ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت

ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت کااختتامی سال کا جائزہ-2019

ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت نے تال میل ، اضافہ شدہ نشانے ، خواہشات کو پورا کرنے اور بہتر معیار پر زور دیتے ہوئے کئی اقدامات کیے

Posted On: 19 DEC 2019 12:35PM by PIB Delhi

نئی  دہلی۔19؍دسمبر۔ہنرمندی کی ترقی اور صنعتکاری کی وزارت ملک بھر میں ہنرمندی کی ترقی کی تمام کوششوں میں تال میل ، ہنرمند افرادی قوت کی مانگ اور  سپلائی کے درمیان  رابطے کی کمی کو دور کرنے، پیشہ ورانہ  اور  تکنیکی تربیت کا فریم ورک تیار کرنے  ، ہنرمندی کو بہتر بنانے ، نئی ہنرمندی تیا رکرنے اور  موجودہ روزگار کے ساتھ ساتھ  آئندہ تشکیل کیے جانے والے روزگاروں کے سلسلے میں بھی  اختراعی  خیالات  کے لئے ذمہ دار ہے۔ وزارت کا مقصد  ایک  ’اسکلڈ انڈیا‘ کے ویژن کو پورا کرنے کیلئے  تیز رفتا راور اعلیٰ معیار کے ساتھ  بڑے پیمانے پر  لوگوں کو ہنرمند بنانا ہے۔

وزارت کے ویژن اسٹیٹ منٹ میں کہا گیا ہے کہ  ’’اس کا مقصد تیز رفتار اور اعلیٰ معیار کے ساتھ بڑے پیمانے پر لوگوں کو ہنرمند بناتے ہوئے تفویض اختیارات کا ایکو سسٹم  تیار کرنا ہے اور  اختراع پر مبنی صنعت کاری  کے ایک کلچر کو فروغ دینا ہے جس سے کہ آمدنی اور روزگار پیدا ہو تاکہ ملک کے تمام شہریوں کیلئے  پائیدار روزگار  کو یقینی بنایا جاسکے‘‘۔

یہ وزارت  2019 میں  تال میل، پیمانے کو وسعت دینے ، خواہشات کو پورا کرنے اور بہتر معیار پر خصوصی زور دیتے ہوئے   اپنے ویژن پورا کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ اس سے  ملک میں  ہنرمندی حاصل کرنے  کے مواقع  اور تربیت یافتہ افرادی قوت میں  اضافہ  ہوا ہے اور  اس سے  عوام کے درمیان  صنعت کاری کے جذبے کو فروغ بھی ملا ہے۔ وزارت کے اقدامات درج ذیل ہیں:

تال میل

  1. قومی ہنرمندی کی ترقی کا مشن (این ایس ڈی ایم)َ : ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت نے  ملک میں  ہنرمندی کی ترقی اور صنعتکاری کی کوششوں   کی خامیوں کودور کرنے اور اس پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے  اس کا قیام 2014 میں عمل میں آیا تھا ۔ این ایس ڈی ایم کی کوششوں کی وجہ سے  مرکزی حکومت کے مختلف پروگراموں کے تحت  سالانہ  ایک کروڑ سے زیادہ نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کرائی جارہی ہے۔
  2. اسکل انڈیا پورٹل: مختلف مرکزی وزارتوں ، ریاستی حکومتوں ، تربیت فراہم کرانے والے نجی اداروں اور  کارپوریٹس کے  ہنرمندی سے متعلق اعداد وشمار کو ایک پلیٹ فارم پر  لانے کیلئے  ایک مضبوط آئی ٹی پلیٹ فارم یعنی  اسکل انڈیا پورٹل شروع کیا گیا۔ اس سے  پالیسی سازوں کو  فیصلے کرنے میں آسانی فراہم کرانے کے اعداد وشمار  دستیاب ہوں گے اور  ہنرمندی کے ایکو سسٹم  میں  اطلاعات کی کمی  کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔  یہ  ہنرمندی  تک رسائی حاصل کرنے کے مواقع اور  متعلقہ  خدمات  کی تلاش کرنے میں  ہندوستانی شہریوں کیلئے  ایک سنگل ٹچ پوائنٹ بھی ہوگا۔

