وزارات ثقافت

بھارت کو قابل تجدید توانائی میں 30 گنا اضافے ، جوہری توانائی میں 30 گنا اضافے اور تھرمل انرجی کو دوگنا کرنے کی ضرورت ہے ، جس سے 70 فیصد توانائی کاربن سے پاک ہوگی: ڈاکٹر انل کاکوڈکر


ممالک کو اپنے ایچ ڈی آئی سطح کی بنیاد پر کاربن شدت میں کمی لانے کی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے: سابق چیئرمین ، ایٹمی توانائی کمیشن

Posted On: 12 MAY 2020 9:44AM by PIB Delhi

سال 1998 کے پوکھرن جوہری تجربات کی سالگرہ پر منائے جانے والے قومی ٹیکنالوجی دن کے موقع پرایٹمی توانائی کمیشن کے سابق چیئرمین اور راجیو گاندھی سائنس اینڈ ٹکنالوجی کمیشن کے چئیرمین پدم وبھوشن ڈاکٹر انیل کاکوڈکر نے آب و ہوا کے بحران کے تناظر میں توانائی کی ضروریات سے نمٹنے کے بارے میں بھارت کے عوام کے لئے پیغام دیا ہے۔

انہوں نے نہرو سائنس سنٹر ، ممبئی کے زیر اہتمام منعقدہ اپنے آن لائن لاک ڈاؤن لیکچر میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہندوستان کی پیشرفت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ، 'قومی ٹیکنالوجی کا دن 22 سال قبل ہونے والے ایٹمی تجربے کی یاد میں منایا جاتا ہے ، جس سے ہمیں قومی سلامتی ملی'۔ اس کے بعد ہندوستان نے پرامن مقاصد کے لئے جوہری تجارت کو فروغ دینے کے لئے مختلف ممالک کے ساتھ متعدد بین الاقوامی معاہدے کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خیال ایٹمی توانائی کے ذریعے توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

اپنی پیش کش میں انہوں نے پوری دنیا میں ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس (ایچ ڈی آئی) اور فی کس توانائی کی کھپت کے مابین ارتباط کے بارے میں وضاحت کی۔ اعدادوشمار کے مطابق ، اعلی ایچ ڈی آئی والے ممالک جہاں شہری اعلی معیار زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں ، ان میں فی کس توانائی کی کھپت زیادہ ہوتی ہے۔

تاہم بڑھتے ہوئے آب و ہوا کے مسائل کے ساتھ ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک کو اس چیلنج کا سامنا ہے جہاں ہم ایک طرف توانائی کی حفاظت اور دوسری طرف آب و ہوا کے تحفظ کے مابین پھنس گئے ہیں۔ "وقت کی ضرورت ہے کہ انسانی زندگی کے معیار کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ آب و ہوا کے بحران پر قابو پانے کے درمیان ایک توازن قائم کیا جائے‘‘۔

دنیا بھر کے محققین آب و ہوا میں ہونے والی تبدیلی کے بارے میں مطالعہ کر رہے ہیں کہ کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج کو کیسے کنٹرول کیا جائے جو ماحولیات کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق بین سرکاری پینل کی رپورٹ کے مطابق ، "2،100 میں 1.5 ڈگری اضافے سے کم رہنے کے لئے 2030 تک گرین ہاؤس گیس (جی ایچ جی) کے اخراج میں 2010 کی سطح سے 45 فیصد کمی اور 2050 تک صفر کی کٹوتی درکار ہو گی"۔ جس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس دنیا بھر کے دیگر ملکوں کی ترقی کی امنگوں کو یقینی بناتے ہوئے کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج میں کٹوتی کرنے میں صرف 10 سال باقی ہیں۔

اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے دنیا کو دستیاب، تیزی سے لاگو کئے جانے کے لائق ٹیکنالوجیوں کو فائدہ اٹھاتے ہوئے قدم اٹھانے ہوں گے۔ اسی موقع پر جوہری توانائی کی ضرورت پیدا ہوتی ہے جو ’ صفر اخراج‘ کے ہدف کو آسانی سے حاصل کر سکتی ہے۔ نیوکلیائی توانائی کے تعاون سے ڈی کاربنائزیشن کی لاگت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ڈی کاربنائزنگ کا مطلب کاربن کی شدت میں کمی لانا ہے جس کا مطلب فی اکائی پیدا کی گئی بجلی میں اخراج میں کمی لانا ہے۔( اکثر فی کلو واٹ۔ آور کاربن ڈائی آکسائڈ گرام میں دی جاتی ہے)۔

صنعتوں / تجارتی شعبوں کی طرف سے بجلی کی طلب زیادہ ہونے کی وجہ سے ملک میں توانائی کی پیداوار کا ڈی کاربنائزیشن یا کاربن کی شدت میں کمی لانا ضروری ہے۔ کم کاربن والے توانائی کے ذرائع ، خاص طور پر شمسی، ہائیڈور اور نیوکلئیر کے ساتھ بایوماس جیسی قابل تجدید توانائی کی حصے داری بڑھا کر صرف اخراج کے ہدف کو کافی حد تک حاصل کرنے میں بڑا تعاون دے سکتے ہیں۔

