زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

وزارت زراعت کے ذریعے 2020-21 میں راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا کے اختراعات اور زرعی صنعت سازی جزو کے تحت اسٹارٹ اپس کو رقم کی دستیابی

پہلے سے ہی امداد یافتہ 1185.90 لاکھ روپے کی رقم والے 112 اسٹارٹ اپس کے علاوہ زراعت اور متعلقہ شعبوں میں 234 اسٹارٹ اپس کو 2485.85 لاکھ روپے کی رقم مالی امداد کے طور پر دی جائے گی

Posted On: 06 AUG 2020 4:59PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  6/اگست 2020،  مرکزی حکومت کے ذریعے زراعت کے شعبے کو اعلی ترجیح دی جاتی ہے۔ بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر تعاون دے کر کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے، اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا کے تحت ایک جزو کے طور پر اختراعات اور زرعی صنعت سازی ترقیاتی پروگرام شروع کیا گیا ہے، جس کے ذریعے  مالی مدد دستیاب کراکر اور انکیوبیشن  ایکو سسٹم کو پروان چڑھا کر، اختراعات اور زرعی صنعت سازی کو  فروغ دیا جارہا ہے۔ یہ اسٹارٹ اپس مختلف زمروں جیسے زرعی-ڈبہ بندی، مصنوعی ذہانت ، ڈیجیٹل زراعت، زرعی مشین کاری، ویسٹ ٹوویلتھ، ڈیری، ماہی پروری وغیرہ  کے ہیں۔

زراعت، امداد باہمی اور کسانوں کی فلاح وبہبود کے محکمے نے 5 نالج پارٹنرس (کے پی ) کو مرکز امتیاز کے طور پر منتخب کیا ہے۔ یہ ہیں:

(1)     نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل ایکسٹینشن مینجمنٹ (ایم اے این اے جی ای)، حیدرآباد۔

(2)     نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل مارکیٹنگ (این آئی اے ایم)، جے پور۔

(3)     انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی اے آر آئی)، پوسا، نئی دلی۔

(4)     یونیورسٹی آف ایگریکلچرسائنس، دھاروار، کرناٹک اور

(5)     آسام ایگریکلچر یونیورسٹی، جورہاٹ، آسام۔

ملک بھر میں 24 آر کے وی وائی-  رفتار ایگری بزنس انکیوبیٹرس (آر-اے بی آئیز) بھی مقرر کیے گیے ہیں۔

اس اسکیم کے اجزا درج ذیل ہیں:

*        ایگری پرینیورشپ  اورینٹیشن- دو ماہ کی مدت کے لیے 10 ہزار روپے فی ماہ وضیفے کے ساتھ۔ مالی، تکنیکی، آئی پی امور وغیرہ کے سلسلے میں منٹرشپ دسیتاب کرائی جاتی ہے۔

*        آر-اے بی آئی انکیوبیٹس کی سیڈ اسٹیج فنڈنگ- 25 لاکھ روپے تک کی فنڈنگ (85 فیصد گرانٹ اور 15 فیصد تعاون انکیوبیٹس سے)

*        ایگری پرینیورس کی آئیڈیا / پری-سیڈ اسٹیج فنڈنگ- 5 لاکھ روپے تک کی فنڈنگ (90 فیصد گرانٹ اور 10 فیصد تعاون انکیوبیٹس سے)

ادارے کے ذریعے اپنے پروگراموں کے لیے درخواست کرنے اور مختلف مراحل کے توسط سے سلیکشن کے سخت عمل کو اپنا کر اور 2 مہینے کی ٹریننگ کی بنیاد پر گرانٹ امداد کے توسط سے مالی مدد دیئے جانے والے اسٹارٹ اپس کی حتمی فہرست کو حتمی شکل دی جاتی ہے۔ تکنیکی، مالی، دانشورانہ، اثاثہ جات، قانونی عمل درآمد جیسے امور کے سلسلے میں ٹریننگ دی جاتی ہے۔ مائل اسٹون اور ٹائم لائن کی نگرانی کے توسط سے اسٹارٹ اپس کو منٹرشپ فراہم کرنا پروگرام کا حصہ ہے۔

کچھ اسٹارٹ اپس جنہیں انکیوبیٹس کیا جارہا ہے، درج ذیل حل پیش کرتے ہیں:

*        ایکٹکس اینمل ہیلتھ ٹیکنالوجیز، جسے ویٹز کے نام سے جاناجاتا ہے، ویٹنری ڈاکٹروں کا ایک نیٹ ورک ہے، جو صارفین یعنی مویشی مالکان کو ریئل ٹائم ٹیلی کنسلٹیشن اور ڈور اسٹیپ وزٹ کے ذریعے فوراً رابطے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