پیمانے میں وسعت

  1. انڈسٹریل ٹریننگ سینٹر (آئی ٹی آئی) :ہندوستان میں موجودہ طویل مدتی  تربیتی ایکو سسٹم کو وسعت دی گئی اور جدید بنایا گیا۔ انڈسٹریل ٹریننگ سینٹرز  (آئی ٹی آئیز)   کی مجموعی تعداد  میں 12فیصد کا اضافہ کیا گیا۔  2014 میں  یہ تعداد  11964 سے بڑھ کر 19-2018 میں  14939 ہوگئی۔ تربیت حاصل کرنے کیلئے داخلہ لینے والوں کی تعداد میں 37فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی مدت کے دوران  یہ  16.90 لاکھ  سے بڑھ کر 23.08 لاکھ ہوگئی۔ 
  2. پردھان منتری کوشل وِکاس یوجنا(پی ایم کے وی وائی) : سال 2015 میں  یہ اہم  پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا  (1.0 اور 2.0)  شروع کی گئی تھی جس کا مقصد  ہندوستان کے نوجوانوں  کو  مفت ہنرمندی کی تربیت فراہم کرانا تھا۔ اس پروگرام کے تحت اب تک  تقریباً 87 لاکھ نوجوانوں کو  تربیت فراہم کرائی گئی ہے۔  پی ایم کے وی وائی  19-2016  کے تحت  ملازمت سے منسلک پروگرام کے تحت 54فیصد سے زیادہ کو روزگار سے جوڑا گیا ہے۔
  3. پردھان منتری کوشل کیندر(پی ایم کے کے): مختص کیے گئے 812 پی ایم کے کے میں سے  681 مراکز قائم کیے جاچکے ہیں اور  ان کا مقصد  پی ایم کے وی وائی  اسکیم کےتحت  18 لاکھ سے زیادہ امیدواروں کو تربیت فراہم کرانا تھا جن میں سے 989936  امیدواروں کو تربیت فراہم کرائی گئی، 885822کا ٹیسٹ لیا گیا ، 740146 امیدواروں کو سند عطا کی گئی اور 435022 امیدواروں کو  کامیابی کے ساتھ روزگار فراہم کرایا گیا۔ ان میں سے 501 مراکز کا افتتاح متعلقہ پارلیمانی حلقوں کے ارکان پارلیمنٹ  اور / یا دیگر نمائندوں نے اپنے  متعلقہ انتخابی حلقے کے لئے کیا۔
  4. پہلے سے حاصل شدہ تعلیم کا اعتراف:پہلے سے حاصل شدہ تعلیم  کو تسلیم کیے جانے  (آر پی ایل) کو مزید گہرا بنایا گیا ہے۔ پی ایم کے وی وائی 19-2016 کے تحت  آر پی ایل پروگرام  زیرتربیت لوگوں کے ذریعے  پہلے سے حاصل شدہ  تعلیم  کو تسلیم کرنے کیلئے شروع کیا گیا تھا۔  اب تک  پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا  (پی ایم کے وی وائی)  کے آر پی ایل پروگرام کے تحت  26 لاکھ سے زیادہ لوگوں  کو منتخب کیا گیا۔ آر پی ایل  کے کلاس امپلائر زمرے کے تحت  11 لاکھ سے زیادہ  ملازمین کو  کمپنیوں کی مدد سے  رسمی  طور پر ہنرمندی کی تربیت دی گئی۔ 
  5. سپریم کورٹ میں آر پی ایل:پہلے سے حاصل شدہ  تعلیم  کو تسلیم کرنے کے پروگرام (آر پی ایل)  کے تحت  سپریم کورٹ ٹاٹا اسٹرائیو اور  ماروتی سوزوکی میں خصوصی طور پر سپریم کورٹ کے  کُکس  اور   ڈرائیوروں کے  ایک بیچ کی تربیت مکمل کی گئی۔  یہ تربیت دو دن میں فراہم کرائی گئی جس میں  حفاظتی پہلوؤں ، ذاتی فروغ  ، سافٹ ہنرمندی اور  کچھ تکنیکی پہلوؤں کو شامل کیا گیا۔
  6. انڈیا پوسٹ پیمنٹس بینک کے ساتھ مفاہمت نامہ: ہنرمندی  کے فروغ اور صنعت کی وزارت کے تحت  بی ایف ایس آئی  (بینکنگ، مالیاتی خدمات اور  بیمہ)  سیکٹر اسکل کونسل نے آر پی ایل  بیسٹ اِن کلاس امپلائرس کے تحت  170000 گرامین ڈاک سیوکوں کو سند فراہم کرانے کیلئے   انڈیا پوسٹ پیمنٹ بینک کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے ہیں۔  اب تک اس کے تحت  مجموعی طور پر  9046 امیدواروں کو  سند عطا کی گئی ہے۔ 
  7. مرکز کی منظوری:مرکزی منظوری اور الحاق کے پورٹل  - اسمارٹ کے ذریعے  قلیل مدتی  معیاری  ہنرمندی کی  قابل قدر صلاحیت سازی کی گئی۔ اب تک 11977 مراکز کو منظوری دی گئی اور ان کا الحاق کیا گیا جن کی  سالانہ تربیتی صلاحیت  تقریباً  50 لاکھ ہے  ۔