 

کارروائی کی ضرورت:

مختلف ملکوں کے ذریعہ توانائی اہلیت کے شعبے میں سرگرم کوشش کئے جانے کے باوجود کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج پچھلے سالوں کے مقابلے میں ابھی تک زیادہ بنا ہوا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس پر قابو پانے کے لئے ہمیں بہتر منصوبے بنانے کی ضرورت ہے۔

کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج کو قابو میں کرنے کے لئے مختلف ملکوں کے ذریعہ اپنے ایچ ڈی آئی کی بنیاد پر کھپت کی حکمت عملی کی مختلف سطحوں پر غور کیا جانا چاہئے۔ مثال کے طور پر ، وہ ممالک جو ہائی ہیومین ڈویلپمنٹ انڈیکس والے ہیں ، ان کو اپنی توانائی کی کھپت کو کم کرنا چاہئے کیونکہ یہ ان کے ایچ ڈی آئی کو زیادہ متاثر نہیں کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں اپنی بجلی کی پیداوار میں کاربن کی شدت میں کمی لانی چاہئے۔ اس کے علاوہ معتدل ایچ ڈی آئی والے ممالک کو غیر ایندھن والی بجلی کی کھپت پر توجہ دینی چاہئے جبکہ کم ایچ ڈی آئی والے ممالک کو اپنے شہریوں کو صاف ستھری توانائی کے سستے ذرائع مہیا کرنے میں اہل ہونا چاہئے۔ اس طرح ہر ملک کاربن ڈائی آکسائڈ کے کم / صفر اخراج کی سمت میں سرگرم تعاون دے سکتا ہے۔

 

جاپان ایک ایسا ملک ہے جس نے ایٹمی توانائی کے منفی اثرات کے زخم کو جھیلا ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ہوئے ظالمانہ جوہری بم حملوں نے نیوکلیائی توانائی کے سلسلہ میں دنیا بھر کی حساسیت کو بڑھا دیا۔ لیکن اس کے باوجود اس ملک نے 2030 تک کاربن ڈائی آکسائڈ میں کمی لانے کے لئے اپنی کل توانائی کھپت کا بیس فیصد سے 22 فیصد ایٹمی توانائی سے توانائی منصوبے کا مسودہ تیار کیا ہے۔ جرمنی اور جاپان جیسے ممالک پہلے سے ہی بالترتیب 2020 اور 2030 تک جی ایچ جی کے اخراج میں کمی لانے کا ارادہ کر رہے ہیں جنہوں نے قابل تجدید توانائی کی پیداوار پر بہت بڑی رقم مختص کی ہے۔

بھارت جیسے ملک کے لئے توانائی کی کھپت میں کاربن کی شدت میں کمی لانے کے لئے ہمیں قابل تجدید توانائی میں 30 گنا اضافے ، جوہری توانائی میں 30 گنا اضافے اور تھرمل انرجی کو دوگنا کرنے کی ضرورت ہے جس سے 70 فیصد توانائی کاربن سے پاک ہو گی۔

بھارتی جواہری توانائی ایک نظر میں:

 

ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اس وقت 49180 ایم ڈبلیو ای کی صلاحیت کے ساتھ 66 اکائیاں(جن میں منصوبے چل رہے ہیں ، منصوبہ بندی کے تحت ، زیر تعمیر اور منظور شدہ)۔ ہیں۔

جوہری فضلہ:

اس وقت سب سے بڑی تشویش اس بات کو لے کر ہے کہ توانائی پیدا کرنے کے دوران پیدا ہونے والے جوہری فضلے کو کیسے مینیج کیا جائے۔ ڈاکٹر کاکوڈکر نے بتایا کہ ہندوستان ‘نیوکلیئر ری سائیکل ٹیکنالوجی’ کی پالیسی اپناتا ہے – جس کے تحت توانائی کی پیدوار کے لئے ایک بار استعمال کئے جا چکے یورینیم، پلوٹونیم وغیرہ جیسے نیوکلیائی ایندھن کو تجارتی صنعتوں کے ذریعہ وسائل کے مواد کے طور پر دوبارہ استعمال کرنے کے لئے ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ 99 فیصد سے زیادہ جوہری فضلہ دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ ہندوستان میں فضلہ مینجمنٹ پروگرام ری سائیکلنگ کو ترجیح دیتا ہے۔

*************

Follow us on social media: @PIBMumbai   Image result for facebook icon /PIBMumbai    /pibmumbai  pibmumbai[at]gmail[dot]com

م ن۔ن ا ۔م ف 

 (12-05-2020)

U: 2475



(Release ID: 1623464) Visitor Counter : 429