*        ایس این ایل انوویشنس- انو فارمس کھیت سے  صارف تک، ایک سال تک کا ذخیرہ اور استعمال کرنے کی مکمل صلاحیت کے ساتھ پھلوں اور سبزیوں کو لگدی میں تبدیل کرنے کے لیے ان- ہاؤس ڈیولپڈ مونوبلاک  فوڈ پروسیسنگ پلیٹ فارم (آن ویلس )کا استعمال کرکے  سیدھے کھیتوں میں پروسیسڈ پھلوں اور سبزیوں کی لگدی فراہم کرتا ہے۔

*        ای ایف پالیمر کے ذریعے کسانوں کے لیے پانی کی کمی کے بحران کا حل نکالنے کے مقصد سے ایک ماحولیات دوست  واٹر ریٹنشن پالیمر تیار کیا گیا ہے۔ اس اسٹارٹ اپس نے مٹی میں پانی کو جذب کرنے، اسے طویل عرصے تک برقرار رکھنے اور ضرورت کے مطابق فصلوں کو سپلائی کرنے کےلیے ڈیزائن کیا گیا ایک  سپر ابزوربینٹ پالیمر بنایا گیا ہے۔

*        جن اسٹارٹ اپس کا انتخاب کیا گیا ہے، ان میں سے کئی اسٹارٹ اپس ایسے ہیں، جن کی قیادت خواتین کررہی ہیں، جیسے کہ اے2 پی انرجی سولیوشن، جو کچڑے کے بائیوپاس کو ٹریک کرنے کےلیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتی ہے اور پھر اسے جمع کرنے کے لیے کسانوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔ ایک طرف یہ کسانوں کے لیے اضافی آمدنی کا ذریعہ ہے، تو دوسری طرف اے 2 پی جمع کیے گئے بائیو ماس کو  توانائی چھروں (انرجی پلیٹس) سبز کوئلے اور  بائیو آئل جیسے مستقبل کے عام حیاتیاتی ایندھنوں (بائیو فیولس) میں تبدیل کرتا ہے۔

*        کیاری انوویشن، انسان اور جنگلی جانداروں کے درمیان  جدوجہد کو بھارت اور بین الاقوامی سطح پر کم کرنے کے لیے کام کررہا ہے۔ انہوں نے انیمل انڈروزن ڈی ٹیکشن اینڈ ریپیلک سسٹم-اے این آئی ڈی ای آر ایس نامی ایک نیا پروڈکٹ بنایا ہے۔ یہ آلہ ایک میکنائزڈ اسکیئر کرو(کھیتوں میں چڑیوں کو بھگانے کے لیے لگایا گیا پتلہ)  کی طرح کام کرتا ہے، جو جانوروں کی دراندازی سے کھیتوں کی حفاظت کرسکتا ہے۔ 

*        ایگ اسمارٹک ٹیکنالوجیز، کے پاس درست سینچائی اور امراض کے بندوبست کے ذریعے فصل کی پیداوار کو بہتر بنانے کا ایک نظریہ ہے۔ جس میں وہ اے آئی، آئی او ٹی اور کمپیوٹر کا استعمال کرکے ایک ڈیٹا  سے متحرک اپروچ اپناتا ہے۔ان کے پروڈکٹ  کروپ لیٹکس ® ہارڈویئر اور سافٹ ویئر سولیوشن کاایک اتحاد ہے، جو سینچائی کے لیے ایک درست ماڈل بنانے کی خواطر ڈیٹا کو کارروائی کرنے کے لائق جانکاری میں تبدیل کرنے کے لیے گراؤنڈ سینسر ڈیٹا اور سیٹلائٹ امیجری کو مربوط کرتاہے۔

مذکورہ 6 اسٹارٹ اپس کے علاوہ  فارمنگ ایکوسسٹم  میں سدھار لانے اور گھریلو زرعی آمدنی کو بڑھانے کےلیے جدت طرازی پر مبنی حل کے ساتھ کئی اور اسٹارٹ اپس بھی ہیں۔

بحیثیت مجموعی، زراعت اور متعلقہ شعبوں میں کل 346 اسٹارٹ اپس کو اس مرحلے میں 3671.75 لاکھ روپے کی رقم کے ساتھ مالی مدد دی جاری ہے۔ یہ رقم قسطوں میں جاری کی جائے گی۔ ان اسٹارٹ اپس کو بھارت بھر میں پھیلے 29 ایگری بزنس انکیوبیشن سینٹرس (کے پی اینڈ آر اے بی آئی) میں دو مہینے کے لیے ٹرینڈ کیا جائے گا۔ ان اسٹارٹ اپس کے ذریعے نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ اس کے علاوہ وہ بلاواسطہ اور بالواسطہ طور پر کسانوں کے لیے مواقع فراہم کرکے آمدنی بڑھانے میں تعاون دیں گے۔

ایگری-انٹر پرینیورشپ، آرکے وی وائی کے سلسلے میں مزید معلومات کے لیے ویب سائٹ  https://rkvy.nic.inدیکھی جاسکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

U-4383

م ن۔ م م۔ ت ع۔

(07-08-2020)



(Release ID: 1644010) Visitor Counter : 43