  8. جموں وکشمیر میں ہنرمندی کی ترقی: ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت ، حکومت جموں وکشمیر  اور  ریاستی ہنرمندی کی ترقی کے مشن (جے کے ایس ایس ڈی ایم) کے  افسران کے درمیان  ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد  جموں وکشمیر کے  تمام اہل استفادہ کنندگان کے 100 فیصد کووریج کو یقینی بنانے کے طریقوں اور  اس کے لئے  کیے جانے والے اقدامات   پر  بات چیت کرنا تھا۔ این ایس ڈی سی  ،ڈی جے ایس ایس  سمیت مختلف تنظیموں   اور  مختلف سینٹر اسکل کونسل کے افسران  نے بھی اس میٹنگ میں شرکت کی۔  طویل مدتی  ہنرمندی  کو فروغ دینے کیلئے  این ایس ٹی آئی جموں کو کارگر بنایا گیا۔  تربیت کاروں کو این ایس کیو ایف لیول 6 کی تربیت فراہم کرانے  کی تربیت دی جارہی ہے۔
  9. لیہہ میں ہنرمندی کی ترقی: ملک کے تمام حصوں تک ہنرمندی کی تربیت بہتر طریقے سے فراہم کرانے کیلئے  لیہہ میں  این ایس ٹی آئی  کا ایک ایکسٹینشن سینٹر کھولا گیا  ۔ یہ وزارت ملک میں  صحیح تربیت یافتہ  افرادی قوت تیار کرنے کیلئے ہرممکن اقدام کررہی ہے۔
  10. سنکلپ :کوہما ،ناگالینڈ میں   4-3 ستمبر 2019 کو  سنکلپ کے بارے میں ایک علاقائی ورک شاپ منعقد کی گئی  ، اس ورکشاپ میں  6 ریاستوں یعنی  ناگالینڈ ،مدھیہ پردیش،  کرناٹک،  جھارکھنڈ،  اروناچل پردیش اور سکم نے شرکت کی۔  علاقائی ورکشاپ کے ساتھ ساتھ  ضلعی سطح کے افسروں اور  تربیت کاروں کی ورکشاپ بھی منعقد کی گئیں۔ اس کے  علاوہ  سنکلپ کے تحت  دلّی اور مہاراشٹر میں بھی  ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ علاوہ ازیں  سیئول کوریا کے لئے ایک وفد بھیجا گیا  جس کا اہتمام  عالمی بینک نے کیا  اور ریاستی انسینٹو گرانٹ (ایس آئی جی) بیس لائن   کی صورتحال   اور  سنکلپ کے تحت ریاستی تجاویز  جمع کرائے جانے کی صورتحال  کا جائزہ لینے کیلئے ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام خطوں کے ساتھ  ویڈیو کانفرنس بھی منعقد کی گئی۔
  11. اسٹرائیو:اس اسکیم کا  اہم مقصد  آئی ٹی آئیز کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے  ، پہلے مرحلے میں  314 آئی ٹی آئیز ک منتخب کیا گیا  اور 198 کارگزاری پر مبنی  گرانٹ کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے ۔ یہ اسکیم آئی ٹی آئیز  اور  اپرنٹس شپ تربیت کو مدد فراہم کرانے کیلئے   ریاستی حکومتوں کی صلاحیت میں اضافے کا کام بھی کررہی ہے۔  اب تک  31 ریاستوں نے  کارگزاری پر مبنی  فنڈنگ معاہدے  (پی بی ایف اے) پر دستخط کیے ہیں۔ تدریسی اور آموزشی تکنیکوں کو بہتر بنانے کیلئے این ایس کیو ایف کیلئے 36 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام خطوں میں  ٹریننگ افسروں ، پرنسپلوں اور  تربیت کاروں  کو این ایس کیو ایف  تربیت     فراہم کرائی جارہی ہے۔
  12. بین الاقوامی تال میل:ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کے وزیر نے سنگا پور متحدہ عرب امارات، جاپان، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ملکوں میں اسی کام سے وابستہ حکام سے ملاقات کی، جس کا مقصد ملک میں ہنرمند افرادی قوت کی صلاحیت میں مزید اضافہ کرنا، بین الاقوامی معیارات کے مطابق مشترکہ طورپر کام کرنا اور ان ملکوں میں ہنرمند افرادی قوت کی مانگ کو پورا کرنا تھا۔یہ کام ان ملکوں کے ساتھ تال میل کے ذریعے اور انہیں تربیت یافتہ پیشہ ور افراد فراہم کرکے کیاجاسکتا ہے۔
  13. پی ایم یووا یوجنا (پردھان منتری یووا اُدے متا وکاس ابھیان) اس کے ذریعے  300 اداروں میں200 صنعتی تربیتی ادارے(آئی ٹی آئیز)؍نیشنل اسکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (این ایس ٹی آئیز)، 50 پالیٹیکنک ، 25پی ایم کے کے ایس؍پی ایم کے وی وائی اور 25 جن شکشن سنستھان(جے ایس ایس )، جو 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (دہلی، اترپردیش، تمل ناڈو، پڈوچیری، تلنگانہ، کیرالہ، مغربی بنگال، بہار، آسام، میگھالیہ، اتراکھنڈ، مہاراشٹر) میں پھیلے ہوئے ہیں۔

