بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت

شمسی توانائی کے شعبے میں زیادہ توانائی والے شعبوں کے لئے وسیع امکانات موجود ہیں: نتن گڈکری

Posted On: 23 MAY 2020 7:53PM by PIB Delhi

نئی دلّی ،24 مئی / ایم ایس ایم ای اور سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں کے مرکزی وزیر  جناب نتن گڈکری نے آج  مہا سولر سنگٹھن  کے ارکان کے ساتھ  شمسی توانائی کے شعبے میں  مواقع سمجھنے کے لئے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے  میٹنگ کی ۔

          وزیر موصوف نے شمسی توانائی کی اہمیت  کو اجاگر کیا  اور کہا کہ اس سیکٹر میں  وسیع امکانات موجود ہیں اور یہ  بجلی کی لاگت میں  بڑی حد تک کمی کرنے میں مدد کر سکتا ہے ۔   انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ زراعت  ، ویئر ہاؤسنگ وغیرہ جیسے  شعبوں میں توانائی کے زیادہ استعمال  کی ضرورت ہے اور اس کے لئے شمسی توانائی کامناسب طریقے سے تجارتی استعمال  کیا جا سکتا ہے ، جیسے آبپاشی کے لئے   شمسی پمپ ، کولڈ اسٹوریج کے لئے شمسی بجلی لاگت میں بڑی حد تک کمی کر سکتی ہے ۔

          مرکزی وزیر نے  برآمدات کو بڑھانے  کے ساتھ ساتھ  گھریلو پیداوار  بڑھا کر  درآمدات کو  کم کرنے پر زور دیا ۔  انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ  بھارت اب بھی  توانائی والے شمسی پینل  درآمد کرتا ہے   اور انہوں نے   پینل بنانے والوں پر زور دیا کہ وہ   بھارت میں ہی مصنوعات  بناکر میک اِن انڈیا مشن میں مدد کریں ۔ 

          وزیر موصوف نے  کہا کہ موجودہ اقتصادی  عدم استحکام سے نمٹنے کے لئے  ایم ایس ایم ای کو فروغ  دینے کی خاطر  حکومت نے  خصوصی اقتصادی پیکیج کے تحت  کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے ۔  جیسے ، ضمانت کے بغیر خودکار قرض  سمیت آتم نربھر بھارت ابھیان    ، جس کے ذریعے   ایم ایس ایم ای  اضافہ ضمانت  فراہم کئے بغیر  20 فی صد تک  ورکنگ کیپٹل میں اضافہ کر سکتا ہے ۔ 

          جناب گڈکری نے صنعتی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ  کچھ نئے ، اختراعی  اور  اقتصادی طور پر مفید  کاروباری ماڈل  پیش کریں  ، جن میں  زراعت، ویئر ہاؤسنگ وغیرہ جیسے مختلف شعبوں میں  کم خرچ اور پائیدار توانائی  کی فراہمی کے لئے  نافذ کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف مختلف شعبوں میں  توانائی کی لاگت میں کمی آئے گی بلکہ یہ  میک اِن انڈیا پہل کو بھی  فروغ دے گا ۔

          انہوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ صنعت کو  علم کو دولت میں  تبدیل کرنے کے لئے اختراعات  ، صنعت کاری  ، سائنس اور ٹیکنا لوجی  ، ریسرچ  اور تجربات  پر  توجہ مرکوز کرنی چاہیئے ۔

          وزیر موصوف نے یاد دلایا کہ جاپان کی حکومت نے چین سے   جاپانی سرمایہ کاری واپس لینے کے لئے اپنی صنعتوں کو خصوصی پیکیج  کی پیشکش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ  بھارت کے لئے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری  کو راغب کرنے کا ایک اچھا موقع   ہو سکتا ہے ۔

          کچھ سوالات اور  دیئے گئے مشوروں میں   ،  سی ایل سی ایس ایس  اسکیم کے تحت  سولر پی وی   کو  ٹیکنا لوجی کی فہرست میں شامل کرنا   ، ایم ایس ایم ای کی نئی تشریح  میں  لین دین کی حد  پر نظر ثانی  ، مینو فیکچرنگ اور درآمدات میں کمی  کی حوصلہ افزائی کے لئے ایم ایس ایم ای  کی بر آمدات پر سببسڈی  شامل ہیں ۔

          جناب گڈکری نے  نمائندوں کے سوالوں  کا جواب دیا اور انہیں حکومت کی طرف سے ہر ممکن مدد کا یقین دلایا ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( م ن ۔ و ا ۔ ع ا ) (24-05-2020)

U. No.  2765

 



(Release ID: 1626534) Visitor Counter : 80