دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

دیہی ترقی کے محکمے اور مویشی پروری و ڈیری  کےمحکمہ نے وی بی-جی رام جی کے تحت چارے کی پیداوار بڑھانے، مویشیوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور دیہی روزگار کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کرنے کا عہد کیا


مرکز نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو چارے کی دستیابی بہتر بنانے اور دیہی علاقوں میں مویشی پروری کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ ایڈوائزری جاری کی

چارے کی کاشت، چراگاہوں کے فروغ، ڈیری کے بنیادی ڈھانچے اور ویٹرنری سہولتوں کے لیے 22 قابلِ اجازت کاموں کی نشاندہی کی گئی

وکست گرام پنچایتوں کے  منصوبوں کے ذریعے چارے کی دستیابی کویقینی بنانے، مویشی پروری کو فروغ دینے اور دیہی روزگار کو پائیدار بنانے کی کوشش کی گئی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 NOV 2026 10:22AM by PIB Delhi

دیہی ترقی کی وزارت کے دیہی ترقی کے محکمے اور ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے مویشی پروری و ڈیری کے محکمہ نے مشترکہ طور پر تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس کا مقصد ’وکست بھارت-روزگار اور ذریعہ معاش کی ضمانت مشن (دیہی): وی بی-جی رام جی ایکٹ، 2025‘ کے تحت مختلف محکموں کے باہمی تعاون سے چارے کی دستیابی کویقینی بنانے، چراگاہوں کو ترقی دینےاور مویشی پروری کے لیے ضروری بنیادی سہولتوں کو مضبوط بنانا ہے۔

مذکورہ پہل کے تحت تمام سرکاری محکمے مل کر چارے کی کمی کا مسئلہ حل کرنے، مویشی پروری سے متعلق بنیادی سہولتوں کو بہتر بنانے اور دیہی کنبوں کے روزگار کو سہارا دینے کے لیے کام کریں گے۔ اس سے خاص طور پر چھوٹے اور معمولی کسانوں اور بے زمین کنبوں کو فائدہ پہنچے گا، جن کا روزگار مویشی پروری اور ڈیری کے کاموں پر منحصر ہے۔ اس کا مقصد دیہی روزگار اور اثاثوں کی تعمیر کے کاموں کو مویشی پروری کے شعبے کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہے، ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ متعلقہ ایکٹ کی تمام شرائط اور منصوبہ بندی کے طریقہ کار پر عمل ہو۔

وی بی-جی رام جی ایکٹ یکم جولائی 2026 سے نافذ ہوا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت ہر دیہی کنبوں کو سال میں 125 دن کے اجرت والے روزگار کی قانونی ضمانت دی گئی ہے۔ اس میں چار اہم شعبوں کے تحت پائیدار اثاثے بنانے پر توجہ مرکوزکی گئی ہے، جن میں روزگار سے متعلق بنیادی سہولتوں کی تعمیر اور شدید موسمی حالات کے اثرات کو کم کرنا بھی شامل ہے۔ اس مشترکہ ایڈوائزری کا مقصد اسی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چارے کی پیداوار بڑھانا، اجتماعی چراگاہوں کو ترقی دینا اور مویشی پروری کے لیے ضروری بنیادی سہولتوں کو مضبوط بنانا ہے۔

چارے اور مویشی پروری سے متعلق بنیادی سہولتوں کے لیے 22 قابلِ اجازت کاموں کی نشاندہی

مذکورہ ایڈوائزری میں وی بی-جی رام جی کے تحت قابلِ اجازت 375 کاموں کی فہرست میں سے 22 متعلقہ کاموں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں چارے کی کاشت اور ذخیرہ، چراگاہوں کے فروغ، مویشیوں کے لیے پناہ گاہوں کی تعمیر، ڈیری سے متعلق بنیادی سہولتوں اور جانوروں کے علاج معالجے کی سہولتوں سے جڑے کام شامل ہیں۔

اہم اقدامات کے تحت درج ذیل کام شامل ہیں:

