہ مقابلہ ایٹ رائٹ چیلنج کا اعلان کیا، تاکہ  خوراک کے تحفظ  اور مناسب ماحول کو مضبوط بنانے کے ساتھ  صارفین کے درمیان  بیداری پیدا کی جاسکے اور ان سے  کھانے کے  بہتر  متبادل چننے کے اپیل کی جاسکے۔خوراک سلامتی کمشنر  اور ضلع  افسران جیسے  ضلع مجسٹریٹ اور مقررہ  افسران  بھی  آن لائن   ورکشاپ میں شامل ہوئے۔

ایٹ رائٹ ہینڈ بک جاری کرتے ہوئے ، ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کھانا صرف بھوک  مٹانے یا ذائقے کے لئے نہیں ہے بلکہ صحت اور تغذیہ کے بارے میں ہے۔‘‘ افسران کے لئے اپنے متعلقہ اختیاری  علاقے میں  ایٹ رائٹ انڈیا (ای آر آئی) پہل کو اپنانے اور  اسے آگے بڑھانے کے لئے ایک کارآمد  متعلقہ  رہنما   خطوط  جاری کئے گئے ہیں۔ یہ ورکشاپ اپنے میں انوکھی ثابت ہوئی ہے کیونکہ یہ  ایک واحد مقصد کو حاصل کرنے کے لئے  سڑک کے کنارے  خوانچہ فروشوں سےلے کر بڑے ریستوراں کے  خانساما تک  ایک ہی چھت کے نیچے لایا گیا ہے۔

197 شہروں اور اضلاع کے  موجود افسران کو مخاطب کرتے ہوئے ، انہوں نےمہم کی  ضرورت پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہاکہ  ہندستان میں رہنے والے، 135 کروڑ لوگوں میں سے  ’’196 ملین بھوک کا شکار ہیں، جبکہ 180 ملین  دیگر لوگ موٹاپے سے  پریشان ہیں۔47 ملین بچوں کی فروغ میں رکاوٹ ہے، جبکہ  دیگر 25 ملین برباد ہوگئے ہیں۔ 500 ملین میں مائیکرو تغذیاتی اجزا کی کمی ہے اور سو ملین کھانے سے متعلق بیماریوں کا  شکار ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہاکہ یہ تحریک   ان چیلنجوں کو روکنے اوردور کرنے کے لئے  کھانے اور تغذیہ  کی عادتوں کے بارے میں خوراک، تغذیہ  اور  بیداری کو ترجیح دینے پر  ہماری توجہ مرکوز کرے گی۔  یہ کھانے کی بربادی  اور کھانے کے نپٹارے کے  مسئلے پر بھی  زور دے گا۔

تمام لوگوں کو  2022 میں آزادی کے  75ویں سال تک  ایک نیا ہندستان  بنانے کے وزیراعظم کے عزم کو یاد دلاتے ہوئے ، مرکزی وزیر صحت نے  کہا ’’وزیراعظم نے 2 اکتوبر ، 2014 کو سووچھ بھارت ابھیان  کی شروعات کی، تاکہ ملک میں  گندگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے چھٹکارہ پایا جاسکے۔ جل جیون مشن کا مقصد پائپ لائن کے ذریعہ پینے کے صاف پانی کو مہیا کرانا ہے، تاکہ ملک میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں  کو روکنے میں مدد مل سکے،جبکہ  اجوولا یوجنا دھویں اور  پھیپھڑوں کی بیماریوں سے نمٹنے کے لئے  صاف ایندھن تک رسائی  فراہم کرتی ہے‘‘۔  تغذیہ مہم  انیما سے پاک  ہندستان اور فٹ انڈیا تحریک کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہاکہ  یہ  ’’وزیراعظم کے 2022 تک نئے ہندستان کی  سنگ بنیاد ہے۔ ‘‘ وزیر صحت نے کہا کہ  آیوشمان بھارت صحت اور بہبود مراکز کی  اہم توجہ  تدبیری  ، مثبت  اور تشہیری  صحت پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ڈبلیو سی  وزیراعظم کے  صحت مند ہندستان   کے نظریہ کا  ایک اٹوٹ حصہ ہے۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے امراض کا مقابلہ کرنے میں صحت مند خوراک اور تغذیہ کے ذریعہ  نبھائے گئے   اہم کردار پر تفصیلی بات چیت کی۔ یہ کہتے ہوئے کہ  خوراک کسی میں بھی  مختلف طرح کےامراض کے تئیں  لچیلا پن اور قوت مدافعت  قائم کرنے میں  مدد کرتی ہے، انہوں نے نان کمیونی کیبل یعنی بغیر انفیکشن والے امراض  جیسے ذیابیطس ، ہائی بلڈ پریشر ، قلب سے متعلق امراض او رپیچیدگیاں وغیرہ سے ہونے والی 60.8 فی اموات پر زور دیا جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر نقصاندہ  کھانے  سے  متعلق ہیں۔ یہاں تک کہ انفیشکن والے امراض جیسے تپ دق،ان لوگوں کو بری طرح سے متاثر کرتے ہیں، جو کم تغذیہ  کا شکار ہیں۔ ایک ہی گھر کے لوگ تغذیہ کے ذریعہ  حاصل شدہ قوت مدافعت کی بنیاد پر کووڈ کے  تئیں الگ الگ ردعمل ظاہر کررہے ہیں‘‘۔

 جناب اشونی کمار چوبے نے ’’جسم پر پڑنے والے اثرات کی بنیاد پر کھانے کو زمروں میں بانٹ کر لوگوں کو کھانے کی صحیح عادتوں کے لئے رہنمائی کرنے میں  صدیوں پرانے علم  اور روایتی   آیوروید کے کردار پر روشنی ڈالی۔‘‘بھگوت گیتا اور  اپنیشدوں کے حوالے سے انہوں  نے روایتی کھانوں  کی عادتوں اور پودوں پر  مبنی  کھانےکی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ  صحت مند کھانے کی عادتوں اور سرگرم  یا ایکٹیو  جسمانی سرگرمیوں کے میل سے  ایک بہتر اور صحت مند  ہندستان بنے گا۔

ایف ایس ایس اے آئی  کی سربراہ  محترمہ  ریتا  کیوٹیا اور ایف ایس ایس اے آئی  کے  سی ای او  جناب   ارون سنگھل بھی   اس موقع پر  ڈیجیٹلی  موجود تھے۔

 

م ن۔ ش ت ۔ ج

Uno-4657



(Release ID: 1647296) Visitor Counter : 9