مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت

کابینہ نے شہری تارکین وطن / غریبوں کے لئے سستے کرائے والے ہاؤسنگ کمپلیکس ڈیولپ کرنے کی منظوری دی

Posted On: 08 JUL 2020 4:28PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی زیرصدارت مرکزی کابینہ نے پردھان منتری آواس یوجنا۔ شہری (پی ایم اے وائی۔ یو) کے تحت ذیلی اسکیم کے طور پر شہری تارکین وطن / غریبوں کے لئے کم کرایے والے ہاؤسنگ کمپلیکس (اے ایچ آر سی) ڈیولپ کرنے کی منظوری دے دی ہے جو اس طرح ہے۔

i۔       موجودہ خالی پڑے سرکاری مالی اعانت والے ہاؤسنگ کمپلیکس کو 25 سال کے لئے مراعات والے معاہدوں کے ذریعے اے آر ایچ سی میں تبدیل کیا جائے گا۔ مراعات یافتہ کو کمروں کی مرمت / پرانی شکل دے کر(ریٹروفٹ) اور دیکھ بھال او پانی، نکاسی، صفائی ستھرائی اور سڑک وغیرہ بنیادی ڈھانچے سے جڑی کمیوں کو دور کر کے کمپلیکسوں کو رہنے کے لائق بنانا ہو گا۔ ریاستوں کو شفاف بولی کے ذریعے مراعات یافتہ (کمپنی) کا انتخاب کرنا ہو گا۔ ان کمپلیکسوں کو پہلے کی طرح نیا چکر شروع کرنے یا خود ہی چلانے کے لئے 25 سال بعد یو ایل بی کو لوٹانا ہو گا۔

ii۔     خصوصی مراعات جیسے استعمال کی اجازت ، 50 فیصد اضافی ایف اے آر / ایف ایس آئی ، ترجیحی شعبے کے قرضے کی شرح پر مراعاتی قرض ، سستی رہائش کے مطابق ٹیکس میں چھوٹ وغیرہ۔ نجی / سرکاری اداروں کو 25 سال تک اپنی دستیاب خالی اراضی پر اے آر ایچ سی ڈیولپ کرنے کی پیش کش کی جائے گی۔

اے آر ایچ سی کے تحت مینوفیکچرنگ صنعتوں، مہمان نوازی ، صحت شعبے میں خدمات فراہم کرنے والوں، گھریلو / تجارتی اداروں اور تعمیرات یا دیگر شعبوں میں لگی ورک فورس کی ایک بڑی تعداد، مزدور ، طلباء وغیرہ جو بہتر مواقع کی تلاش میں دیہی علاقوں یا چھوٹے شہروں سے آتے ہیں وہ ہدف والے مستفدین ہوں گے۔ .

 

ٹیکنالوجی انوویشن گرانٹ کی شکل میں اس پر 600 کروڑ روپئے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو تعمیراتی منصوبوں کے لئے شناخت کی گئی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے والے پروجیکٹوں کے لئے جاری کی جائے گی۔ اے آر ایچ سی کے تحت ابتدائی طور پر تقریبا تین لاکھ مستفدین کو کور کیا جائے گا۔

اے آر ایچ سی شہری علاقوں میں نیا ماحولیاتی نظام تشکیل دیں گے جو کام کی جگہ کے قریب ہی سستے کرایے پر مکانات دستیاب کریں گے۔ توقع کی جاتی ہے کہ اے آر ایچ سی کے تحت سرمایہ کاری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اے آر ایچ سی غیر ضروری سفر ، بھیڑ بھاڑ اور آلودگی کو کم کردیں گے۔

حکومت کی مالی اعانت والے خالی پڑے ہاوسنگ اسٹاک کو معاشی طور پر نتیجہ خیز استعمال کے لئے اے آر ایچ سی میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس اسکیم سے اداروں کو ان کی اپنی خالی جگہ پر اے ایچ آر سی تیار کرنے کے لئے ایک سازگار ماحول پیدا ہوگا جس سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع میسر آئیں گے اور کرایے کے رہائش کے شعبے میں کاروبار کو فروغ ملے گا۔

پس منظر:

ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت (ایم او ایچ یو اے) نے پردھان منتری آواس یوجنا (اربن) کے تحت ذیلی اسکیم کے طور پر شہری تارکین وطن / غریبوں کے لئے ایک سستے کرایے پر ہاؤسنگ کمپلیکس (اے آر ایچ سی) شروع کی ہے۔ اس اسکیم کا اعلان وزیر خزانہ نے 14 مئی 2020 کو کیا تھا۔ یہ اسکیم 'آتم نربھربھارت' کے ویژن کو پورا کرے گی۔

کوویڈ۔ 19 وبائی بیماری کے نتیجے میں ملک میں مزدوروں / شہری غریبوں کی بڑی تعداد میں زبردست نقل مکانی ہوئی ہے جو شہری علاقوں میں روزگار کے بہتر مواقع کے حصول کے لئے دیہی علاقوں یا چھوٹے شہروں سے شہری علاقوں میں آئے تھے۔ عام طور پر ، یہ تارکین وطن کرایہ کے اخراجات کو بچانے کے لئے کچی آبادی ، غیر رسمی / غیر مجاز کالونیوں یا نیم شہری علاقوں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی کام کی جگہوں پر جانے کے لئے اپنا کافی وقت سڑکوں پر چل کر یا سائیکل چلا کر گزارا ہے اور خرچ بچانے کے لئے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالتے رہے ہیں۔

 

*************

 

م ن۔ن ا ۔م ف 

(2020-07-08)

 U: 3785



(Release ID: 1637459) Visitor Counter : 158