اس پروجیکٹ کا مقصد ایک متبادل پسندیدہ کیریئر کے طورپر  صنعت کاری کو فروغ دینا ہے اور امکانی نیز نئے صنعت کاروں کو صنعت کاری کی تعلیم فراہم کرکے اور زیر تربیت افراد ؍فائدہ اٹھانے والوں کو ہنرمندی کے نظام کے ذریعے تعلیم فراہم کرکے ان کی طویل مدتی مدد کرنا ہے۔امید ہے کہ اس پروجیکٹ کی صنعت کاری کی آگاہی اور تعلیمی اجلاسوں کے ذریعے تقریباً 70 ہزار نوجوانوں تک رسائی ہوگی۔توقع ہے کہ یہ پروجیکٹ مارچ 2020ء تک 600 نئے اور 1000پختہ صنعت کار فراہم کرے گا۔اس پروجیکٹ کے لئے منظور شدہ بجٹ 12کروڑ روپے کا ہے۔

  1. ریلائنس جیو کے ساتھ تال میل:کنکٹی وٹی کی صنعت کو مستحکم بنانے کی خاطر ڈی جی ٹی اور ایم ایس ڈی ای نے ریلائنس جیو کے ساتھ تال میل کیا ہے، تاکہ 6 این ایس ٹی آئیز کے ساتھ ان کے ہوم کنکٹ ڈویژن کے لئے تربیتی تجربہ گاہیں قائم کی جاسکیں۔6 مقامات پر روزگار سے متعلق میلے کا اہتمام کیاگیا۔یہ مقامات ہیں این ایس ٹی آئی چنئی، بنگلورو، ممبئی، حیدرآباد اور کولکاتہ اور سرکاری ادارے آئی ٹی آئی پوسا نئی دہلی۔ اس تربیت کے لئے 400 امیدواروں کا انتخاب کیا گیا ہے۔
  2. سسکو، کوئسٹ الائنس اینڈ ایکسینچوئر کے ساتھ مفاہمت نامے:ڈائریکٹر جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی)، صلاحیت سازی اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای)اور سسکو، کوئسٹ الائنس اینڈ ایکسینچوئر کے ساتھ ساجھیداری کے تحت 6 این ایس ٹی آئز میں روزگار کے قابل بنانے کی صلاحیت پیدا کرنے والی تجربہ گاہیں قائم کی گئیں ہیں۔ صنعتی تربیتی اداروں(آئی ٹی آئز)میں پورے بھارت سے نوجوانوں کو شامل کیا گیا ہے اور انہیں ڈیجیٹل خواندگی ، کیریئر تیاری، روزگار فراہم کرنے سے متعلق صلاحیت اور جدید ٹیکنالوجی صلاحیتوں مثلاً ڈاٹا انیلیٹکس کی تربیت دی جائے گی۔