- انفرادی دیہی کنبوں اور مقامی برادریوں کے لیے چارے کی کاشت۔

- اجتماعی طور پر چارے کے وسائل، چراگاہوں، مویشیوں کے چرنے کی زمینوں اور درختوں کے ساتھ چارے کی گھاس اگانے کے نظام کو فروغ دینا۔

- چارے کے ذخیرے کے مراکز، چارہ بینک، سائیلج یونٹ اور چارے سے متعلق دیگر قابلِ اجازت اثاثوں کی تعمیر۔

- اہل مستفیدین اور مقامی برادریوں کے لیے مویشیوں کی پناہ گاہوں کی تعمیر، مرمت اور دیکھ بھال۔ منظور شدہ فہرست کے مطابق ان میں گائے، بکری، سور اور مرغی پالنے کے لیے پناہ گاہیں بھی شامل ہیں۔

- اجتماعی دودھ جمع کرنے کے مراکز کی تعمیر اور مرمت۔

- اجتماعی ویٹرنری مراکز کی تعمیر اور مرمت۔

- مویشیوں اور دیگر جانوروں کے لیے اجتماعی پانی کے ناندوں کی تعمیر۔

- منظور شدہ فہرست میں شامل انفرادی مستفیدین کے لیے ایزولا کی کاشت کے تالابوں کی تعمیر۔

مذکورہ اقدامات کا مقصد چارے کی دستیابی کو بہتر بنانا، مویشی پروری کے لیے ضروری بنیادی سہولتوں کو مضبوط کرنا اور مویشیوں پر مبنی روزگار کو زیادہ پائیدار بنانا ہے۔ تمام کام منظور شدہ قابلِ اجازت کاموں کی فہرست اور ایکٹ، قواعد و ضوابط اور رہنما خطوط کی متعلقہ دفعات کے مطابق انجام دیے جائیں گے۔

مقامی ترجیحات کے مطابق ترقی یافتہ گرام پنچایت منصوبوں کی تیاری

اس ایڈوائزری میں نچلی سطح سے منصوبہ بندی اور پنچایتی راج اداروں کی قیادت میں کام کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے تحت چارے کی پیداوار اور مویشی پروری سے متعلق بنیادی سہولتوں کو ترقی یافتہ گرام پنچایت منصوبوں (وی جی پی پیز) میں شامل کیا جائے گا اور انہیں گرام سبھا کی منظوری سے طے شدہ مقامی ترقیاتی ترجیحات کے مطابق تیار کیا جائے گا۔

ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی اس بات کے لئےحوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ مقامی ضروریات، منظور شدہ منصوبوں اور متعلقہ رہنما خطوط کے مطابق، پروگرام کے مجموعی اخراجات میں سے چارے اور مویشی پروری سے متعلق کاموں پر خرچ ہونے والی رقم بتدریج بڑھا کر کم از کم 5 فیصد تک لے جانے کی کوشش کریں۔

اس کے علاوہ، ضروریات کی بنیاد پر ایسے اہل کنبوں اور مقامی برادریوں کی نشاندہی کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے جنہیں چارے اور مویشی پروری سے متعلق اثاثوں کی ضرورت ہے، تاکہ ان تک یہ سہولتیں پہنچائی جا سکیں۔ گرام پنچایتیں ان علاقوں پر خصوصی توجہ مرکوز کر سکتی ہیں جہاں بڑی تعداد میں لوگ مویشی پروری پر انحصار کرتے ہیں۔ اس میں ایسی گرام پنچایتیں بھی شامل ہیں جہاں مقامی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق 30 فیصد سے زیادہ آبادی کا روزگار مویشی پروری سے وابستہ ہے۔

بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل کے تحت بھارتی گھاس کے میدانوں اور چارے کی تحقیق کے ادارے (آئی سی اے آر-آئی جی ایف آر آئی) کے تیار کردہ ریاستی سطح کے چارے کے وسائل کی ترقی سے متعلق منصوبے، ضلع اور بلاک کی سطح پر منصوبہ بندی کے لیے رہنما دستاویزات کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ اس ایڈوائزری میں آب و ہوا سے متعلق تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل اقدامات پر بھی توجہ دینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ ان میں چارے کی موزوں اقسام، کئی سال تک رہنے والی گھاس اور فصلوں کے ساتھ مویشی پروری کو مربوط کرنے کے نظام شامل ہیں، بشرطیکہ یہ مقامی ضروریات سے مطابقت رکھتے ہوں اور قابلِ اجازت کاموں کی فہرست میں شامل ہوں۔

محکموں کے درمیان باہمی تعاون اور نگرانی

مذکورہ ایڈوائزری میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے کہا گیا ہے کہ وہ دیہی ترقی، مویشی پروری، زراعت اور دیگر متعلقہ شعبوں کے محکموں کے باہمی تعاون سے چارے کی دستیابی کویقینی  بنانے اور مویشی پروری کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے جامع ریاستی عملی منصوبے تیار کریں۔

اس مشترکہ طریقہ کار کا مقصد منصوبہ بندی کو بہتر بنانا، دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانا اور مقامی ضروریات کے مطابق سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، تاکہ مویشی پروری پر مبنی روزگار کو پائیدار بنایا جا سکے۔

قانونی ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد

ایڈوائزری میں ایک بار پھر اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ چارے کی پیداوار اور مویشی پروری سے متعلق تمام کام وی بی-جی رام جی ایکٹ، 2025 کی متعلقہ دفعات کے مطابق انجام دیے جانے چاہئیں۔ ان میں مقامی سطح پر اور پنچایتی راج اداروں کی قیادت میں منصوبہ بندی، سماجی آڈٹ کو لازمی بنانا، ضلع کی سطح پر مادی اخراجات کی حد 40 فیصد مقرر کرنا، شیڈول ایک کی دفعات کے مطابق انفرادی مستفیدین کا انتخاب، ہر ہفتے عوام کے لیے معلومات جاری کرنا اور شکایات کے ازالے کا نظام شامل ہیں۔

ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ منظور شدہ ایڈوائزری کو متعلقہ محکموں، پنچایتی راج اداروں اور میدانی سطح پر کام کرنے والے اہلکاروں تک پہنچانے کو یقینی بنائیں، تاکہ منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد مؤثر طریقے سے کیا جا سکے۔

اس ایڈوائزری میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ریاستی حکومتیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے باہمی تعاون سے کام کریں، تاکہ دیہی ترقی کے منصوبوں میں چارے کی دستیابی اور مویشی پروری سے متعلق بنیادی سہولتوں کو مناسب اہمیت دی جا سکے۔

وکست بھارت @2047 کے ہدف کی جانب دیہی روزگار کو مضبوط بنانا

یہ مشترکہ ایڈوائزری دیہی روزگار، قدرتی وسائل کے انتظام اور مویشی پروری کے فروغ کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ وی بی-جی رام جی کے تحت قابلِ اجازت کاموں کو مقامی سطح پر چارے اور مویشی پروری سے متعلق بنیادی سہولتوں کی ضروریات سے جوڑ کر اس پہل کا مقصد چارے کی دستیابی کو بہتر بنانا، ڈیری اور مویشی پروری کی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور دیہی کنبوں کے لیے روزگار کے مواقع کو مضبوط بنانا ہے۔

مختلف محکموں کے باہمی تعاون، مقامی سطح پر منصوبہ بندی اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے اس پہل کا مقصد ریاستوں اور پنچایتی راج اداروں کو ایسے پائیدار اثاثے بنانے میں مدد دینا ہے جو مقامی ضروریات کو پورا کریں، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل دیہی ترقی کو فروغ دیں اور وکست بھارت @2047 کے وسیع تر وژن کو حقیقت میں بدلنے میں اپنا رول ادا کریں۔

***

ش ح۔ ش م۔ ج

UNO-7255

 


(ریلیز آئی ڈی: 2332859) وزیٹر کاؤنٹر : 7