امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت

لاک ڈاؤن کے دوران ملک بھرمیں ہر ایک فرد کو مفت غذائی اجناس کی فراہمی اور غذائی اجناس کا نقل وحمل گزشتہ ایک سال کے دوران وزارت کی سب سے بڑی حصولیابی ہے: رام ولاس پاسوان


رام ولاس پاسوان نے صارفین کے تحفظ سے متعلق ایکٹ 2019 اور ایک ملک ایک راشن کارڈ کی سمت میں ہوئی پیش رفت کو صارفین کے اُمور،خوراک اور سرکاری نظام تقسیم کی وزارت کی اہم حصولیابیاں اور اقدامات قرار دیا

Posted On: 30 MAY 2020 5:53PM by PIB Delhi

 

صارفین کے امور، خوراک اور سرکاری نظام تقسیم کے مرکزی وزیر جناب رام ولاس پاسوان نے آج اپنی وزارت کی پچھلے ایک برس کی حصولیابیوں اور اقدامات کو تفصیل کے ساتھ اجاگر کیا۔ سب سے بڑی حصولیابی  حکومت کے ذریعے لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران لوگوں کیلئے مفت غذائی اجناس کی فراہمی اور غذائی اجناس کے نقل وحمل کی سہولت یقینی کرنا رہی ہے۔

جناب پاسوان نے کہا کہ صارفین کے تحفظ سے متعلق ایکٹ 2019 کو لاگو کرنا، سی ڈبلیو سی کے ذریعے ریکارڈ ٹرن اوور حاصل کرنا ایف سی آئی کے اتھورائزڈ سرمائے کو 3500 کروڑ روپئے سے بڑھا کر 10000 کروڑ روپئے کیا جانا اور ایک ملک ایک راشن کارڈ کی سمت میں قدم اٹھایا جانا پچھلے ایک برس کے دوران وزارت کی اہم حصولیابیاں رہیں۔

غذائی اجناس کی تقسیم:

جناب پاسوان نے کہا کہ کووڈ-19 بحران کے دوران بڑھتی مانگ کو پورا کرنے کیلئے ملک میں مناسب مقدار میں غذائی اجناس کا اضافی ذخیرہ موجودہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 28 مئی 2020 تک ایف سی آئی کے پاس 272.29 لاکھ میٹرک ٹن چاول اور 479.40 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں ہے یعنی کہ کُل  751.69 لاکھ میٹرک ٹن غذائی اجناس کا  اضافی ذخیرہ موجود ہے (خریدے جارہے گیہوں اور دھان کو چھوڑ کر جو ابھی تک گودام تک نہیں پہنچے ہیں)۔

انہوں نے کہا کہ 24 مارچ 2020 کو لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد سے تقریباً 3636 ریل گاڑیوں کے ذریعے سے 101.81 لاکھ میٹرک ٹن غذائی اجناس کو اٹھانے اور اس کے نقل وحمل کاکام کیا گیا ہے۔ ریلوے کے راستے کے علاوہ سڑک اور آبی راستوں کے ذریعے سے بھی غذائی اجناس کا نقل وحمل کیا گیا۔ کُل ملاکر 213.02 میٹرک ٹن غذائی اجناس کی ڈھلائی کی گئی۔ آبی راستے سے 12 جہازوں کے ذریعے 12000 میٹرک ٹن غذائی اجناس کا نقل وحمل کیا گیا۔ کُل 10.37 لاکھ میٹرک ٹن غذائی اجناس شمال مشرقی ریاستوں میں پہنچائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایف سی آئی اور نیفیڈ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں تک غذائی اجناس پہنچانے کیلئے وسیع پیمانے پر مہم چلائی ہے۔

پردھان منتری غریب کلیان اَن یوجنا (پی ایم جی کے اے وائی) کے تحت تین مہینے تک تقسیم کیے لئے کُل 104.4 لاکھ میٹرک ٹن چاول اور 15.6 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں کی ضرورت ہے۔ جس میں سے 84.95 لاکھ میٹرک ٹن چاول اور 12.91 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعے اٹھایا جاچکا ہے۔ اس طرح 29مئی تک کُل 97.87 لاکھ میٹرک ٹن غذائی اجناس کو اٹھایا جاچکا ہے۔ علاوہ ازیں غذائی اجناس کے ساتھ ماہانہ ایک کلو گرام دال فی کنبہ سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں تین مہینے اپریل سے جون 2020 تک کی مدت کے لئے 80 کروڑ این ایف ایس اے  مستفدین کو مفت میں دی جارہی ہے۔ جناب پاسوان نے کہا کہ ان تین مہینوں کیلئے کُل 5.87 لاکھ میٹرک ٹن دالوں کی ضرورت ہے۔ اب تک 4.77 لاکھ میٹرک ٹن دالیں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پہنچ چکی ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے اپنے یہاں 29 مئی تک 1.75 لاکھ میٹرک ٹن دالوں کی تقسیم کی جاچکی ہے۔