اُمنگوں کی تکمیل

  1. کوشلیہ چاریہ ایوارڈز: زیر تربیت افراد کے ذریعے کئے گئے اچھے کام کی تعریف اور اسے تسلیم کئے جانے کی غرض سے 5 ستمبر 2019ء کو کوشلیہ چاریہ ایوارڈز 2019ء کی تقریب منعقد کی گئی تھی۔ اس کا مقصد مستقبل کے لئے تیار اور ہنرمند افرادی قوت کی تشکیل میں ان کے بے مثال رول کے لئے مختلف شعبوں سے 53 زیر تربیت افراد کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
  2. نیشنل اینٹرپرینیورشپ ایوارڈز 2019:ایم ایس ڈی ای نے 30 نوجوان صنعت کاروں اور 6تنظیموں ؍افراد کو ملک میں صنعت کاری کا ماحول قائم کرنے کے لئے این ای اے 2019ء سے سرفراز کیاگیا۔یہ ایوارڈز صنعت کاری کے فروغ میں غیر معمولی رول ادا کرنے والوں کی عزت افزائی کے لئے پیش کئے گئے۔ایوارڈ میں ایک ٹرافی ، ایک سرٹیفکیٹ اور 10 لاکھ روپے کی انعامی رقم شامل تھی۔ یہ قدم نوجوانوں کے درمیان صنعت کاری کو فروغ دینے کی اسکیم کے مطابق اٹھایا گیا ہے،تاکہ ملک میں روزگار تلاش کرنےوالوں سے زیادہ روزگار فراہم کرنے والے بنیں۔
  3. اسکل ساتھی کونسلنگ پروگرام: ایم ایس ڈی ای نے اسکل ساتھی پروگرام بھی شروع کیا ہے، جس کا مقصد ملک کے نوجوانوں کو اسکل انڈیا مشن کے تحت مختلف امکانات سے روشناس کرانا ہے اور صلاحیت سازی کی ان کی خواہش میں اضافہ کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت 40لاکھ طلباء کی کونسلنگ کی گئی۔
  4. پیشہ ورانہ کورس دستیاب کرانے کے لئے پالیسی کارروائی: اس کے تحت ایم ایس ڈی ای نے اسکولوں میں پیشہ ورانہ کورس دستیاب کرانے کے لئے ایک پالیسی کارروائی تشکیل  دینے کی شروعات کی۔اس کے علاوہ یوجی کورسوں میں داخلے کے لئے پیشہ ورانہ کورسوں کو برابر کا درجہ دینے کی گنجائش پیدا کی گئی۔پیشہ ورانہ سے عام کورسوں اور عام کورسوں سے پیشہ ورانہ کورسوں تک کنکٹی وٹی کے لئے  ڈرافٹ کریڈٹ فریم ورک تشکیل دیاگیا ہے۔یہ فریم ورک انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت (ایم ایچ آر ڈی) کے ساتھ قطعی صلاح مشورہ کے مرحلے میں ہے۔
  5. سرکاری اسکولوں میں 500 اسکل ہبس :ایم ایس ڈی ای نے سرکاری اسکولوں میں صلاحیت سازی کے 500 مراکز اور تجربہ گاہیں قائم کرنے کے ایک منصوبے کو بھی قطعی شکل دی ہے۔ اسکول کے طلباء کے لئے ‘‘ہبس آف ایکسی لینس اِن اسکلز’’ فروغ دینے کے لئے سی بی ایس ای کے ساتھ قریبی تعاون سے ایم ایس ڈی ای اسکولوں میں اعلیٰ معیار کے ٹیکنالوجی والے صلاحیت سازی کے پروگرام متعارف کرائے گی۔اسکل انڈیا نے فی الوقت 9100 سے زیادہ اسکولوں کو اپنے ساتھ جوڑا ہے اور 20 شعبوں کی اسکلز کو مربوط کیا ہے۔ اب تک 7.5 لاکھ طلباء اس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔یہ اقدامات ریاستوں کے ساتھ مل کر کئے جارہے ہیں۔
  6. امبیڈیڈ ایپرنٹس شپ ڈگری پروگرام: ایم ایس ڈی ای اور ایم ایچ آر ڈی نے ا یک ساتھ مل کر شریاس پروگرام شروع کیا ہے، جہاں ریٹیل ، میڈیا اور لوجسٹکس کے ڈگری پروگراموں کو تعلیم کے اعلیٰ اداروں میں دیگر ڈگری پروگراموں مثلاً بی اے؍ای ایس سی؍بی کام(پیشہ ورانہ) کورسوں کے ساتھ وابستہ کردیاگیا ہے۔ اب تک یہ پروگرام 25 کالجوں میں متعارف کرایا گیا ہے، جس میں 643 طلباء نے داخلہ لیا ہے۔
