وزارتِ تعلیم

آئی آئی ٹی ممبئی کے طالب علم کی رہنمائی میں ٹیم نے کم لاگت والا میکینکل وینٹی لیٹر روحدار تیار کیا

اِس کا ڈیزائن، ڈایزائن انوویشن سنٹر آئی یو ایس ٹی، پلوامہ میں تیار کیا گیا ہے

Posted On: 26 APR 2020 2:05PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 26اپریل2020،حکومت نے کہا ہے کہ کووڈ-19 چھوت کا زور اب کم ہونے لگا ہے اور یہ وبائی مرض اب کنٹرول میں ہے۔ وزارت صحت کے مطابق اس چھوت سے متاثر ہونے والے افراد میں سے تقریبا 80 فیصد افراد کو معمولی طور پر اس مرض کے اثرات لاحق ہوں گے اور انہیں آکسیجن درکار ہوگی اور بقیہ 5 فیصد جنہیں شدید یا یا سنگین طو رپر یہ مرض لاحق ہوگا، اُنہیں وینٹی لیٹر درکار ہوں گے۔

لہذا وینٹی لیٹر  اُس بنیادی طبی ڈھانچے کا ایک اہم عنصر ہیں، جنہیں چھوت سے متاثرہ مریضوں کے علاج، سانس لینے میں تکلیف کے دوران سانس کی بحالی کے لئے  بروئے کار لایا جاتاہے۔

اس حقیقت کے پیش نظر حکومت دو رُخی طریقہ کار اپناتی آئی ہے یعنی اُس نے گھریلو پیمانے پر بھی اپنی مینوفیکچرنگ صلاحیت میں اضافہ کیا ہےا ور دنیا بھر سے بھی طبی سازوسامان حاصل کرنے میں کوشاں ہے۔25؍اپریل 2020 کو وزرا کے گروپ کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی تھی، جن میں بتایا گیا تھا کہ وینٹی لیٹروں کی تیاری کاکام گھریلو مینوفیکچررحضرات نے بھی شروع کر دیا ہے اور 9 مینوفیکچرر کے ذریعے 59 ہزار سے زائد اکائیاں تیار کرنے کے سلسلے میں آرڈر پہلے دیئے جا چکے ہیں۔

اسی پس منظر میں یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ بھارت کی خلاقانہ اورموجدانا جستجو حسب معمول کارفرما ہے اور اس بحرانی صورتحال میں بھی اس کے اچھے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ سی ایس آئی آر اور اس کی 30سےزائد تجربہ گاہوں سمیت پوری سائنٹفک برادری اور آئی آئی ٹی جیسے ادارے اور نجی شعبے کے دیگر ادارے نیز سول سوسائٹی کے اراکین اپنی جانب سے مختلف النوع تجاویز کے ساتھ سامنے آئے ہیں، جو کسی نہ کسی طرح سے اس وبائی مرض کے خلاف جدوجہد میں اپنا تعاون دے رہے ہیں۔

آئی آئی ٹی ممبئی کے انجنئرنگ شعبے کے طلبا کی ایک ٹیم ، این آئی ٹی سرینگر اور اسلامک یونیورسٹی  آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (آئی یو ایس ٹی)، اونتھی پورہ، پلوامہ، جموں و کشمیر ایسے ہی خلاقانہ صلاحیتوں پر مشتمل ایک گروپ ہے، جو  وینٹی لیٹر کی ضروریات کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے آگے آیا ہے۔ اس ٹیم نے مقامی طور پر دستیاب سازوسامان کا استعمال کرکے ایک کم لاگت والا وینٹی لیٹر تیار کیا ہے۔

