کامرس اور صنعت کی وزارتہ

بھارت اور جاپان ایماندار سرمایہ کاروں کی طرف سے بھروسے مند شراکت کے منتظر:مرکزی وزیر پیوش گوئل

Posted On: 06 AUG 2020 3:09PM by PIB Delhi

نئی دہلی 6،اگست 2020

کامرس اور صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے کہا ہے کہ بھارت اور جاپان ایماندار اور مصدقہ سرمایہ کاروں کی طرف سے بھروسے مند شرکت داری کے بے حد منتظر ہیں اور اس جانب امید بھروں سے دیکھ رہے ہیں۔ جاپان کے سرمایہ کاروں کے لئے ویڈیو کانفرنس (ڈیجیٹل روڈ شو) کے ذریعے ’انویسٹ انڈیا ایگزیکٹو انویسٹمنٹ فورم-جاپان ایڈیشن‘ کے تیسرے ایڈیشن میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بہت اہم ہے کہ جاپان اور ہندوستان کے درمیان تجارتی اور کاروباری رشتوں میں اضافہ ہو اور یہ رشتے اور زیادہ وسیع ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ ہم کسی بھی مصیبت وپریشانی پر قابو پاسکتے ہیں اور بلا شبہ ہم کسی نہ کسی طریقے سے کامیاب ہوں گے چاہے اس کا تعلق جغرافیائی سیاسی اسٹریٹجک معاملوں سے ہو یا تجارت، معیشت اور صنعت سے ہو اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جاپان ایک سب سے اہم اور بھروسے مند شراکت دار ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ چونکہ دنیا نے کووڈ -19 کی گرفت سے چھٹکارا حاصل کیا ہے، لہٰذا بھارت سرکار نہ صرف کاروبار کے لئے کلیدی اور ایکشن پلان تیار کررہی ہے بلکہ وہ اسے پھر سے زندہ کرنے کے لئے تیاری میں ہے۔ وہ عالمی سرمایہ کاروں کا شاندار استقبال اور انہیں صدق دلی سے مدعو کرنے کے لئے بھی تیار ہے تاکہ وہ بھارت کو سرمایہ کاری کے لئے اپنی ترجیح منزل کے طور پر چن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حکومت نے اس موجودہ صورتحال کو ایک بڑے موقع میں بدلنے کے لئے زبردست کام کیا ہے تاکہ بہت سی ایسی اصلاحات کی جاسکیں جو کہ حال ہی میں رونما ہوئی ہیں۔ یہ ہماری ترقی سے جھلکتا ہے کہ ہم پچھلے پانچ سالوں میں عالمی بینک کے کاروبار کو آسان بنانے میں 65 ویں مقام سے بھی اوپر آگئے ہیں۔بھارت سرکار نے بڑی تعداد میں پالیسیاں نافذ کی ہیں اور ریاستی سرکاریں اسے کامیاب بناتا ہے۔

بھارت اور جاپان کے انتہائی مضبوط اور خوشگوار تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ دونوں ملک اقتصادی اور اسٹریٹجک شعبوں میں مشترکہ مفادات ایک دوسرے کو فراہم کراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور جاپان کے درمیان اقتصادی رشتوں میں ترقی کی کافی وسیع گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں جاپان کی دلچسپی بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں بھارت کا بڑا اور بڑھتا بازار شامل ہے۔ اپنی بڑھی آبادی اور بڑھتے ہوئے صارفین کے ساتھ بھارت جاپان کے سرمایہ کاروں کے لئے پسندیدہ مقام ہے۔ بھارت کے اندر 1400 سے زیادہ کمپنیاں کام کررہی ہیں اور ملک میں 500 تجارتی ادارے ہیں اور اب 10000 جاپانی بھائی اور بہن بھارت میں ایک تسلی بخش اور پیداواری زندگی بسر کررہے ہیں۔

جناب گوئل نے کہا کہ جاپان اور بھارت کے درمیان آٹو موبائل، کیمیکلز، صارفین اشیا، خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی صنعت سمیت مختلف سیکٹروں میں طویل عرصے سے سودمند تعلقات ہیں اور آج ڈیجیٹل دنیا ان گنت موقع فراہم کررہا ہے۔ ابھی تک ساجھیداریوں کا فوکس تکنیکی تعاون پر رہا ہے اور اب ہم بھارت کو ایک اسٹریٹجک اور سرمایہ کاری ترقی ساجھیدار کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ دونوں ملکوں نے تعاون کی بنیاد پر آپسی طور سے اتفاق کرتے ہوئے جاپانی کمپنیوں کے ساتھ معاملے اٹھانے سے بھی اتفاق ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی، اقتصادی اور اسٹریٹجک مفادات کے نتیجے میں کئی طرح کی میٹنگیں اور بات چیت ہوتی رہی ہے۔ سائنس وٹکنالوجی اور اختراع کے شعبے میں اشتراک تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

حکومت جاپان کی اقتصادی، تجارت اور صنعت کے امور کے وزیر جناب ہیروشی کاجی یاما نے اپنے بیان میں اس بات کو دوہرایا کہ ان کا ملک باہمی تعلقات کو مزید بڑھانےکا خواہشمند ہے، جبکہ اقتصادی، تجارتی اور صنعت کے نائب وزیر جناب شی گھیرو تاناکا نے بھارت –جاپان مقابلہ جاتی شراکت داری پر ایک پرزنٹیشن دیا۔ آگے کا راستہ بھی بتایا۔جے ای ٹی آر او کے چیئرمین جناب نوبوہیکو ساساکی نے بھارت میں سرگرم جاپانی کمپنیوں کے تجربے کے بارے میں بات کی۔

صنعت اور اندرونی تجارت کے محکمہ کے سکریٹری ڈاکٹر گورو پرساد مہاپاترا نے کہا کہ بھارت آسام میں 13 واں جاپانی صنعت ٹاؤن شپ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا اور اقتصادی رشتوں کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک بھر میں صنعتی علاقوں اور کلسٹرس کے جی آئی ایس والے ڈاٹا بنیاد پر کام کررہے ہیں۔

ویبینار میں سینئر سرکاری افسروں کے ذریعے نئی دلی میں ریگولیٹری ایکوسسٹم اور بھارت میں سرمایہ کاری کے مواقع اور الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی، کپڑا، آٹو موبائل، ڈبہ بند خوراک کی صنعت اور فارماسیٹیکل یعنی دوا سازی سے متعلق بنیادی ڈھانچہ فراہم کرانے سے متعلق پرزنٹیشن شامل تھیں۔

 

 

...............................................................

            م ن، ح ا، ع ر

U-4376



(Release ID: 1643995) Visitor Counter : 56