ا قتصادی امور کی کابینہ کمیٹی
ریاست ہماچل پردیش، راجستھان، اترپردیش اور آندھراپردیش میں 780 کلومیٹر سے زائد طویل مختلف شاہراہوں کی بازآبادکاری اور اَپ گریڈیشن کو کابینہ کی منظوری
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 MAR 2020 5:01PM by PIB Delhi
نئی دہلی ، 13 مارچ۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں اقتصادی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی نے ریاست ہماچل پردیش، راجستھان، اترپردیش اور آندھراپردیش میں 780 کلومیٹر سے زائد قومی شاہراہوں کی مختلف پٹیوں کی بازآبادکاری اور 2 لین / فٹ پاتھ کے ساتھ 2 لین / 4 لین (2 لین /سنگل / انٹرمیڈیٹ لین) کا اَپ گریڈیشن اور استحکام کو اپنی منظوری دے دی ہے۔
پروجیکٹ میں 7662.47 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری ہونی ہے جس میں قرض کا عنصر 3500 کروڑ روپئے (500 ملین امریکی ڈالر) شامل ہیں۔ عالمی بینک سے حاصل کیا جانا والا قرض گرین نیشنل ہائی ویز کاریڈور پروجیکٹ (جی این ایچ سی پی) کے تحت ہوگا۔ پروجیکٹ میں ان قومی شاہراہوں کی پٹیوں کا 5 سال (لچکدار بغلی راستے کے معاملے میں) / 10 سال (سخت بغلی راہداری کے معاملے میں) تعمیر کی تکمیل کے بعد ان کی رکھ رکھاؤ بھی شامل ہے۔
پروجیکٹ میں درج ذیل 4 عناصر شامل ہیں:
- قومی شاہراہوں کی پائیدار ترقی اور رکھ رکھاؤ
- ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ
- روڈ سیفٹی اور
- تحقیق و ترقی
ان شاہراہوں کی تعمیر کے علاوہ پروجیکٹ میں کاموں کے معیار کے جائزے کے لئے خام مال کی جانچ کی غرض سے آئی اے ایچ ای (انڈین اکیڈمی آف ہائی وے انجینئرس) میں شاہراہ / بریج انجینئرنگ لیب کا استحکام اور آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات، ڈیزائن، عمل درآمد اور آپریشن رکھ رکھاؤ کے مرحلے میں سیفٹی آڈٹ کے ذریعے روڈ سیفٹی کو بڑھانے اور متعلقہ موضوعات پر کریش جانچ اور تحقیق و ترقی سے متعلق مطالعات کے لئے سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف روڈ ٹرانسپورٹ (سی آئی آر ٹی)، پونے کی صلاحیت سازی وغیرہ شامل ہوں گے۔
- موضوعات میں مٹی اور بغلی راستے کی پٹیوں کا استحکام
- سڑک کے دامن میں کارخانوں کی راکھ اور ڈھانچوں کی تخریبات (ڈسٹرکشن) وغیرہ سے متعلق باقیات وغیرہ کا استعمال
- سڑکوں پر پچ بچھانے کے کاموں میں فاضل پلاسٹک اور تبدیل شدہ اشیاء کا استعمال
- شجر کاری اور
- بایو انجینئرنگ حل کو بروئے کار لاکر ڈھلان کا تحفظ
فوائد:
خطے کی سماجی اور معاشی ضرورتوں پر غور کرنے کے بعد سبک روی اور موٹر گاڑیوں کے چلنے کے قابل سڑکیں فراہم کرانے کی ضرورت کی بنیاد پر پروجیکٹوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ قومی شاہراہوں کی بازآبادکاری اور اَپ گریڈیشن میں مین اسٹریم خطے کے ساتھ مقامی آبادی کو جوڑنے کے لئے ضروری اور پیداوار کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے لئے دستیاب کلیدی بنیادی ڈھانچے خطے کی مقامی سطح پر پیداوار کی نوعیت اور مقدار جیسے ظاہری اسباب پر غور کیا گیا ہے۔ ان شاہراہوں کی پٹیوں کے کاموں کی تکمیل کے بعد موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت میں صرف ہونے والے وقت میں کمی آئے گی۔ اس سے یہاں کے لوگوں کے قیمتی وقت بھی بچیں گے۔ لوگوں کی اہلیت میں معقول حد تک اضافہ ہوگا۔ دوسرے موٹر گاڑیوں کی سبک آمد و رفت کی وجہ سے موٹر گاڑیوں کی تیز رفتار آمد و رفت کی وجہ سے سڑکیں محفوظ رہیں گی اور اس کے نتیجے میں ایندھن کی کھپت بھی بچے گی۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ شاہراہوں کی منتخب پٹیاں صنعتی علاقوں، مالامال زرعی پٹی، سیاحتی مقامات، مذہبی مقامات اور ایسے علاقوں سے گزریں گی جو ترقی اور آمدنی کے اعتبار سے پسماندہ ہیں۔ اس پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد کنیکٹیوٹی بہتر ہوگی، جس سے ریاستوں کے لئے مزید مالیہ کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی آبادی کی آمدنی میں اضافہ کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
پروجیکٹ کی پٹیوں کے لئے تعمیر کی مدت 3/2 سال ہوگی اور لچکدار بغلی راہداری والی سڑکوں کے لئے رکھ رکھاؤ کی مدت 5 سال جبکہ سخت راہداری والی سڑکوں کے لئے یہ مدت 10 سال ہوگی۔ (ایک پٹی تو صرف ریاست راجستھان میں ہی ہے)۔
یہ پروجیکٹ سبز احاطے، سڑکیں بچھانے میں دوبارہ استعمال ہونے والے سامان کے استعمال کی شکل میں گرین ہائی وے پروجیکٹوں کے لئے نئے معیارات وضع کرے گا۔
****
( م ن ۔ ش س۔ م ر)
U- 1220
(ریلیز آئی ڈی: 1606397)
وزیٹر کاؤنٹر : 152