یہاں روحدار وینٹی لیٹر کی تفصیلات پیش ہیں، جیسا کہ ٹیم نے اسے نام دیا ہے۔ اس پروجیکٹ کے سربراہ ذوالقرنین انڈسٹریئل ڈیزائن سنٹر آئی آئی ٹی ممبئی کے سال اول کے طالب علم ہیں، جو کشمیر میں واقع اپنے آبائی وطن گئے تھے، جب اس وبائی مرض کے نتیجے میں یہ ادارہ بند ہو گیا تھا۔ جیسے جیسے یہ مرض بڑھتا گیا، اس کی بنیادی صورتحال سے آگہی حاصل کرنے کے بعد وہ یہ سمجھ گئے کہ وادی کشمیر میں محض 97 وینٹی ہیں۔ انہوں نے محسوس کیا کہ وینٹی لیٹروں کی موجودگی بہت ضروری ہے اور ان کی قلت ہے اور یہ سبھی کے لئے باعث تشویش موضوع بن گیا ہے۔ لہذا ذولقرنین نے آئی یو ایس ٹی اونتی پورہ کے اپنے دوستوں یعنی  پی ایس شعیب، آصف شاہ اور شاکر نہوی اور این آئی ٹی سرینگر کے ماجد کول سے رابطہ قائم کیا۔ آئی یو ایس ٹی میں واقع ڈیزائن انوویشن مرکز سے مدد لے کر ٹیم نے مقامی طور پر دستیاب سازوسامان کی مدد سے کم لاگت والا  وینٹی لیٹر تیار کر لیا۔ ابتدا میں ان کا مقصد یہ تھا کہ ایک آزمودہ ڈیزائن کی ہو بہو نقل تیار کی جائے ۔ تاہم  انہوں نے اپنے طور پر وینٹی لیٹر کا ایک ڈیزائن تیار کر لیا۔

ذوالقرنین کا کہنا ہے کہ اس پروٹوٹائپ کی تیاری میں ٹیم کو 10ہزار روپے صرف کرنے پڑے۔ تاہم یہ لاگت زیادہ تعداد میں وینٹی لیٹر تیار کرنے پر کافی کم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں استعمال ہونے والے وینٹی لیٹروں کی لاگت لاکھوں روپے میں ہوتی ہے۔ روحدار تمام تر ضروری تقاضوں سے آراستہ ہے اور شدید طور پر کووڈ-19 کے چھوت سے لاحق مریض کو وافر انداز میں لانس لینے کی سہولت فراہم کر سکتا ہے۔

اگلے اقدامات کے بارے میں بتاتے ہوئے ذوالقرنین نے کہا کہ اب یہ ٹیم اس پروٹوٹائپ یعنی نمونے کی جانچ کے لئے آگے قدم بڑھائے گی۔ ایک مرتبہ جب اسے منظوری مل جائے گی، تو اس کے بڑے پیمانے پر تیار کا کام شروع ہوگا۔ کوشش یہ ہے کہ چھوٹے پیمانے کی صنعتیں اسے تیار کرنے کے لائق بن سکیں۔ یہ ٹیم اس پروڈکٹ کے لئے کوئی رائلٹی نہیں طلب کرے گی۔

ذوالقرنین نے کہا کہ ٹیم کودرپیش سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی قلت کا تھا۔ ٹیم نے مساچُوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، امریکہ کے ذریعے وضع کردہ ایک ڈیزائن پر بھی کام کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیم نے اپنا ڈیزائن تیارکیا۔ یہ ڈیزائن ایڈوانسڈ سافٹ ویئر کے استعمال سے وضع کی گئی ہےا ور پوری ٹیم اس کے نتائج سے مطمئن ہے۔

آئی یو ایس ٹی سے فارغ التحصیل اور سِمکور ٹیکنالوجیز کے سی ای او آصف کا کہنا ہے کہ روایتی وینٹی لیٹروں کے مقابلے میں ایک کم لاگت والا متبادل وینٹی لیٹر وضع کرنا مقصد تھا۔ یہ ٹیم ٹائڈل وائلیوم، فی منٹ عمل تنفس وغیر کے سلسلے میں بنیادی تقاضوں پر قابو حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

آئی یو ایس ٹی کے میکینکل انجینئرنگ شعبے کے پروفیسر ڈاکٹر ماجد ایچ کول کا کہنا ہے کہ کم لاگت والا مذکورہ وینٹی لیٹر ڈی آئی سی کے تحت دستیاب عناصر کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ سنٹر انسانی وسائل کی ترقی اور فروغ کی وزارت، حکومت ہند کی ایک پہل قدمی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

U- 2070

 



(Release ID: 1618622) Visitor Counter : 53