  7. ایپرنٹس شپ پکھواڑے کے ذریعے ایپرنٹس شپ کو فروغ دینے کے لئے ہنرمندی کی مانگ کو پورا کرنا: ایم ایس ڈی ای نے ایک ایپرنٹس شپ پکھواڑے کا اہتمام کیا، جو پورے ملک میں منایاگیا۔اس کے دوران صنعتوں  اور ریاستی حکومتوں نے موجودہ مالی سال میں 7 لاکھ ایپرنٹسوں کو تربیت دینے کا عہد کیا، جس میں کامیابی ملنے کی صورت میں ایپرنٹس شپ ایکٹ 1961 میں کی گئی آخری تبدیلی کے بعد تربیت یافتہ ایپرنٹسوں کی تعداد تقریباً دوگنی ہوجائے گی۔ایم ایس ڈی ای ،تھرڈ  پارٹی ایگریگیٹروں (ٹی پی ایز) کو فروغ دینے کی بھی کوشش کررہا ہے،جو ایپرنٹس شپ ٹریننگ کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کریں گے۔یہ ٹریننگ صلاحیت سازی کے فروغ کے لئے سب سے مناسب شکل ہے۔
  8. انڈین انسٹی آف اسکلز(آئی آئی ایس): اسکلز کے معاملے میں معیار اور مقدار پیدا کرنے کی خاطر ایم ایس ڈی ای نے حال ہی میں ممبئی میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسکلز(آئی آئی ایس)کے قیام کا اعلان کیاتھا، جو ملک میں آئی آئی ایم ایس اور آئی آئی ٹیز جیسا معیاری اور باوقار ہوگا۔ یہ پروجیکٹ ٹاٹا گروپ کی شراکت داری کے ساتھ قائم کیاجارہا ہے، جس کے لئے حکومت نے 4.5ایکڑ سے زیادہ زمین فراہم کی ہے۔ٹاٹا گروپ تقریباً 300 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گا اور مکمل ہونے پر یہ آئی آئی ایس ہر سال 5000زیر تربیت افراد کو تربیت فراہم کرنے کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔
  9. ایس بی آئی کے ساتھ مفاہمت: ایم ایس ڈی ای نے ایس بی آئی کے ساتھ بھی ایک مفاہمت نامے (ایم او یو)پر دستخط کئے ہیں، تاکہ 5000ہزار ایرپنٹس شپ کرنے والوں کو بینکوں میں 20-2019 مالی سال کے دوران آفس ایگزیکیٹو اور ٹیلی کالر زکے طورپر کھپایا جاسکے۔مالی سیکٹر میں ایپرنٹس شپ کے فروغ کے لئے شراکت داری قائم کرنے کے پروگرام کا یہ ایک حصہ ہے۔
  10. اسکل واؤچرز : ایم ایس ڈی ای بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم اسی ایم ای)، کےلئے ایک اسکل واؤچر پروگرام کو ترقی دے رہا ہے۔ یہ پروگراموں کی فراہمی اور معیار بڑھانے کے ایک نمونے کے طورپر کام کرے گا۔طالب علموں اور صنعت کاری کی تربیت لینے والوں کو تربیتی پروگرام کے درمیان واؤچر فراہم کئے جائیں گے۔
  11. ورلڈ اسکلز انٹرنیشنل قضان 2019: انڈیا اسکلز 2018 جیتنے والے 22 افراد اور ان کے ماہرین نے روس کے شہر قضان میں ہونے والے ورلڈ اسکلز انٹرنیشنل 2019 (ڈبلیو ایس کے)میں اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے ملک کی نمائندگی کی۔ بھارت نے صلاحیت سازی کے اس سب سے بڑے مقابلے میں ایک سونے کا ، ایک چاندی کا ، دو کانسے کے اور پندرہ مہارت کے تمغے حاصل کئے۔عالمی صلاحیت سازی کے 2019 کے اس میلے میں شرکت کرنےوالے 63ملکوں میں بھارت کا نمبر 13واں رہا۔اس طرح صلاحیت سازی کی چمپئن شپ میں یہ بھارت کی سب سے بہترین کارکردگی رہی۔ بھارتی ٹیم کو اس کی شاندار کارکردگی کےلئے سرٹیفکیٹ اور نقد انعامات دیئے گئے۔

