وزیراعظم کا دفتر
16 ویں لوک سبھا کی آخری نشست سے وزیر اعظم کا خطاب
प्रविष्टि तिथि:
13 FEB 2019 8:48PM by PIB Delhi
نئی دلّی ، 14 فروری ؍وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے گزشتہ روز 16 ویں لوک سبھا کی آخری نشست سے خطاب کیا ۔
وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں لوک سبھا کی کارروائی چلانے کے لئے اسپیکر محترمہ سمترا مہاجن کے رول کی ستائش کی ۔ وزیر اعظم نے سولہویں لوک سبھا کی مدت کے دوران پارلیمانی امور کے وزیر کے رول کی بھی ستائش کی ۔ انہوں نے لوک سبھا کے تئیں تعاون کے لئے پارلیمانی امور کے سابق وزیر آنجہانی اننت کمار کی خدمات کی ستائش کی ۔
ایوان کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ تقریباً تین دہائیوں کے بعد ملک نے ایک بھر پور اکثریت والی حکومت دیکھی ہے ۔ لوک سبھا کی کار کردگی کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا کہ لوک سبھا کے کُل 17 میں سے آٹھ اجلاسوں میں صد فیصد کار کردگی رہی ہے اور تمام تر کار کردگی کا تناسب 85 فیصد رہا ہے ۔
ممبران پارلیمنٹ کی ستائش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکمراں پارٹی کے ممبران کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کے ممبران نے بھی اس لوک سبھا کی مدت کے دوران عوام کے مفاد کے لئے قابل ذکر تعاون کیا ہے ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ لوک سبھا خواتین ممبران کی سب سے زیادہ تعداد کے لئے یاد رکھی جائے گی ، جن میں 44 ممبران پہلی بار منتخب ہوئی ہیں ۔خاتون ممبران پارلیمنٹ کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کابینہ میں خاتون وزراء کی تعداد سب سے زیادہ رہی ہے اور سیکورٹی سے متعلق کابینہ کمیٹی میں دو خاتون وزیر شامل رہی ہیں ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کی خود اعتمادی اس وقت سب سے زیادہ رہی ہے ۔ میں اسے ایک مثبت علامت کے طور پر دیکھتا ہوں چونکہ ایسی خود اعتمادی ترقی کی ضامن ہوا کرتی ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت آج دنیا کی چھٹی سب سے بڑی معیشت ہے اور پانچ ٹریلین امریکی ڈالر والی معیشت بننے کے قریب ہے ۔
توانائی ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ، خلاء ، مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں بھارت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ دنیا گلوبل وارمنگ یعنی کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کے بارے میں تبادلہ خیال ہی کر رہی ہے اور بھارت نے اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے ضمن میں بین الاقوامی شمسی اتحاد کی کوشش بھی کر ڈالی ہے ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آج دنیا بھارت کو سنجیدگی سے لیتی ہے کیونکہ اس کی بھر پور اکثریت والی حکومت کی حیثیت تسلیم کی جاتی ہے اور اس کا سہرا 2014 میں رائے دینے والے شہریوں کے سر بندھتا ہے ۔
بھارت کی خارجہ پالیسی کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بھارت نے انسانی ہمدردی کے شعبے میں متعدد امدادی کام انجام دیئے ہیں جن میں نیپال میں زلزلہ ، مالدیپ میں پانی کا مسئلہ اور یمن میں شہریوں کو بچانا شامل ہیں ۔وزیر اعظم نے بھارت کی سافٹ پاور کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یوگا کو آج پوری دنیا تسلیم کرتی ہے ۔ متعدد ملک اب بابا امبیڈکر جینتی ، مہاتما گاندھی کی جینتی منا رہے ہیں ۔
وزیر اعظم نے کام کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ کل 219 بل پیش کئے گئے تھھے جن میں سے 203 بل پاس ہو ئے ہیں ۔
وزیر اعظم نے کالے دھن اور بد عنوانی کے موضوع پر اپنی حکومت کا نظریہ پیش کرتے ہوئے دوہرایا کہ اس لوک سبھا نے سخت سے سخت قانون بنائے ہیں جن میں دیوالیہ کوڈ اور اقتصادی بھگوڑوں سے متعلق ایکٹ شامل ہیں ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اسی لوک سبھا نے جی ایس ٹی پاس کیا ہے ۔ جی ایس ٹی کا عمل دو طرفہ تعاون کے جذبے کا مظہر ہے ۔
وزیر اعظم نے حکومت کی دیگر پہل قدمیوں کے بارے میں بھی ذکر کیا جن میں آدھار ، اقتصادی کمزور طبقے کے لئے دس فیصد ریزرویشن ، زچگی فوائد شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک بڑی پہل قدمی کے طور پر اس 16 ویں لوک سبھا کے دوران 1400 سے زائد غیر افادیت والے قانون منسوخ کئے گئے ہیں ۔
وزیر اعظم نے 16 ویں لوک سبھا کو بہتر ڈھنگ سے چلانے کے لئے تمام ممبران کی جانب سے کئے گئے تعاون کے لئے شکریہ ادا کرنے کے ساتھ اپنے خطاب کو مکمل کیا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
U . 961
(रिलीज़ आईडी: 1564468)
आगंतुक पटल : 71