زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر نے زور دیا ہے کہ اسمال فارمرس ایگری بزنس کنسورشیم (ایس ایف اے سی) کا 10 ہزار فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشن (ایف پی او) کی تشکیل کی اہم ذمہ داری ہے اور ای-نیم پلیٹ فارم کو مستحکم کرنے کی بھی اہم ذمہ داری ہے

ایس ایف اے سی کی 24 ویں مینجمنٹ بورڈ اور 19 ویں سالانہ جنرل بورڈ کی میٹنگوں سے خطاب کرتے ہوئے جناب تومر نے ایک ہزار مارکیٹوں کو ای- نیم سے جوڑنے کی تعریف کی۔ 1.66 کروڑ سے زیادہ کسانوں اور 1.30 لاکھ سے زیادہ کاروباریوں نے ای-نیم کے ساتھ رجسٹریشن کرایا ہے

Posted On: 12 JUN 2020 7:44PM by PIB Delhi

زراعت اور کسانوں کی بہبود، دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 10 ہزار کسان پروڈیوسر تنظیموں (ایف پی او) کی تشکیل کے اعلان کے اہم اقدام سمیت زراعت کے شعبے میں انقلابی اصلاحات کی ہیں۔  اس اہم کام کو مکمل کرنے کی ذمہ داری اسمال فارمرس ایگری بزنس کنسورشیم (ایس ایف اے سی) کی ہے، جو موجودہ حالات میں ای-نیم پلیٹ فارم کو مستحکم کرنےکے لئے ہی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ  ایس ایف اے سی کے قیام کے بعد ادارہ جاتی اور پرائیویٹ سرمایہ کاری میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔

ایس ایف اے سی کی 24 ویں مینجمنٹ بورڈ اور 19 ویں سالانہ جنرل بورڈ کی میٹنگوں سے خطاب کرتے ہوئے جناب تومر نے دو مرحلوں میں ایک ہزار مارکیٹوں کو ای- نیم سے جوڑنےکے لئے ایس ایف اے سی ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نےمزید کہا کہ اس پلیٹ فارم کی تشکیل کے مقصد کو تسلیم کیا جانا چاہئے۔ اب تک ای-نیم پلیٹ فارم سے ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار اور لین دین ہوا ہے۔  1.66 کروڑ سے زیادہ کسانوں اور 1.30 لاکھ کاروباریوں نے ای-نیم کے قیام کے بعد سے اس میں اپنا رجسٹریشن کرایا ہے۔  جناب تومر نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ہمارے لئے یہ ایک چیلنج ہے کہ اصلاحات کے نتیجے میں شفافیت کے ساتھ پیدا وار کی فروخت میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔ کسانوں کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمتیں مل رہی ہیں اور ان کی اس پلیٹ فارم تک براہ راست رسائی حاصل ہوئی ہے۔ کسانوں نے لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران بھی بہت زیادہ جانفشانی کے ساتھ کٹائی کا کام مکمل کیا ہے اور کمائی بھی کامیابی کے ساتھ مکمل کی جارہی ہے۔ایس ایف اے سی کو اس میں کسانوں کی مدد کرنے کے لئے مبارکباد دی جانی چاہئے۔

جناب تومر نے کہا کہ اس سے پہلے ایس ایف اے سی موجودہ اسکیموں کی بنیاد پر ایف پی او تشکیل دیا کرتا تھا، لیکن آج یہ ایک خوشی کا مقام ہے کہ وزیر اعظم نے ملک بھر میں 10 ہزار ایف پی او کی تشکیل کا اعلان کیا ہے جو اس کام کو تقویت دے سکے گا۔  ایف پی او نہ صرف تشکیل دیے جانے چاہئیں بلکہ انہیں اپنے مقاصد  بھی حاصل کرنے چاہئیں۔ ان کی ذمہ داریاں اس بات کو یقینی بنانے میں اور بھی بڑھ جاتی ہیں کہ کسان گروپ میں جمع ہوں، آپس میں تبادلۂ خیال اور مذاکرہ کریں، تربیت حاصل کریں اور اپنی پیدا میں اضافہ کریں۔ اپنی فصلوں کو وسعت دیں اور جراثیم کش دواؤں کے کم  ہوتے استعمال کے  طور طریقوں پر تبادلۂ خیال کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کا ایک ہدف مکمل کیا ہے۔  کووڈ-19 کے تناظر کے باوجود زراعت کی وزارت اور  کسانو ں کی رفتار دھیمی نہیں ہوئی۔ جناب نریندر سنگھ تومر اس بات کی ستائش کی کہ  ایس ایف اے سی نے زراعت کی وزارت کے افسروں کی مدد سے کسان رتھ ایپ کا آغاز کیا ، جس نے لاک ڈاؤن کے دوران کسانوں کی پیداوار کو  ٹرانسپورٹ کے ذریعہ ملک کے تمام حصوں میں بھیجنے کے مسئلے کو کم کیا ہے۔

 

...............................................................

 

م ن، ح ا، ع ر

U-3248



(Release ID: 1631337) Visitor Counter : 10