جناب پاسوان نے کہا کہ حکومت ہند کے قومی غذائی تحفظ ایکٹ اور دیگر فلاحی اسکیموں کے تحت  ایک مہینے کیلئے  کُل 55 لاکھ میٹرک ٹن غذائی اجناس کی ضرورت ہوتی ہے۔ وزارت نے فوڈکارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اب تک نہیں اٹھائے جاسکے اناجوں کو اٹھانے کیلئے  ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو پہلے مرحلے کے اضافی وقت میں توسیع کے تحت 2020 تک کا وقت دے، جبکہ دوسرے مرحلے کی توسیع کے تحت شمال مشرقی ریاستوں کو ٹی پی ڈی ایس / این ایف ایس اے کے تحت اضافی وقت دیے جانے کی بات کہی ہے۔

او ایم ایس ایس کے تحت حکومت نے ریاستوں اورغیرسرکاری تنظیموں کوایف سی آئی کے ذریعے رعایتی شرحوں پر گیہوں چاول کی فروخت کی سہولت دیکر ان کی فروخت کو آسان بنایا۔

جناب پاسوان نے کہا کہ ریاست / مرکز کے زیرانتظام علاقے پہلے ہی آتم نربھر بھارت پیکیج کے تحت 2.06 لاکھ میٹرک ٹن غذائی اجناس اٹھانے کاکام کرچکے ہیں۔ ان غذائی اجناس کی تقسیم کاکام شروع کردیا گیا ہے اور یہ مقررہ وقت پر پورا ہوجائیگا ۔

ایک ملک ایک راشن کارڈ:

جناب پاسوان نے کہا کہ این ایف ایس اے راشن کارڈ رکھنے والے افراد کیلئے راشن کارڈ کی ملک گیر منتقلی کی سہولت کو ایک ملک ایک راشن کارڈ اسکیم کے تحت شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت کا ہدف ہے کہ جنوری 2021 تک ایک ملک ایک راشن کارڈ اسکیم کے تحت آدھار کے ساتھ راشن کارڈ کو جوڑنے کاکام صد فیصد پورا کرلیا جائے۔

پی ڈی ایس کے تحت  چاول کوتغذیہ سے بھرپور بنانے نیز اس کی تقسیم کیلئے مرکزی امداد یافتہ پائلٹ اسکیم کی جانکاری دیتے ہوئے جناب پاسوان نے بتایا کہ اس یوجنا کے کُل بجٹ اخراجات کو پہلے کے 147.61کروڑ روپئے سے بڑھا کر 174.64 کروڑ روپئے کردیا گیا ہے۔ یہ پائلٹ اسکیم فی ریاست ایک ضلع کے ساتھ 15 ضلعوں پر مرکوز رہے گی۔  

فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) کے مجاز سرمائے میں اضافہ

جناب پاسوان نے بتایا کہ اقتصادی اُمور سے متعلق کابینہ کمیٹی (سی سی ای اے) نے 2دسمبر 2019 کو منعقدہ اپنی میٹنگ میں ایف سی آئی کے مجاز سرمایہ کو 3500 کروڑ روپئے سے بڑھا کر 10000کروڑ روپئے کرنے کی تجویز کو منظوری دی تھی۔

سینٹرل ویئر ہاؤسنگ کارپوریشن (سی ڈبلیو سی) نے ریکارڈ لین دین کیا

مرکزی وزیر نے کہا کہ سینٹرل ویئر ہاؤسنگ کارپوریشن (سی ڈبلیو سی) نے 20-2019 کے دوران تقریباً 1710 کروڑ روپئے کا ریکارڈ لین دین کیا۔ حکومت ہند کو 64.98 کروڑ روپئے کے کُل منافع میں سے 35.77 کروڑ روپئے حاصل ہوئے ہیں۔