اضافہ شدہ معیار

  1. 1961 کے ایپرنٹس شپ ایکٹ میں اصلاحات:وزارت نے ایپرنٹس شپ ایکٹ 1961 میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ہیں اور اسے زیادہ آسان بنادیا ہے، تاکہ صنعتیں زیادہ سے زیادہ  ایپرنٹسوں کو اپنے اندر کھپا سکیں۔ایپرنٹس شپ ضوابط 1962 کے تحت جو جامع اصلاحات کی ہیں، وہ مندرجہ ذیل ہیں:
  • ایپرنٹسوں کو روزگار فراہم کرنے کےلئے  زیادہ سے زیادہ عمر کی حد میں 10 سے15 فیصد کا اضافہ۔
  • کسی ادارے میں ایپرنٹسوں کو روزگار دینے کے لئے اس کے سائز کی لازمی حد میں 40 سے 30 فیصد تک کی کمی۔
  • پہلےسال کے لئے اسٹائپنڈ کی ادائیگی مقرر کردی گئی ہے بجائے اسے کم از کم اجرت سے جوڑا جائے۔
  • دوسرے اور تیسرے سال کے ایپرنٹسوں کے لئے اسٹائپنڈ میں 10 سے 15 فیصد کا اضافہ۔
  • اختیاری ٹریڈ کےلئے ایپرنٹس شپ کی مدت 6 سے 36 ماہ  تک ہوسکتی ہے۔
  1. ٹریننگ کا دوہرا نظام: ایم ایس ڈی ای ، آئی ٹی آئیز کے تربیت کے دوہرے نظام (ڈی ایس ٹی) اسکیم کو کم از کم 1000آئی ٹی آئیز تک بڑھانے کا پروگرام بنا رہی ہے۔ڈ ی ایس ٹی تربیت کا ایک ماڈل ہے، جو جرمن طریقہ کار سے فیضان حاصل کرکے اپنایا گیا ہے۔ اس کے تحت مختلف آئی ٹی آئیز کے طلباء کو صنعتی رہنمائی والی تربیت کے ذریعے کھلی فضا میں متعارف کرایا جاتا ہے۔ پہلے 100 دنوں میں ہنرمندی کی تربیت فراہم کرنےوالے 40 اداروں (این ایس ٹی آئیز  نے 739 شراکت داری کے مفاہمت ناموں پر اور شراکت داری کے سمجھوتوں پر دستخط کئے ہیں۔کورس کی عملی تربیت کی مدت کو بھی لچکدار بنادیا گیا ہے اور اسے صنعت کے شیڈیول کے مطابق کردیا گیا ہے۔سی ٹی ایس کے سب کے سب 138 سے زیادہ کورسوں کو ڈی ایس ٹی کے تحت لے آیا گیا ہے، جبکہ پہلے صرف 17 کورس اس کے تحت تھے۔آئی ٹی آئیز کو یہ خصوصی اجازت دی گئی ہے کہ وہ ڈی ایس ٹی کے تحت خصوصی تربیت فراہم کرسکتے ہیں۔
  2. نئے زمانے کی اسکلز: زمانے کے ساتھ چلنے کے مقصد سے ایم ایس ڈی ای نے 12 این ایس ٹی آئیز میں  نیو ایج کورس شروع کئے ہیں۔ ان میں انٹرنیٹ آف تھنگس ، اسمارٹ ہیلتھ کیئر، انٹر نیٹ آف تھگنس، اسمارٹ سٹیز، تھری ڈی پرنٹنگ، ڈرون پائلٹ، سولر ٹیکنیشینز اور جیو انفارمیٹک وغیرہ شامل ہیں۔
  3. ضلع اسکل کمیٹیوں کی تشکیل:وزارت نے ملک کے غریب ترین لوگوں تک مختلف اصلاحات کے ساتھ پہنچنے اور ہر شہری کو با اختیار بنانے کے مقصد سے تمام اضلاع میں ڈسٹرکٹ اسکل کمیٹیاں(ڈی ایس سی) تشکیل دی ہیں۔ وزارت نے یہ کام سنکلپ پروگرام کے تحت اسپریشنل اسکلنگ ابھیان کے ایک حصے کے طورپر کیا ہے، جس کا خرچ عالمی بینک اٹھارہا ہے۔ ایم ایس ڈی ای  ان کمیٹیوں کا کام کاج ڈائریکٹریٹ جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی)کے ذریعے چلا رہا ہے، تاکہ مقامی سطح پر صلاحیتوں میں جو فرق ہے ان کی نشاندہی کی جاسکے اور مقامی مارکیٹ میں اس کمی کو دور کیا جاسکے۔
  4. مہاتماگاندھی نیشنل فیلو شپ(ایم این جی ایف):ایم ایس ڈی ای نے 6 ریاستوں کے 75 اضلاع کے لئے مہاتماگاندھی نیشنل فیلو شپ(ایم این جی ایف) تشکیل دی ہیں۔ ان کے تحت 75 نوجوان پیشہ ور افراد کو منتخب کیا جائے گا اور انہیں شناخت شدہ 75 اضلاع میں تعینات کیا جائے گا۔اس اقدام کا مقصد ضلع کی سطح کی منصوبہ بندی، اسکلنگ سے متعلق سرگرمیوں کے جائزے اور مختلف ساجھیداروں کے مابین معلومات ؍ڈاٹا اورتال میل اکٹھا کرکے ضلع حکام کی مدد کرنا ہے۔
  5. انڈین اسکل ڈیولپمنٹ سروسز(آئی ایس ڈی ایس): اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ ملک کے نوجوانوں کی صلاحیت سازی کو وہی اہمیت ملے ، جس کے وہ مستحق ہیں۔ حکومت نے ایک بالکل ہی نئی ضلع سروس قائم کی ہے، جو انڈین ریوینو سروس یا پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف سروس کے طرز پر ہے۔ ایم ایس ڈی ای کے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے انڈین اسکل ڈیولپمنٹ سروسز(آئی ایس ڈی ایس) کی تشکیل عمل میں آئی ہے۔ یہ سروس صلاحیت سازی اور صنعت کاری کو فروغ دینے کی وزارت کے ٹریننگ ڈائریکٹریٹ کے لئے قائم کی گئی ہے۔آئی ایس ڈی ایس گروپ ‘اے’ سروس ہوگی، جس میں ملازمت  ، انڈین انجینئرنگ سروس امتحان کے ذریعے ملے گی، جو یو پی ایس سی کرائے گا۔ انڈین اسکل ڈیولپمنٹ سروسز  کےبالکل نئے بیچ نے اپنا  تربیتی  پروگرام ایڈمنسٹریٹیو  ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (اے ٹی آئی) میسورو میں 9 ستمبر 2019ء کو شروع کیا۔انڈین اسکل ڈیولپمنٹ سروس (آئی ایس ڈی ایس )کے 263 آل انڈیا عہدے ہیں۔ اس کاڈر میں 3 عہدے سینئرایڈمنسٹریٹیو گریڈ میں، 28 عہدے جونیئرایڈمنسٹریٹیو گریڈ میں، 120 عہدے سینئر ٹائم اسکیل میں اور 112 عہدے جونیئر ٹائم اسکیل میں ہے۔