شوگر ترقیاتی فنڈ

جناب پاسوان نے کہا کہ یکم اپریل 2019 سے 31 مارچ 2020 کے دوران 15 چینی کارخانوں کیلئے 12505.34 لاکھ روپئے کے فنڈز منظور کیے گئے جبکہ 18858.91لاکھ روپئے کے قرض تقسیم کیے گئے۔ چینی کارخانوں کے ذریعے شوگر ترقیاتی فنڈ کے تحت فراہم کردہ مختلف قرضوں کا فائدہ اٹھانے کیلئے درخواست آن لائن طریقے سے جمع کرنے کیلئے 28 اکتوبر 2019 سے ایک ویب پورٹل بھی شروع کیاجاچکا ہے۔

اضافی چینی ،ایتھانول کے لئے جاری کیاجانا

وزیر موصوف نے بتایا کہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ایتھائیل الکحل کی بڑھتی مانگ کو پورا کرنے کیلئے سرکار نے موجودہ ایتھانول سپلائی برس 20-2019 (دسمبر 2019 تا نومبر 2020) کے لئے چینی اور چینی سیرپ سے ایتھانول کی پیداوار کرنے کی اجازت دی ہے۔

کووڈ-19 کامقابلہ کرنے  کیلئے ہینڈ سینیٹائزر کی پیداوار

جناب پاسوان نے کہا کہ 165ڈسٹلری اور 962 خود مختار مینوفیکچرر کو ملک بھر میں ہینڈ سینیٹائزر بنانے کا لائسنس دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 8720262 لیٹر ہینڈ سینٹیائزر (11 مئی 2020 تک) کی پیداوار ہوئی ہے۔

فیس ماسک اور ہینڈ سینیٹائزر کی مینوفیکچرنگ

جناب پاسوان نے کہا کہ کووڈ-19 کے پیش نظر بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (پی آئی ایس) نے ایف ایف پی-2 ماسک کے مینوفیکچرر کو آئی ایس 9473:2002(جو تکنیکی اعتبار سے این 95 ماسک کے برابر ہے) کے مطابق لائسنس کی اجازت دی۔ لائسنس حاصل کرنے کیلئے ضروری جانچ اپنے یہاں ہی کرانے کی  انہیں چھوٹ دی گئی ہے۔

نیشنل شوگر انسٹی ٹیوٹ کے لئے پیٹنٹ

مرکزی وزیر نے کہا کہ کم سلفر والی چینی حاصل کرنے کیلئے گنے کے رس سے چینی بنانے کے نئے طریقہ کار کیلئے نیشنل شوگر انسٹی ٹیوٹ (این ایس آئی) کانپور کو پیٹنٹ عطا کیا گیا ہے۔

صارفین کے تحفظ سے متعلق بل 2019

صارفین کے تحفظ سے متعلق بل 2019 لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ذریعے بالترتیب 30 جولائی 2019 اور 6اگست 2019 کو پاس کیاگیا۔ صدر جمہوریہ کی منظوری ملنے کے بعد اسے 9 اگست 2019 کو سرکاری گزٹ میں شائع کردیاگیا۔

قانون ناپ تول (قومی معیارات) قوانین 2011

لیگل میٹرالوجی (نیشنل اسٹینڈرز) قوانین 2011 میں بین الاقوامی وزن اور پیمائش (بی آئی پی ایم) کی تعریف کے مطابق بین الاقوامی اکائیوں کے نظام (ایس آئی اکائیوں) کی نئی تعریفات کو شامل کرنے کیلئے 5 جولائی 2019 کو نظرثانی کی گئی تھی۔

ہال مارکنگ

جناب پاسوان نے بتایا کہ 15 جنوری 2020 کو نوٹیفکیشن جاری کرکے ملک میں سونے کے زیورات اور مصنوعی زیورات کیلئے ہال مارکنگ کو لازمی قرار دیا گیا اور اس قانون کو لاگو کرنے کیلئے ایک سال کا وقت دیا گیا۔

قومی لیباریٹری ڈائرکٹری

جناب پاسوان نے میڈیا کو یہ بھی بتایا کہ قومی لیباریٹری ڈائرکٹری کو بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈس کے ذریعے لانچ کیا گیا ہے جس میں مقام اور پیداوار وارجانچ کی سہولت کے ساتھ 4000 سے زیادہ لیباریٹریوں کے ڈیٹا شامل کیے گئے ہیں۔

 

 

-----------------------

 

م ن۔م ع۔ ع ن

U NO:2914

 

 

 



(Release ID: 1628176) Visitor Counter : 182