  6. کمیونٹی سرپرست جو بزنس سکھی کہلاتی ہے:خواتین صنعت کاروں کی ترقی کے لئے 1918ء میں شروع کی گئی متعدد اسکیموں اور پروگراموں سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر این آئی ای ایس بی یو ڈی نے یو این ڈی پی، این آئی آر ڈی پی آر اور ٹی  آئی ایس ایس کے ساتھ مل کر  مشترکہ طورپر ایک نئے تصور اور نظام کو فروغ دیا، جو کمیونٹی سرپرستوں کے ایک کاڈر کے ذریعےجو بزنس سکھیز (بز-سکھیز)کہلا تا ہے، نفسیاتی-سماجی اور کاروباری امداد فراہم کررہا ہے۔اس کا نصاب این ای اے تقریب کے موقع پر 9 نومبر 2019ء کو جاری کیاگیا۔یہ سرپرست پیچھے کی جانب (مثال کے طورپر مالی اداروں کے ذریعے )اور آگے کی طرف (کاروبار اور  مارکیٹ کے بارے میں زیادہ منافع بخش خیالات پیش کرکے)سلسلوں کو آپس میں جوڑ رہا ہے۔اس کے علاوہ سرپرست آگے بڑھنے کی لگن رکھنے والے صنعت کار کو نفسیاتی مدد بھی فراہم کرے گا، جس کی ایک خاتون کو اس وقت زیادہ ضرورت ہوتی ہے، جب وہ ایسی تمام رکاوٹوں کا سامنا کرتی ہے، جو اسے اپنا کاروبار شروع کرنے یا کاروبار برقرار رکھنے میں درپیش ہوتی ہے۔یہ سرپرست صنعت کاری کی ترقی کے لئے کمیونٹی پر مبنی کاروباری مشیر کے طورپر کام کرتے ہیں۔
  7. تربیت اور تربیت کاروں کا پروگرام: آئی ٹی آئی کے اساتذہ کے لئے پانچ روزہ ٹی او ٹی پروگراموں کا نصاب اور تربیت کاروں کے تربیتی پروگرام ، جن کا تعلق لوگوں کو روزگار کے قابل بنانا، صنعت کاری اور ہنرمندی سے ہے،پورے ملک کی سطح پر پی ایم کے وی وائی کے 4068  تربیت کاروں کے لئے ڈیزائن اور منعقد کیاگیا ہے۔ اس ادارے نے صنعت کاری کی ترقی کا پروگرام انتہائی باصلاحیت غیر اور ضرورت مند بے روزگار نوجوانوں کے لئے بنایا ہے، جن کا تعلق اوبی سی ؍ایس سی؍ایس ٹی اور سرپر فضلا اٹھانے والوں مرد اور خواتین سے ہے۔
  8. جن شکشن سنستھان کے لئے ایم آئی ایس پورٹل کی شروعات:جن شکشن سنستھانوں (جے ایس ایس) کے لئے ایک ایم آئی ایس پورٹل شروع کیاگیا۔ اسے اپنانے اور اس پر عمل درآمد کے نتیجے میں حاصل ہونے والے فائدوں سے جائزہ لینے اور انتظامیہ صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے، نیز اسکیم کو چلانے کے معاملے میں بھی بہتری پیدا ہوئی ہے۔ اب وزارت کا خیال ہے کہ ملک کے ہر ضلع میں جے ایس ایس نظام قائم کردیا جائے۔
  9. ای-اسکل انڈیا پلیٹ فارم: ٹیکنالوجی کے اس دور میں ای-تعلیم بھارت کے نوجوانوں کے لئے ہنرمندی کے مواقع پیدا کرنے میں بے حد اہمیت رکھتی ہے۔ این ایس ڈی سی نے ایک ای-اسکل انڈیا  کی شروعات کی ہے، جو کئی زبانوں میں ای-تعلیم کو ایک ساتھ ملانے والا ایک پورٹل ہے۔یہ پورٹل بھارت کے نوجوانوں کو ای-ہنرمندی کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ای –اسکل انڈیا، آن لائن تعلیم کے ذریعے بھارت اور عالمی طالب علموں کے لئے ہنرمندی کے مواقع میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ کام سرکردہ نالج تنظیموں کے ذریعے تیار کئے گئے آن لائن کورسوں کو یکجا کرکے کیا جاتا ہے۔یہ تنظیمیں بھارت کو دنیا کا اسکل کیپٹل بنانے کے این ایس ڈی سی کے عہد میں ان کے ساتھ ہیں۔ ای-اسکل انڈیا مقام اور وقت کی سرحدوں سے متاثر ہوئے بغیر کسی بھی وقت ، کسی بھی جگہ ہنرمندی کی تعلیم فراہم کرتاہے۔ای –اسکل انڈیا نے مختلف تنطیموں مثلاً ٹی سی ایس ، بیٹر یو، آئی بی ایم، ایس اے ایس، بی ایس ای،  اپولو میڈوارسٹی، اینگورو، امرتا ٹیکنالوجیز، آئی پرائمڈ، ودھوانی فاؤنڈیشن، انگلش ایج، فیئر اینڈ لولی، اے آئی ایف ایم بی وغیرہ سے رابطہ قائم کیا، جو مختلف شعبوں مثلاً زراعت ، صحت کی دیکھ بھال، ٹیلی کام، لوگوں کو روزگار کے قابل بنانا، انتظامیہ، خوردہ، دواسازی، بینکنگ اور مالیت، ڈاٹا سائنس اور مصنوعی ذہانت وغیرہ میں ہنرمندی کے خواہش افراد کو تعلیم کے واحد پلیٹ فارم کے ذریعے تعلیم فراہم کررہی ہیں۔ کورس، انگلش، ہندی اور 9 علاقائی زبانوں میں دستیاب ہے۔طالب علموں کی ویڈیو اور کوئز وغیرہ کے ذریعے رہنمائی کی جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

U- 5934



(Release ID: 1597057) Visitor Counter : 24